ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 153

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۵۳﴾
اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتارے، سو وہ تو موسیٰ سے اس سے بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے کہا ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا، تو انھیں بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑ لیا، پھر انھوں نے بچھڑے کو پکڑ لیا، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکی تھیں، تو ہم نے اس سے در گزر کیا اور ہم نے موسیٰ کو واضح غلبہ عطا کیا۔ En
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
En
آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ﻻئیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تو انہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، پس ان کے اس ﻇلم کے باعﺚ ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، لیکن ہم نے یہ بھی معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 153) ➊ {يَسْـَٔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ……:} اس آیت میں یہود کی ایک اور جہالت کا بیان ہے اور اس کا مقصد ان کی سرکشی اور طبعی ضد و عناد کو بیان کرنا ہے۔ (کبیر) ان کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا تو تھا نہیں، محض شرارت کے لیے اور لاجواب کرنے کے لیے نت نئے اعتراضات پیش کرتے رہتے۔ ان میں سے ان کی ایک فرمائش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تختیاں ملی تھیں، لہٰذا آپ بھی اﷲ تعالیٰ کے پاس سے اسی طرح کی کتاب لا کر دکھائیں، تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں اور آپ پر ایمان لائیں۔ قرآن نے اس اعتراض کے جواب میں پہلے تو ان پر ان کی گزشتہ کارستانیاں بطور الزام پیش کیں (کیونکہ اصل خاموش کرانے والا جواب الزامی ہوتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، پھر اعتراض کرو) اور پھر آیت (۱۶۳) «اِنَّاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ كَمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ» ‏‏‏‏ سے اس اعتراض کا تحقیقی جواب دیا ہے۔ (کبیر) اور یہ سلسلۂ بیان آیت (۱۷۰) تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد «يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ» سے نصاریٰ سے خطاب ہے۔ (فتح الرحمن)
➋ {فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ:} فرمایا (تمھاری اس فرمائش کے عین مطابق) موسیٰ علیہ السلام کتاب لائے تو تم نے اس سے بڑا مطالبہ پیش کر دیا، یعنی یہ کہ ہمیں واضح طور پر سامنے اﷲ تعالیٰ کا دیدار کراؤ۔ (دیکھیے بقرہ: ۵۵) پھر اس سے بھی بڑی گستاخی کی کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا، مگر ہم نے تمھیں معاف کر دیا اور تمھاری اس ضد، عناد اور جہل کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے غلبہ اور اقتدار عطا فرما دیا اور تم لوگ ان کے حکم کی مخالفت نہ کر سکے۔ اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بشارت ہے کہ آخر کار یہ ضد اور عناد رکھنے والے مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی دوسری جہالتوں کا بیان ہے۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

153۔ 1 یعنی جس طرح موسیٰ ؑ کوہ طور پر گئے اور تختیوں پر لکھی ہوئی تورات لے کر آئے، اسی طرح آپ بھی آسمان پر جا کر لکھا ہوا قرآن مجید لے کر آئیں۔ یہ مطالبہ محض عناد، حجود اور تعنت کی بنا پر تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

