ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 58

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۵۸﴾
بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، یقینا اللہ تمھیں یہ بہت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا …:} درمیان میں کفار کے احوال اور ان کے حق میں وعید کا ذکر آگیا تھا، اب دوبارہ سلسلۂ احکام شروع ہو رہا ہے۔ یہود امانت میں خیانت کرتے اور فیصلہ میں رشوت لے کر ظلم وجور کرتے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان باتوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ یہاں امانت سے مراد گو ہر قسم کی امانت ہے، اس کا تعلق مذہب و دیانت سے ہو یا دنیاوی معاملات سے، لیکن یہود حق کو چھپا کر علمی امانت میں خیانت کے مرتکب بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ امانت میں خیانت اتنا بڑا گناہ ہے کہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے پالان اتار رہا تھا کہ اسے ایک اندھا تیر لگا جس نے اسے قتل کر دیا، لوگوں نے کہا، اسے جنت مبارک ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن غنیمتوں میں سے لی تھی، جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھیں، اس پرآگ بن کر شعلے مار رہی ہے۔ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ خیبر: ۴۲۳۴] شہادت سے اس گناہ کے معاف نہ ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کے حقوق ہیں۔ عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کے لیے ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔ [مسلم، الإمارۃ، باب من قتل فی سبیل اللہ… ۱۸۸۵] البتہ ایک حدیث میں ایک بشارت ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے اموال لے اور ان کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا کر دے گا اور جو شخص لوگوں کے اموال لے اور انھیں تلف کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تلف کرے گا۔ [بخاری، الاستقراض، باب من أخذ أموال الناس… ۲۳۸۷] اس سے معلوم ہوا کہ اگر شہید ہونے والے کا ارادہ ادائیگی کا تھا تو اگر وارث ادا نہ کریں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ادا کر دے گا، لیکن ظاہر ہے کہ خیانت والے کا تو یہ ارادہ ہوتا ہی نہیں۔ امانت میں لوگوں سے لی ہوئی امانتیں بھی شامل ہیں اور عہدوں اور مناصب کی تقسیم بھی، جب ذمہ دار شخص کو معلوم ہو کہ فلاں صاحب اس منصب کا اہل نہیں تو پھر اپنے ذاتی تعلق یا خاندانی یا کسی دنیوی مقصد کے لیے یا کوٹہ سسٹم کی وجہ سے اہل کو چھوڑ کر نااہل شخص کو وہ منصب دیا جائے تو یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ سورۂ احزاب (۷۲)، سورۂ مومنون (۸) اور سورۂ بقرہ (۲۸۳) میں بھی امانت داری کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
➋ { وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ:} قرآن مجید میں کئی مقامات پر عدل کی تاکید فرمائی، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور کسی دشمنی کی بنا پر عدل نہ کرنے سے بھی منع فرمایا۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۸)، سورۂ نحل (۹۰) اور سورۂ حجرات(۹) وہ سات خوش قسمت لوگ جنھیں روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کا سایہ ملے گا، ان میں پہلا شخص عادل حکمران ہو گا۔ [بخاری، الأذان، باب من جلس فی المسجد…: ۶۶۰]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک انصاف کرنے والے جو اپنے فیصلے میں، اپنے اہل و عیال میں اور رعایا میں انصاف کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمان عزوجل کے دائیں طرف ہوں گے اور رحمان کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ [مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل…: ۱۸۲۷، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ قاضی اور حاکم کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔ [ابن ماجہ، الأحکام، باب التغلیظ فی الحیف والرشوۃ: ۲۳۱۲،عن عبد اللہ بن أوفٰی رضی اللہ عنہ وصححہ الألبانی]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کی شان میں، جو خاندانی طور پر خانہ کعبہ کے دربان و کلید برادر چلے آرہے تھے، نازل ہوئی ہے مکہ فتح ہونے کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں تشریف لائے تو طواف کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کو جو صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوچکے تھے طلب فرمایا اور انہیں خانہ کعبہ کی چابیاں دے کر فرمایا ' یہ تمہاری چابیاں ہیں آج کا دن وفا اور نیکی کا دن ہے۔ آیت کا یہ سبب نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم عام ہے اور اس کے مخاطب عوام اور حکام دونوں ہیں۔ دونوں کو تاکید ہے کہ امانتیں انہیں پہنچاؤ جو امانتوں کے اہل ہیں۔ اس میں ایک تو وہ امانتیں شامل ہیں جو کسی نہ کسی کے پاس رکھوائی ہوں۔ ان میں خیانت نہ کی جائے بلکہ باحفاظت عندالطلب لوٹا دی جائیں۔ دوسرے عہدے اور مناسب منصب اہل لوگوں کو دیئے جائیں، محض سیاسی بنیاد یا نسلی و وطنی بنیاد یا قرابت و خاندان کی بنیاد پر عہدہ منصب دینا اس آیت کے خلاف ہے۔ 58۔ 2 اس میں احکام کو بطور خاص عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے۔ حاکم جب تک ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کا ارتکاب شروع کردیتا ہے تو اللہ اسے اس کے اپنے نفس کے حوالے کردیتا ہے (سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام) 58۔ 3 یعنی امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرنا اور عدل اور انصاف مہیا کرنا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ (مسلمانو!) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو لوگ امانتوں کے حقدار [89] ہیں انہیں یہ امانتیں ادا کر دو۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف [90] سے فیصلہ کرو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
