جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 138 میں تا آیت 140 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
139۔ 1 جس طرح سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ منافقین کافروں کے پاس جا کر یہی کہتے تھے کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ہی ساتھ ہیں، مسلمانوں سے تو ہم یونہی استہزاء کرتے ہیں۔ 139۔ 2 یعنی عزت کافروں کے ساتھ موالات و محبت سے نہیں ملے گی، کیونکہ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ عزت اپنے ماننے والوں کو ہی عطا فرماتا ہے، دوسرے مقام پر پھر فرمایا، جو عزت کا طالب ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اور مومنین کے لئے ہے، لیکن منافق نہیں جانتے۔ " یعنی وہ نفاق کے ذریعے سے اور کافروں سے دوستی کے ذریعے سے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ درآنحالیکہ یہ طریقہ ذلت و خواری کا ہے عزت کا نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
139۔ جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست [185] بناتے ہیں تو کیا یہ لوگ کافروں کے ہاں عزت چاہتے ہیں حالانکہ عزت تو سب اللہ ہی کے لیے ہے
[185] کافروں سے دوستی منافق کی مثال اور کردار:۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنانا یا سمجھنا منافقت کی واضح علامت ہے۔ یہ لوگ کافروں کے ساتھ میل جول رکھ کر ان کے نزدیک مقبول بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے ’دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا‘ والی بات بن جاتی ہے ایسے منافق، مسلمانوں کی نظروں سے بھی گر جاتے ہیں اور کافروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہی رہتے ہیں اور ہر جگہ سے اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور جو شخص ہر حال میں ایک ہی گروہ سے منسلک رہے وہ دشمن کی نظروں میں بھی کم از کم قابل اعتماد ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلم میں اسی مضمون کی ایک حدیث بھی وارد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال بکریوں کے دو گلوں کے درمیان پھرنے والی بکری کی سی ہے جو کبھی اس گلے میں جاتی ہے اور کبھی اس گلے میں۔“ [مسلم، کتاب صفۃ المنافقین و احکامھم] یہ بات بھی قابل غور ہے کہ منافق لوگ کافروں سے میل جول اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کے ہاں وہ معتبر، مقبول اور معزز بن سکیں۔ لیکن اگر اللہ ان کافروں کو ہی، جن کے ہاں یہ عزت تلاش کر رہے ہیں ذلیل کر دے تو انہیں عزت کہاں سے ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