153۔ اہل کتاب آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمان سے ان پر کوئی نوشتہ اتار لائیں۔ ان لوگوں نے تو سیدنا موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کیا تھا۔ کہنے لگے: ”ہمیں اللہ کو (ہمارے سامنے) ظاہر دکھا دو۔“ ان کی اسی سرکشی کی وجہ [202] سے ان کو بجلی نے آلیا۔ پھر (اے اہل کتاب!) تم نے واضح [203] دلائل آجانے کے بعد بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا۔ [204] پھر ہم نے ان کا یہ قصور بھی معاف کر دیا اور ہم نے موسیٰ کو صریح غلبہ عطا کیا
[202] یہود کا ایمان لانے کے لئے نوشتہ کا مطالبہ:۔
مثل مشہور ہے ’خوئے بد را بہانہ بسیار‘ اسی مثل کے مصداق یہود مدینہ نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب آپ پر آسمان سے نازل ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے جیسا کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ ان کے اس مطالبہ کے اللہ نے مختلف مقامات پر کئی طرح سے جواب دیئے ہیں۔ الزامی بھی اور تحقیقی بھی۔ الزامی جواب یہ ہے کہ سوال کرنا اور سوال کرتے جانا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ان پر آسمان سے تورات لکھی لکھائی نازل ہوئی تھی تو کیا یہ اس پر ایمان لے آئے تھے؟
مطالبہ دیدار الٰہی:۔
انہوں نے تو اس سے بھی بڑا مطالبہ پیش کر دیا تھا جو یہ تھا کہ ہم جب تک اللہ کو نہ دیکھ لیں اور وہ بھی یہ کہے کہ واقعی یہ کتاب تورات میں نے ہی نازل کی ہے۔ اس وقت تک اے موسیٰ ہم تمہارا کیسے اعتبار کریں۔ اگرچہ ان کا ہر مطالبہ انتہائی سرکشی پر مبنی تھا۔ تاہم موسیٰؑ انہیں کوہ طور کے دامن میں لے گئے۔ بھلا اللہ تعالیٰ کی جس تجلی کو خود سیدنا موسیٰؑ بھی نہ سہار سکے تھے اور بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے یہ لوگ بھلا کیسے سہار سکتے تھے؟ چنانچہ جب بجلی کی صورت میں تجلیات ان پر پڑیں، تو سب کے سب مر گئے۔ پھر سیدنا موسیٰؑ کی دعا سے زندہ ہوئے اور یہ واقعہ تفصیل سے سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ لہٰذا اب پھر اگر ان کی خواہش کے مطابق اتارا جائے تو یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کر چکے ہیں۔
[203] معجزات موسیٰ:۔
یہ واضح دلائل یہ تھے۔ عصائے موسیٰ، ید بیضاء آل فرعون پر چچڑیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کا عذاب، جو سیدنا موسیٰؑ کی دعا سے دور کر دیا جاتا مگر پھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ جادوگروں کے مقابلہ میں سیدنا موسیٰ کی نمایاں کامیابی اور جادوگروں کا ایمان لانا، دریا کا پھٹنا اور اس میں فرعون اور آل فرعون کا غرق ہونا، اور بنی اسرائیل کا فرعونیوں سے نجات پانا وغیرہ۔ غرض ایسے دلائل یا معجزات بے شمار تھے۔ انہیں دیکھ کر بھی جو لوگ کماحقہ، ایمان نہ لائے تھے۔ اگر آپ پر کتاب اتار بھی دی جائے تو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟
[204] گؤ سالہ پرستی:۔
تم اس قدر ظالم لوگ تھے کہ تم نے یہ نہ سمجھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہوتا رہا بلکہ تم میں سے اکثر نے یہی سمجھا کہ ہماری یہ نجات گؤ سالہ پرستی کی وجہ سے ہوئی ہے لہٰذا تم نے پھر سے گؤ سالہ پرستی شروع کر دی۔ اور جب کسی بچھڑے کا نصب شدہ بت نہ ملا تو تم نے خود ہی بچھڑے کا بت بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی۔ یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔
یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہجب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔
پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔
جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:55]‏‏‏‏ یعنی ’ جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ ‘
پھر فرماتا ہے کہ بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا موسیٰعلیہ السلام کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا۔
لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ’ ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ ‘ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا

اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔
ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حطتہ» کہیں یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سزا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے۔‏‏‏‏ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور «حنطتہ فی شعرۃ» کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے۔
پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» ۱؎ [7-الأعراف:163]‏‏‏‏،
ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101]‏‏‏‏، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اہل کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔
﴿قُ٘لْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بني إسرائیل: 17؍93) کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔
اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْ٘قُ٘رْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا۰۰وَلَا یَ٘اْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا۰۰ (الفرقان: 25؍32۔33) اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں۔
جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔
مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔
عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔
اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔
بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔
ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔
ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔
ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔
ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔
پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔
باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔
اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا السؤال الصادر من أهل الكتاب للرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - على وجه العناد والاقتراح وجَعْلِهم هذا السؤال يتوقَّف عليه تصديقُهم أو تكذيبُهم، وهو أنَّهم سألوه أن ينزِلَ عليهم القرآن جملةً واحدةً كما نزلتِ التوراة والإنجيل، وهذا غاية الظُّلم منهم [والجهل]؛ فإن الرسول بشرٌ عبدٌ مدبَّرٌ ليس في يده من الأمر شيءٌ، بل الأمر كلُّه لله، وهو الذي يرسل وينزل ما يشاء على عباده؛ كما قال تعالى عن الرسول لما ذَكَرَ الآيات التي فيها اقتراح المشركين على محمد: {قُلْ سبحان ربِّي هل كنتُ إلا بشراً رسولاً}؛ وكذلك جعلهم الفارق بين الحقِّ والباطل مجرَّد إنزال الكتاب جملةً أو مفرقاً مجرَّد دعوى لا دليل عليها، ولا مناسبة بل ولا شُبهة؛ فمن أين يوجد في نبوَّة أحد من الأنبياء أنَّ الرسول الذي يأتيكم بكتابٍ نزل مفرَّقاً؛ فلا تؤمنوا به ولا تصدِّقوه؟! بل نزول هذا القرآن مفرَّقاً بحسب الأحوال مما يَدُلُّ على عظمتِهِ واعتناء الله بمن أُنْزِل عليه؛ كما قال تعالى: {وقال الذين كفروا لولا نُزِّلَ عليه القرآن جملةً واحدةً كذلك لِنُثَبِّتَ به فؤادك ورتَّلْناه ترتيلاً. ولا يأتونَكَ بَمَثل إلاَّ جئناك بالحقِّ وأحسنَ تفسيراً}.

