ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 151

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾
یہی لوگ حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ En
وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
En
یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 151) {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا:} یعنی ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ {حَقًّا} مصدر محذوف کی تاکید ہے۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

151۔ 1 اہل کتاب کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ وہ بعض نبیوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں۔ جیسے یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ و حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسایؤں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان تفریق کرنے والے یہ پکے کافر ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

151۔ ایسے ہی لوگ پکے کافر [200] ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے
[200] یعنی یہ تیسرا گروہ بھی ایسے ہی پکا کافر ہے جیسے پہلے دو طرح کے لوگ پکے کافر ہیں ان میں کوئی فرق نہیں اور پکا کافر ہونے میں سب یکساں ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔
مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔
اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں،
پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔
جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے،
پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» ۱؎ [2-البقرة:285]‏‏‏‏
پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْ٘كٰفِرُوْنَ حَقًّا وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعْتَدْنَا لِلْ٘كٰفِرِیْنَ عَذَابً٘ا مُّهِیْنًا اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔
﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمْ یُفَرِّؔقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّؔنْهُمْ اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا۔ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَ٘فُوْرًؔا رَّحِیْمًا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {أولئك هم الكافرون حقًّا}، وذلك لئلاَّ يُتَوهَّم أنَّ مرتَبَتَهم متوسطةٌ بين الإيمان والكفر. ووجه كونهم كافرين حتَّى بما زَعَموا الإيمان به؛ أنَّ كلَّ دليل دلَّهم على الإيمان بمن آمنوا به موجودٌ هو أو مثله أو ما فوقه للنبيِّ الذي كفروا به، وكلَّ شبهةٍ يزعُمون أنهم يقدحون بها في النبيِّ الذي كفروا به موجودٌ مثلها أو أعظم منها فيمن آمنوا به، فلم يبق بعد ذلك إلا التشهِّي والهوى ومجرَّد الدَّعوى التي يمكن كلُّ أحدٍ أنْ يقابلَها بمثلها. ولما ذكر أن هؤلاء هم الكافرون حَقًّا؛ ذكر عقاباً شاملاً لهم ولكل كافر، فقال: {وأعْتَدْنا للكافرين عذاباً مُهيناً}؛ كما تكبَّروا عن الإيمان بالله؛ أهانَهم بالعذاب الأليم المُخْزي. {والذين آمنوا بالله ورسلِهِ}: وهذا يتضمَّن الإيمان بكلِّ ما أخبر الله به عن نفسه وبكلِّ ما جاءت به الرسلُ من الأخبار والأحكام. ولم يفرِّقوا بين أحدٍ من رسله، بل آمنوا بهم كلِّهم؛ فهذا الإيمان الحقيقيُّ واليقين المبنيُّ على البرهان.

{أولئك سوف يؤتيهم أجورَهم}؛ أي: جزاءَ إيمانِهِم وما ترتَّب عليه من عمل صالح وقول حسن وخُلُق جميل؛ كلٌّ على حَسَبِ حاله، ولعلَّ هذا هو السرُّ في إضافة الأجور إليهم. {وكان الله غفوراً رحيماً}: يغِفرُ السيِّئات، ويتقبَّل الحسنات.