تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں،
پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔
جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے،
پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» ۱؎ [2-البقرة:285]
پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {أولئك هم الكافرون حقًّا}، وذلك لئلاَّ يُتَوهَّم أنَّ مرتَبَتَهم متوسطةٌ بين الإيمان والكفر. ووجه كونهم كافرين حتَّى بما زَعَموا الإيمان به؛ أنَّ كلَّ دليل دلَّهم على الإيمان بمن آمنوا به موجودٌ هو أو مثله أو ما فوقه للنبيِّ الذي كفروا به، وكلَّ شبهةٍ يزعُمون أنهم يقدحون بها في النبيِّ الذي كفروا به موجودٌ مثلها أو أعظم منها فيمن آمنوا به، فلم يبق بعد ذلك إلا التشهِّي والهوى ومجرَّد الدَّعوى التي يمكن كلُّ أحدٍ أنْ يقابلَها بمثلها. ولما ذكر أن هؤلاء هم الكافرون حَقًّا؛ ذكر عقاباً شاملاً لهم ولكل كافر، فقال: {وأعْتَدْنا للكافرين عذاباً مُهيناً}؛ كما تكبَّروا عن الإيمان بالله؛ أهانَهم بالعذاب الأليم المُخْزي. {والذين آمنوا بالله ورسلِهِ}: وهذا يتضمَّن الإيمان بكلِّ ما أخبر الله به عن نفسه وبكلِّ ما جاءت به الرسلُ من الأخبار والأحكام. ولم يفرِّقوا بين أحدٍ من رسله، بل آمنوا بهم كلِّهم؛ فهذا الإيمان الحقيقيُّ واليقين المبنيُّ على البرهان.
{أولئك سوف يؤتيهم أجورَهم}؛ أي: جزاءَ إيمانِهِم وما ترتَّب عليه من عمل صالح وقول حسن وخُلُق جميل؛ كلٌّ على حَسَبِ حاله، ولعلَّ هذا هو السرُّ في إضافة الأجور إليهم. {وكان الله غفوراً رحيماً}: يغِفرُ السيِّئات، ويتقبَّل الحسنات.