تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے
آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» ۱؎ [35-فاطر:10] اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:8] ’ یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔ }
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
البشارة تستعمل في الخير، وتستعمل في الشر بقيدٍ؛ كما في هذه الآية. يقول تعالى: {بشِّر المنافقين}؛ أي: الذين أظهروا الإسلام وأبطنوا الكفر بأقبح بشارةٍ وأسوئها، وهو العذاب الأليم، وذلك بسبب محبَّتهم الكفار وموالاتهم ونصرتهم وتركهم لموالاة المؤمنين؛ فأيُّ شيءٍ حملهم على ذلك؟! أيبتغون عندهم العِزَّة؟! وهذا هو الواقع من أحوال المنافقين، ساء ظنُّهم بالله، وضَعُفَ يقينُهم بنصر الله لعبادِهِ المؤمنين، ولحظوا بعض الأسباب التي عند الكافرين، وقصر نظرُهم عما وراء ذلك، فاتَّخذوا الكافرين أولياء يتعزَّزون بهم ويستنصِرون، والحال أنَّ العزَّة لله جميعاً؛ فإنَّ نواصي العباد بيدِهِ ومشيئته نافذةٌ فيهم، وقد تكفَّل بنصر دينِهِ وعبادِهِ المؤمنين، ولو تخلَّل ذلك بعض الامتحان لعباده المؤمنين وإدالة العدوِّ عليهم إدالةً غير مستمرة؛ فإن العاقبة والاستقرار للمؤمنين.
وفي هذه الآية الترهيب العظيم من موالاة الكافرين وترك موالاة المؤمنين، وأنَّ ذلك من صفات المنافقين، وأنَّ الإيمان يقتضي محبَّة المؤمنين وموالاتهم وبُغض الكافرين وعداوَتِهم.