تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، کتاب الحدود۔ باب حد الزنا]
پھر اس حکم کے بعد زانی مرد اور عورت کے لیے سورۃ نور میں سزا تجویز فرمائی۔ یہ بحث تفصیل سے سورۃ نور میں ہی آئے گی۔ مندرجہ بالا آیات میں بعض لوگوں نے والٰتی سے مراد مرد اور عورت نہیں بلکہ دونوں عورتیں ہی لی ہیں، جو آپس میں چپٹی بازی کر کے (جسے عربی میں سحق کہتے ہیں) کام چلا لیتی ہیں۔ ایسی دونوں عورتوں کے لیے سزا حبس دوام ہے۔ یعنی گھر میں ہی ایسی عورتوں کی کڑی نگہداشت رکھی جائے۔ اور یہ حد نہیں بلکہ تعزیر ہے لیکن یہ مراد کچھ درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جو سزا تجویز فرمائی وہ مرد اور عورت کے لیے سزا تھی۔ خواہ وہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ، ہر ایک کے لیے علیحدہ سزا مقرر ہوئی، جیسا کہ مندرجہ بالا عبادہ بن صامتؓ کی حدیث سے واضح ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اگر عورتیں ہی آپس میں چپٹی بازی کریں تو انہیں ان کے ولی ایسی سزا دے سکتے ہیں۔ اسی طرح ﴿والَّذَانِ﴾ سے مراد اغلام یا لواطت لی گئی ہے یعنی ایسی بد فعلی جو دو مرد آپس میں کرتے ہیں۔ اور ان پر بھی حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور وہ تعزیر یہ ہے کہ انہیں جوتے مارے جائیں۔ لواطت کی حد کے بارے میں ترمذی، ابواب الحدود میں ابن عباسؓ سے ایک روایت مرفوعاً مروی ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دیا جائے لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔ پھر ائمہ ایسے جوڑے کے رجم کے قائل ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان کی سزا زانی جیسی ہے۔ اگر شادی شدہ ہے تو رجم ورنہ کوڑے پڑیں گے۔ زنا ہو یا اغلام یا چپٹی بازی ہو یا محض تہمت ہو۔ ان سب میں چار مردوں کی شہادت ضروری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دعویٰ میں دو دو افراد ملوث ہوتے ہیں خواہ ایک مرد اور ایک عورت ہو یا دونوں عورتیں ہوں یا دونوں مرد ہوں۔
[29] یعنی اگر وہ مار پیٹ کے دوران یا اس کے بعد اپنے کیے پر فی الواقع نادم ہوں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کر لیں تو ایسے لوگوں پر مزید ملامت کرنا درست نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سورۃ نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قید رکھنے کا حکم نہیں رہا۔ ۱؎ [بیہقی:6/162:ضعیف]
امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
عکرمہ، عطاء، حسن، عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:82/8]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} كذلك {اللذان يأتيانها}؛ أي: الفاحشة {منكم}: من الرجال والنساء. {فآذوهما}: بالقول والتوبيخ والتعيير والضرب الرادع عن هذه الفاحشة. فعلى هذا يكون الرجال إذا فعلوا الفاحشة يؤذَوْن والنساء يُحْبَسْن ويؤذين؛ فالحبس غايته للموت ، والأذية نهايتها إلى التوبة والإصلاح. ولهذا قال: {فإن تابا}؛ أي: رجعا عن الذنب الذي فعلاه وندما عليه وعزما أن لا يعودا، {وأصلحا}: العمل الدالَّ على صدق التوبة. {فأعرضوا عنهما}؛ أي: عن أذاهما. {إن الله كان تواباً رحيماً}؛ أي: كثير التوبة على المذنبين الخطائين، عظيم الرحمة والإحسان الذي من إحسانه، وفَّقهم للتوبة، وقبلها منهم، وسامحهم عن ما صدر منهم.
ويؤخذ من هاتين الآيتين أن بَيِّنة الزنا [لابُدَّ] أن تكون أربعة رجال مؤمنين، ومن باب أولى وأحرى اشتراط عدالتهم؛ لأن الله تعالى شدَّد في أمر هذه الفاحشة ستراً لعباده، حتى إنه لا يقبل فيها النساء منفردات ولا مع الرجل ولا مع دون أربعة، ولا بد من التصريح بالشهادة كما دلت على ذلك الأحاديث الصحيحة وتومئ إليه هذه الآية: لِمَا قال: {فاستشهدوا عليهن أربعة منكم}؛ لم يكتف بذلك، حتى قال: {فإن شهدوا}؛ أي: لا بدَّ من شهادة صريحة عن أمر يشاهد عِياناً من غير تعريض ولا كناية.
ويؤخذ منهما أن الأذَّية بالقول والفعل والحبس قد شرعه الله تعزيراً لجنس المعصية التي يحصل به الزجر.