فلمَّا ذكر اعتراضهم الفاسد؛ أخبر أنه ليس بغريب من أمرهم، بل سبق لهم من المقدِّمات القبيحة ما هو أعظم مما سلكوا مع الرسول الذي يزعمون أنهم آمنوا به؛ من سؤالهم له رؤية الله عياناً، واتِّخاذهم العجلَ إلهاً يعبُدونه من بعدما رأوا من الآيات بأبصارهم ما لم يَرَه غيرهم، ومن امتناعهم من قبول أحكام كتابهم، وهو التوراة حتى رفع الطُّور من فوق رؤوسهم، وهُدِّدوا أنهم إن لم يؤمنوا أسقط عليهم فقبلوا ذلك على وجه الإغماض والإيمان الشبيه بالإيمان الضروريِّ، ومن امتناعهم من دخول أبواب القرية التي أمروا بدخولها سجَّداً مستغفرين فخالفوا القول والفعل، ومن اعتداء من اعتدى منهم في السبت فعاقبهم الله تلك العقوبة الشنيعة، وبأخذ الميثاق الغليظ عليهم فنبذوه وراء ظهورِهم وكفروا بآيات الله وقتلوا رسلَه بغير حقٍّ، ومن قولهم: إنَّهم قتلوا المسيح عيسى وصلبوه، والحالُ أنَّهم ما قتلوه وما صلبوه بل شُبِّه لهم غيره. فقتلوا غيره وصَلَبوه، وادِّعائهم أنَّ قلوبهم غلفٌ لا تفقه ما تقول لهم ولا تفهمه، وبصدِّهم الناس عن سبيل الله فصدُّوهم عن الحقِّ، ودعَوْهم إلى ما هم عليه من الضلال والغيِّ، وبأخذِهم السُّحت والرِّبا مع نهي الله لهم عنه والتشديد فيه؛ فالذين فعلوا هذه الأفاعيل لا يُستنكر عليهم أن يسألوا الرسول محمداً أن ينزِّل عليهم كتاباً من السماء.

وهذه الطريقة من أحسن الطُّرق لمحاجَّة الخصم المبطل، وهو أنَّه إذا صدر منه من الاعتراض الباطل ما جعله شبهةً له ولغيره في ردِّ الحق أن يبيَّن من حاله الخبيثة وأفعاله الشنيعة ما هو من أقبح ما صدر منه؛ ليعلم كلُّ أحدٍ أنَّ هذا الاعتراض من ذلك الوادي الخسيس، وأنَّ له مقدماتٍ يجعل هذا معها. وكذلك كل اعتراض يعترضون به على نبوَّة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - يمكنُ أن يقابَلَ بمثلِهِ أو ما هو أقوى منه في نبوَّة من يدَّعون إيمانهم به؛ ليكتفي بذلك شرّهم وينقمع باطلهم، وكل حجَّة سلكوها في تقريرهم لنبوَّة من آمنوا به؛ فإنها ونظيرها وما هو أقوى منها دالَّة ومقرِّرة لنبوَّة محمد - صلى الله عليه وسلم -.

ولما كان المراد من تعديد ما عدَّد الله من قبائحهم هذه المقابلة؛ لم يبسطْها في هذا الموضع، بل أشار إليها وأحال على مواضعها، وقد بسطها في غير هذا الموضع في المحلِّ اللائق ببسطها.