[89] اس جملہ کے بہت سے مطلب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جس کسی نے تمہارے پاس کوئی امانت رکھی ہو اسی کو اس کی امانت ادا کر دو۔ زید کی امانت بکر کے حوالے نہ کرو۔ امانت کا دوسرا مطلب ذمہ دارانہ مناصب ہیں۔ یعنی حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب انہی کے حوالے کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں۔ نا اہل، بے ایمان بد دیانت اور راشی قسم کے لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ اس لحاظ سے یہ مسلمانوں سے اجتماعی خطاب ہے کیونکہ بد کار لوگوں کی حکومت سے ساری قوم کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ امانت کا تیسرا مطلب حقوق بھی ہیں یعنی تمہارے ذمہ جو حقوق ہیں خواہ اللہ کے ہوں یا بندوں کے، سب کے حقوق بجا لاؤ۔ کسی حکومت کے استحکام کی یہ پہلی بنیاد ہے اور انہی حقوق کی عدم ادائیگی سے فساد رونما ہوتا ہے۔ [90] حکومت کے استحکام کی دوسری بنیاد عدل و انصاف ہے لہٰذا کسی قوم سے دشمنی تمہارے عدل و انصاف پر اثر انداز نہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ یہود نے صرف اسلام دشمنی کی بنا پر مشرکوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ تم دینی لحاظ سے مسلمانوں سے بہتر ہو۔ حالانکہ مسلمانوں کی پاکیزہ سیرت اور مشرکوں کے کردار میں فرق اتنا واضح تھا جو دشمنوں کو بھی نظر آ رہا تھا اور خود یہود بھی اس حقیقت حال سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انصاف سے فیصلہ کرنا اور انصاف کی بات کہنا بہت بلند درجہ کا عمل ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے:
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک ہوں گے، رحمٰن عز و جل کے دائیں نور کے منبروں میں ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ جو اپنے فیصلہ کے وقت اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔“ [مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الامير العادل]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا اور یہ ایسا دن ہو گا جب اور کسی جگہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اس میں سر فہرست آپ نے امام عادل یعنی انصاف کرنے والے حاکم کا ذکر فرمایا۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے جوانی میں خوشدلی سے اللہ کی عبادت کی۔ تیسرے وہ شخص جس کا دل مسجد میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر دوستی کی، اسی کی خاطر اکٹھے رہے اور آخر موت نے جدا کیا۔ پانچویں وہ شخص جسے کسی مالدار اور حسن و جمال والی عورت نے بد کاری کے لیے بلایا تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا، بائیں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں۔
[بخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوۃ]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امانت اور عدل و انصاف ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’ جو تیرے ساتھ امانت داری کا برتاؤ کرے تو اس کی امانت ادا کر اور جو تیرے ساتھ خیانت کرے تو اس سے خیانت مت کر۔ ‘ ۱؎ [سنن ابوداود:3535،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ آیت کے الفاظ وسیع المعنی ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ عزوجل کے حقوق کی ادائیگی بھی شامل ہے جیسے روزہ نماز زکوٰۃ کفارہ نذر وغیرہ، اور بندوں کے آپس کے کل حقوق بھی شامل ہیں جیسے امانت دی ہوئی چیزیں وغیرہ، پس جس حق کو ادا نہ کرے گا اسکی پکڑ قیامت کے دن ہوگی۔
صحیح حدیث میں ہے ’ قیامت کےدن ہر حقدار کا حق اسے دلوایا جائے گا یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں والی بکری نے مارا ہے تو اس کا بدلہ بھی اسے دلوایا جائے گا۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2582]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شہادت کی وجہ سے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں مگر امانت نہیں مٹنے لگی کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تو اسے بھی قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کر وہ جواب دے گا کہ دنیا تو اب ہے نہیں میں کہاں سے اسے ادا کروں؟ فرماتے ہیں پھر وہ چیز اسے جہنم کی تہہ میں نظر آئے گی اور کہا جائے گا کہ جا اسے لے آ وہ اسے اپنے کندھے پر لاد کر لے چلے گا لیکن وہ گر پڑے گی وہ پھر اسے لینے جائے گا بس اسی عذاب میں وہ مبتلا رہے گا زاذان اس روایت کو سن کر سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میرے بھائی نے سچ کہا پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں ہر نیک و بد پر یہی حکم ہے،
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس چیز کا حکم دیا گیا اور جس چیز سے منع کیا گیا وہ سب امانت ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عورت اپنی شرمگاہ کی امانت دار ہے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو جو معاملات تیرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ہوں وہ سب اسی میں شامل ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ سلطان عید والے دن عورتوں کو خطبہ سنائے۔
اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اطمینان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں آئے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا۔ حجر اسود کو اپنی لکڑی سے چھوتے تھے اس کے بعد سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما کو جو کعبہ کی کنجی برادر تھے بلایا ان سے کنجی طلب کی انہوں نے دینا چاہی اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب یہ مجھے سونپئے تاکہ میرے گھرانے میں زمزم کا پانی پلانا اور کعبہ کی کنجی رکھنا دونوں ہی باتیں رہیں یہ سنتے ہی سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ طلب کی پھر وہی واقعہ ہوا آپ نے سہ بارہ طلب کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر دے دی کہ اللہ کی امانت آپ کو دیتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا دروازہ کھول اندر گئے وہاں جتنے بت اور تصویریں تھیں سب توڑ کر پھینک دیں ابراہیم علیہ السلام کا بت بھی تھا جس کے ہاتھ میں فال کے تیر تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ اللہ ان مشرکین کو غارت کرے بھلا خلیل اللہ کو ان تیروں سے کیا سروکار؟ ‘ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے کہا ’ کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے وہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اسی اکیلے نے شکست دی۔ ‘
پھر آپ نے ایک لمبا خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا کہ ’ جاہلیت کے تمام جھگڑے اب میرے پاؤں تلے کچل دئیے گئے خواہ مالی ہوں خواہ جانی ہوں ہاں بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب جوں کا توں باقی رہے گا ‘ اس خطبہ کو پورا کر کے آپ بیٹھے ہی تھے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر کہا حضور چابی مجھے عنایت فرمائی جائے تاکہ بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا منصب دونوں یکجا ہو جائیں لیکن آپ نے انہیں نہ دی
مقام ابراہیم کو کعبہ کے اندر سے نکال کر آپ نے کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھ دیا اور لوگوں سے کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے پھر آپ طواف میں مشغول ہو گئے ابھی وہ چند پھیرے ہی پھرے تھے جو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ نے اپنی زبان مبارک سے اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے تو اس سے پہلے آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے نہیں سنا اب آپ نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما کو بلایا اور انہیں کنجی سونپ دی اور فرمایا ’ آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہے۔ ‘ ۱؎ [سیرہ ابن ھشام:42/4:حسن]‏‏‏‏
یہ وہی سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما ہیں جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آرہی ہے۔ یہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان اسلام لائے جب ہی سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بھی مسلمان ہوئے تھے ان کا چچا عثمان بن طلحہ احمد کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ تھا بلکہ ان کا جھنڈا بردار تھا اور وہیں بحالت کفر مارا گیا تھا۔
الغرض مشہور تو یہی ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں اتری ہے اب خواہ اس بارے میں نازل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو بہرصورت اس کا حکم عام ہے جیسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ہر شخص کو دوسرے کی امانت کی ادائیگی کا حکم ہے پھر ارشاد ہے کہ فیصلے عدل کے ساتھ کرو حاکموں کو احکم الحاکمین کا حکم ہو رہا ہے کہ کسی حالت میں عدل کا دامن نہ چھوڑو، حدیث میں ہے ’ اللہ حاکم کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے جب ظلم کرتا ہے تو اسے اسی کی طرف سونپ دیتا ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:1330،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ایک اثر میں ہے { ایک دن کا عدل چالیس سال کی عبادت کے برابر ہے۔}
پھر فرماتا ہے یہ ادائیگی امانات کا اور عدل و انصاف کا حکم اور اسی طرح شریعت کے تمام احکام اور تمام ممنوعات تمہارے لیے بہترین اور نافع چیزیں ہیں جن کا امر پروردگار نے تمہیں کردیا ہے (‏‏‏‏ابن ابی حاتم) اور روایت میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے آخری الفاظ پڑھتے ہوئے اپنا انگوٹھا اپنے کان میں رکھا اور شہادت کی انگلی اپنی آنکھ پر رکھی (‏‏‏‏یعنی اشارے سے سننا دیکھنا کان اور آنکھ پر انگلی رکھ کر بتایا) فرمایا میں نے اسی طرح پڑھتے اور کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔
راوی حدیث ابو زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے استاد مقری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح پڑھ کر اشارہ کر کے ہمیں بتایا اپنے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا اپنی دائیں آنکھ پر رکھا اور اس کے پاس کی انگلی اپنے داہنے کان پر رکھی [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ یہ حدیث اسی طرح امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی روایت کی ہے ۱؎ [سنن ابوداود:4728،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اور امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اسے نقل کیا ہے۔ اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے وارد کیا ہے، اس کی سند میں جو ابو یونس ہیں جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مولی ہیں اور ان کا نام سلیم بن جیر رحمہ اللہ ہے۔