ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 152

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہ کی، یہی لوگ ہیں جنھیں وہ عنقریب ان کے اجر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 152) {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ……:} مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتی ہے، لہٰذا ان کے لیے بشارت ہے۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

152۔ 1 یہ ایمانداروں کا شیوا بتایا گیا ہے کہ سب انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح مسلمان ہیں وہ کسی بھی نبی کا انکار نہیں کرتے۔ اس آیت سے بھی ایک مذہب کی نفی ہوتی ہے جس کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ اور وہ ان غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان باللہ رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگا تو اس انکار کے ساتھ ایمان باللہ غیر معتبر اور نامقبول ہے (مزید دیکھئے سورة بقرہ کی (آیت نمبر 12 کا حاشیہ)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

152۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں [201] کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے، ایسے ہی لوگوں کو اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
[201] رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت:۔
اس لیے کہ صحیح ایمان کی شرط ہی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں اور نبیوں پر ایمان لایا جائے اور ان میں تفریق نہ کی جائے۔ اور تفریق کرنے کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی پر ایمان لایا جائے، کسی پر نہ لایا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ بلحاظ درجہ نبوت سب برابر ہیں۔ اسی لحاظ سے آپ نے فرمایا کہ ”کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔“
[بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ انعام۔ باب و یونس و لوطاً و کلاً فضلنا]
رہے نبوت کے علاوہ دوسرے فضائل، تو ایک نبی پر دوسرے نبی کے ایسے فضائل کتاب و سنت میں صراحتاً مذکور ہیں اور اس لحاظ سے آپ افضل الانبیاء ہیں۔ اور ایسا صحیح ایمان لانے والوں کا ایمان ہی اللہ کے ہاں مقبول ہو گا اور ان کے اعمال کا انہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