تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ”بِجَهَالَةٍ“ } یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کر بھی لیتے ہیں تو { ”مِنْ قَرِيْبٍ“ } یعنی جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالت سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ و دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں { ”بِجَهَالَةٍ“ } کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یہاں جہالت سے مراد بے خبری اور نا واقفیت نہیں بلکہ بے وقوفی اور سفاہت ہے، کیونکہ ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بے پروا ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے، اگر وہ اس کا انجام پوری طرح اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کر سکے۔ {”مِنْ قَرِيْبٍ“} کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہو جاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قتادہ رحمہ اللہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
توبہ جلدی کر لینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے، عالم سکرات کے قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہیئے، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے متعلق حدیثیں سنئیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو“، ۱؎ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن]
جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر ایوب رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا: وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ۱؎ [طیالسی:2284:ضعیف]
ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے ۱؎، [مسند بزار:3243:ضعیف]
کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:8858]
ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/29:حسن]
ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
توبة الله على عباده نوعان: توفيقٌ منه للتوبة، وقبول لها بعد وجودها من العبد. فأخبر هنا أن التوبة المستحقَّة على الله حقًّا أَحقَّه على نفسه كرماً منه وجوداً لمن عمل السوء؛ أي: المعاصي {بجهالة}؛ أي: جهالة منه لعاقبتها وإيجابها لسخط الله وعقابه، وجهل منه لنظر الله ومراقبته له، وجهل منه بما تؤول إليه من نقص الإيمان أو إعدامه؛ فكل عاصٍ لله فهو جاهل بهذا الاعتبار وإن كان عالماً بالتحريم، بل العلم بالتحريم شرطٌ لكونها معصيةً معاقَب عليها. {ثم يتوبون من قريبٍ}: يُحتمل أن يكونَ المعنى: ثمَّ يتوبون قبل معاينة الموت؛ فإن الله يقبل توبة العبد إذا تاب قبل معاينة الموت والعذاب قطعاً، وأما بعد حضور الموت؛ فلا يُقْبَلُ من العاصين توبةٌ ولا من الكفار رجوعٌ؛ كما قال تعالى عن فرعون: {فلمَّا أدركَه الغرقُ قال آمنتُ أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل وأنا من المسلمين ... } الآية، وقال تعالى: {فلما رأوا بأسنا قالوا آمنّا بالله وحده وكفرنا بما كنّا به مشركين. فلم يكن ينفعُهم إيمانُهم لمَّا رأوا بأسنا سنةَ الله التي قد خلتْ في عبادِهِ}، وقال هنا: {وليست التوبة للذين يعملون السيئات}؛ أي: المعاصي فيما دون الكفر. {حتى إذا حضر أحدهم الموت قال إني تبت الآن ولا الذين يموتون وهم كفار أولئك أعتدنا لهم عذاباً أليماً}، وذلك أن التوبة في هذه الحال توبةُ اضطرارٍ لا تنفع صاحِبَها، إنما تنفع توبةُ الاختيار.
ويُحتمل أن يكون معنى قوله: {من قريبٍ}؛ أي: قريب من فعلهم للذنب الموجب للتوبة، فيكون المعنى: أنَّ مَن بادر إلى الإقلاع من حين صدور الذنب وأناب إلى الله وندم عليه؛ فإنَّ الله يتوبُ عليه؛ بخلاف من استمرَّ على ذنبه - وأصرَّ على عيوبه حتى صارت فيه صفات راسخة؛ فإنه يَعْسُرُ عليه إيجاد التوبة التامة، والغالب أنه لا يوفَّق للتوبة ولا ييسَّر لأسبابها؛ كالذي يعمل السوء على علم قائم ويقين متهاون بنظر الله إليه؛ فإنه يسدُّ على نفسه باب الرحمة. نعم؛ قد يوفِّق اللهُ عبده المصرَّ على الذنوب عن عمد ويقينٍ للتوبة النافعة التي يمحو بها ما سَلَفَ من سيئاته وما تقدَّم من جناياتِهِ، ولكنَّ الرحمة والتوفيق للأول أقرب، ولهذا ختم الآية الأولى بقوله: {وكان الله عليماً حكيماً}؛ فمن علمِهِ أنه يعلم صادقَ التوبة وكاذبَها، فيجازي كلاًّ منهما بحسب ما استحقَّ بحكمتِهِ، ومن حكمته أن يوفِّق من اقتضت حكمتُهُ ورحمتُهُ توفيقَه للتوبة، ويخذلَ من اقتضت حكمتُهُ وعدلُهُ عدم توفيقه. والله أعلم.