ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 17

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾
توبہ (جس کا قبول کرنا) اللہ کے ذمے (ہے) صرف ان لوگوں کی ہے جو جہالت سے برائی کرتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں، تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ پھر مہربان ہو جاتا ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے
En
اللہ تعالیٰ صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی برائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آ جائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ قبول کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑے علم واﻻ حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ {اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ:} یہاں { عَلَى اللّٰهِ } کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمے لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی)
➋ { بِجَهَالَةٍ } یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کر بھی لیتے ہیں تو { مِنْ قَرِيْبٍ } یعنی جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالت سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ و دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں { بِجَهَالَةٍ } کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یہاں جہالت سے مراد بے خبری اور نا واقفیت نہیں بلکہ بے وقوفی اور سفاہت ہے، کیونکہ ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بے پروا ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے، اگر وہ اس کا انجام پوری طرح اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کر سکے۔ {مِنْ قَرِيْبٍ} کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہو جاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اللہ تعالیٰ پر قبولیت توبہ کا حق صرف ایسے لوگوں کے لیے ہے جو نا دانستہ جب کوئی برا کام کر بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ اللہ ایسے ہی لوگوں کی توبہ [30] قبول کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
[30] توبہ کس کی قبول ہے اور کس کی نہیں:۔
گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کے لیے دو باتوں کی قید لگا دی۔ ایک تو یہ کہ وہ گناہ از راہ نادانی، جہالت یا نا دانستہ طور پر سرزد ہوا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اس قصور وار کو بعد میں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہو یعنی گناہ بھی دانستہ طور پر اور اللہ کے احکام پر دلیر ہو کر کیا گیا ہو یا گناہ تو نا دانستہ واقع ہوا ہو مگر توبہ میں عمداً تاخیر کرتا جائے تو ایسی صورتوں میں توبہ کے قبول ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عالم نزع سے پہلے توبہ؟ ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کر لیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آ جائے۔ ۱؎ ؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8]‏‏‏‏
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:89/8]‏‏‏‏
قتادہ رحمہ اللہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
توبہ جلدی کر لینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہیئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو، ۱؎ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر ایوب رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا: وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ۱؎ [طیالسی:2284:ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی رضی اللہ عنہم جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کر لے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، تیسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ کہا ہاں میں نے خود سنا ہے، کہا میں نے سنا ہے کہ اگر ایک پہر پہلے توبہ نصیب ہو جائے تو وہ بھی قبول ہوتی ہے، چوتھے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں، اس نے کہا میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آ جائے توبہ کے دروازے اس کے لیے بھی کھلے رہتے ہیں، ۱؎ [مسند احمد:3/:425:ضعیف]‏‏‏‏
ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے ۱؎، [مسند بزار:3243:ضعیف]‏‏‏‏
کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8858]‏‏‏‏
ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/29:حسن]‏‏‏‏
پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیات کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے، توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے مایوس ہو جائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ» * «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85]‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کر لینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے «يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا» ۱؎ [6-الأنعام:158]‏‏‏‏ الخ مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا، نہ اس کا ایمان۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہیئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندیکی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑ جائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ۱؎ [مسند احمد:5/174:ضعیف]‏‏‏‏
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (۲) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کر لینا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿ بِجَهَالَةٍ یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔۔۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔
﴿ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَ٘رِیْبٍ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کر لیتاہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَؔكَهُ الْ٘غَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (یونس: 10؍90) یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ فَلَمَّا رَاَوْا بَ٘اْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَؔكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ۰۰ فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَ٘اْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْ٘كٰفِرُوْنَ (المومن:40؍84،85) جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انھوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنھیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّؔیِّاٰتِ ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْ٘مَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْ٘ـٰٔنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَهُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابً٘ا اَلِیْمًا یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنْ قَ٘رِیْبٍ میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے۔۔۔ تب آیت کا معنیٰ یہ ہو گا جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کیے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزا کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی: ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا اللہ علم اور حکمت والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہو گا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

توبة الله على عباده نوعان: توفيقٌ منه للتوبة، وقبول لها بعد وجودها من العبد. فأخبر هنا أن التوبة المستحقَّة على الله حقًّا أَحقَّه على نفسه كرماً منه وجوداً لمن عمل السوء؛ أي: المعاصي {بجهالة}؛ أي: جهالة منه لعاقبتها وإيجابها لسخط الله وعقابه، وجهل منه لنظر الله ومراقبته له، وجهل منه بما تؤول إليه من نقص الإيمان أو إعدامه؛ فكل عاصٍ لله فهو جاهل بهذا الاعتبار وإن كان عالماً بالتحريم، بل العلم بالتحريم شرطٌ لكونها معصيةً معاقَب عليها. {ثم يتوبون من قريبٍ}: يُحتمل أن يكونَ المعنى: ثمَّ يتوبون قبل معاينة الموت؛ فإن الله يقبل توبة العبد إذا تاب قبل معاينة الموت والعذاب قطعاً، وأما بعد حضور الموت؛ فلا يُقْبَلُ من العاصين توبةٌ ولا من الكفار رجوعٌ؛ كما قال تعالى عن فرعون: {فلمَّا أدركَه الغرقُ قال آمنتُ أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل وأنا من المسلمين ... } الآية، وقال تعالى: {فلما رأوا بأسنا قالوا آمنّا بالله وحده وكفرنا بما كنّا به مشركين. فلم يكن ينفعُهم إيمانُهم لمَّا رأوا بأسنا سنةَ الله التي قد خلتْ في عبادِهِ}، وقال هنا: {وليست التوبة للذين يعملون السيئات}؛ أي: المعاصي فيما دون الكفر. {حتى إذا حضر أحدهم الموت قال إني تبت الآن ولا الذين يموتون وهم كفار أولئك أعتدنا لهم عذاباً أليماً}، وذلك أن التوبة في هذه الحال توبةُ اضطرارٍ لا تنفع صاحِبَها، إنما تنفع توبةُ الاختيار.

ويُحتمل أن يكون معنى قوله: {من قريبٍ}؛ أي: قريب من فعلهم للذنب الموجب للتوبة، فيكون المعنى: أنَّ مَن بادر إلى الإقلاع من حين صدور الذنب وأناب إلى الله وندم عليه؛ فإنَّ الله يتوبُ عليه؛ بخلاف من استمرَّ على ذنبه - وأصرَّ على عيوبه حتى صارت فيه صفات راسخة؛ فإنه يَعْسُرُ عليه إيجاد التوبة التامة، والغالب أنه لا يوفَّق للتوبة ولا ييسَّر لأسبابها؛ كالذي يعمل السوء على علم قائم ويقين متهاون بنظر الله إليه؛ فإنه يسدُّ على نفسه باب الرحمة. نعم؛ قد يوفِّق اللهُ عبده المصرَّ على الذنوب عن عمد ويقينٍ للتوبة النافعة التي يمحو بها ما سَلَفَ من سيئاته وما تقدَّم من جناياتِهِ، ولكنَّ الرحمة والتوفيق للأول أقرب، ولهذا ختم الآية الأولى بقوله: {وكان الله عليماً حكيماً}؛ فمن علمِهِ أنه يعلم صادقَ التوبة وكاذبَها، فيجازي كلاًّ منهما بحسب ما استحقَّ بحكمتِهِ، ومن حكمته أن يوفِّق من اقتضت حكمتُهُ ورحمتُهُ توفيقَه للتوبة، ويخذلَ من اقتضت حكمتُهُ وعدلُهُ عدم توفيقه. والله أعلم.