تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ:} فرمایا (تمھاری اس فرمائش کے عین مطابق) موسیٰ علیہ السلام کتاب لائے تو تم نے اس سے بڑا مطالبہ پیش کر دیا، یعنی یہ کہ ہمیں واضح طور پر سامنے اﷲ تعالیٰ کا دیدار کراؤ۔ (دیکھیے بقرہ: ۵۵) پھر اس سے بھی بڑی گستاخی کی کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا، مگر ہم نے تمھیں معاف کر دیا اور تمھاری اس ضد، عناد اور جہل کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے غلبہ اور اقتدار عطا فرما دیا اور تم لوگ ان کے حکم کی مخالفت نہ کر سکے۔ اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بشارت ہے کہ آخر کار یہ ضد اور عناد رکھنے والے مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی دوسری جہالتوں کا بیان ہے۔ (کبیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہ“جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ”
پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔
جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:55] یعنی ’ جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ ‘
لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ’ ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ ‘ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا
اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔
پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» ۱؎ [7-الأعراف:163]،
ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101]، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا السؤال الصادر من أهل الكتاب للرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - على وجه العناد والاقتراح وجَعْلِهم هذا السؤال يتوقَّف عليه تصديقُهم أو تكذيبُهم، وهو أنَّهم سألوه أن ينزِلَ عليهم القرآن جملةً واحدةً كما نزلتِ التوراة والإنجيل، وهذا غاية الظُّلم منهم [والجهل]؛ فإن الرسول بشرٌ عبدٌ مدبَّرٌ ليس في يده من الأمر شيءٌ، بل الأمر كلُّه لله، وهو الذي يرسل وينزل ما يشاء على عباده؛ كما قال تعالى عن الرسول لما ذَكَرَ الآيات التي فيها اقتراح المشركين على محمد: {قُلْ سبحان ربِّي هل كنتُ إلا بشراً رسولاً}؛ وكذلك جعلهم الفارق بين الحقِّ والباطل مجرَّد إنزال الكتاب جملةً أو مفرقاً مجرَّد دعوى لا دليل عليها، ولا مناسبة بل ولا شُبهة؛ فمن أين يوجد في نبوَّة أحد من الأنبياء أنَّ الرسول الذي يأتيكم بكتابٍ نزل مفرَّقاً؛ فلا تؤمنوا به ولا تصدِّقوه؟! بل نزول هذا القرآن مفرَّقاً بحسب الأحوال مما يَدُلُّ على عظمتِهِ واعتناء الله بمن أُنْزِل عليه؛ كما قال تعالى: {وقال الذين كفروا لولا نُزِّلَ عليه القرآن جملةً واحدةً كذلك لِنُثَبِّتَ به فؤادك ورتَّلْناه ترتيلاً. ولا يأتونَكَ بَمَثل إلاَّ جئناك بالحقِّ وأحسنَ تفسيراً}.
فلمَّا ذكر اعتراضهم الفاسد؛ أخبر أنه ليس بغريب من أمرهم، بل سبق لهم من المقدِّمات القبيحة ما هو أعظم مما سلكوا مع الرسول الذي يزعمون أنهم آمنوا به؛ من سؤالهم له رؤية الله عياناً، واتِّخاذهم العجلَ إلهاً يعبُدونه من بعدما رأوا من الآيات بأبصارهم ما لم يَرَه غيرهم، ومن امتناعهم من قبول أحكام كتابهم، وهو التوراة حتى رفع الطُّور من فوق رؤوسهم، وهُدِّدوا أنهم إن لم يؤمنوا أسقط عليهم فقبلوا ذلك على وجه الإغماض والإيمان الشبيه بالإيمان الضروريِّ، ومن امتناعهم من دخول أبواب القرية التي أمروا بدخولها سجَّداً مستغفرين فخالفوا القول والفعل، ومن اعتداء من اعتدى منهم في السبت فعاقبهم الله تلك العقوبة الشنيعة، وبأخذ الميثاق الغليظ عليهم فنبذوه وراء ظهورِهم وكفروا بآيات الله وقتلوا رسلَه بغير حقٍّ، ومن قولهم: إنَّهم قتلوا المسيح عيسى وصلبوه، والحالُ أنَّهم ما قتلوه وما صلبوه بل شُبِّه لهم غيره. فقتلوا غيره وصَلَبوه، وادِّعائهم أنَّ قلوبهم غلفٌ لا تفقه ما تقول لهم ولا تفهمه، وبصدِّهم الناس عن سبيل الله فصدُّوهم عن الحقِّ، ودعَوْهم إلى ما هم عليه من الضلال والغيِّ، وبأخذِهم السُّحت والرِّبا مع نهي الله لهم عنه والتشديد فيه؛ فالذين فعلوا هذه الأفاعيل لا يُستنكر عليهم أن يسألوا الرسول محمداً أن ينزِّل عليهم كتاباً من السماء.
وهذه الطريقة من أحسن الطُّرق لمحاجَّة الخصم المبطل، وهو أنَّه إذا صدر منه من الاعتراض الباطل ما جعله شبهةً له ولغيره في ردِّ الحق أن يبيَّن من حاله الخبيثة وأفعاله الشنيعة ما هو من أقبح ما صدر منه؛ ليعلم كلُّ أحدٍ أنَّ هذا الاعتراض من ذلك الوادي الخسيس، وأنَّ له مقدماتٍ يجعل هذا معها. وكذلك كل اعتراض يعترضون به على نبوَّة محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - يمكنُ أن يقابَلَ بمثلِهِ أو ما هو أقوى منه في نبوَّة من يدَّعون إيمانهم به؛ ليكتفي بذلك شرّهم وينقمع باطلهم، وكل حجَّة سلكوها في تقريرهم لنبوَّة من آمنوا به؛ فإنها ونظيرها وما هو أقوى منها دالَّة ومقرِّرة لنبوَّة محمد - صلى الله عليه وسلم -.
ولما كان المراد من تعديد ما عدَّد الله من قبائحهم هذه المقابلة؛ لم يبسطْها في هذا الموضع، بل أشار إليها وأحال على مواضعها، وقد بسطها في غير هذا الموضع في المحلِّ اللائق ببسطها.