ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 138

بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ
منافقوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ En
(اے پیغمبر) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو بشارت سناد دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
En
منافقوں کو اس امر کی خبر پہنچا دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 139،138) {بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ …:} بشارت خوشی کی خبر کو کہتے ہیں، یہاں بطور طنز کہا ہے کہ منافقوں کو عذاب الیم کی خوش خبری دے دو، جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو اس لیے دوست بناتے ہیں کہ اس سے انھیں عزت حاصل ہو گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزت کافروں کی دوستی میں نہیں بلکہ وہ تو سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی بات سورۂ فاطر (۱۰) اور سورۂ منافقون(۸) میں بیان فرمائی، بلکہ سورۂ منافقون میں فرمایا: لیکن منافق نہیں جانتے کہ اللہ کے ہاں عزت تو کفر کی وجہ سے گئی اور کفار کے پاس عزت تھی ہی نہیں جو انھیں ملتی، اگر بظاہر کچھ تھی بھی تو ان کے دوغلے پن کی وجہ سے ان کا اعتبار بھی اٹھ گیا۔ [خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

138۔ منافق لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مژدہ سنا دیجئے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صحبت بد سے بچو ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے۔
پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے
آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» ۱؎ [35-فاطر:10]‏‏‏‏ اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:8]‏‏‏‏ ’ یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔ }
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:134/4،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بشارت کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ ﴿ بَشِّ٘رِ الْ٘مُنٰفِقِیْنَ منافقوں کو بشارت سنادو۔ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انھیں بدترین بشارت سنا دیجیے۔ اور وہ ہے دردناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کس چیز نے انھیں اس رویے پر آمادہ کیا؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں؟
یہ منافقین کے احوال تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھے۔ ان کا یقین اس بارے میں بہت کمزور تھا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرمائے گا وہ بعض ان اسباب کو دیکھ رہے تھے جو کفار کو میسر تھے اور اس سے آگے دیکھنے سے ان کی نظر قاصر تھی۔ پس انھوں نے کفار کو اپنا دوست اور ولی و مددگار بنا لیا جن سے یہ مدد طلب کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ عزت ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ تمام تر عزت کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ بندوں کی پیشانیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان میں اسی کی مشیت نافذ ہے۔ وہ اپنے دین اور اپنے مومن بندوں کی مدد کا ضامن ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی اہل ایمان کا امتحان لینے کے لیے یہ مدد چھوڑ دیتا ہے اور دشمن کو ان پر غلبہ دے دیتا ہے۔ مگر دشمن کی فتح اور کامیابی دائمی اور مستقل نہیں ہوتی۔ انجام کار، فتح اور کامیابی اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ موالات رکھنے اور اہل ایمان کے ساتھ موالات ترک کرنے پر زبردست ترہیب ہے۔ نیز بتایا گیا ہے کہ یہ منافقین کی صفات ہیں۔ ایمان تو اہل ایمان کے ساتھ محبت اور موالات اور کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

البشارة تستعمل في الخير، وتستعمل في الشر بقيدٍ؛ كما في هذه الآية. يقول تعالى: {بشِّر المنافقين}؛ أي: الذين أظهروا الإسلام وأبطنوا الكفر بأقبح بشارةٍ وأسوئها، وهو العذاب الأليم، وذلك بسبب محبَّتهم الكفار وموالاتهم ونصرتهم وتركهم لموالاة المؤمنين؛ فأيُّ شيءٍ حملهم على ذلك؟! أيبتغون عندهم العِزَّة؟! وهذا هو الواقع من أحوال المنافقين، ساء ظنُّهم بالله، وضَعُفَ يقينُهم بنصر الله لعبادِهِ المؤمنين، ولحظوا بعض الأسباب التي عند الكافرين، وقصر نظرُهم عما وراء ذلك، فاتَّخذوا الكافرين أولياء يتعزَّزون بهم ويستنصِرون، والحال أنَّ العزَّة لله جميعاً؛ فإنَّ نواصي العباد بيدِهِ ومشيئته نافذةٌ فيهم، وقد تكفَّل بنصر دينِهِ وعبادِهِ المؤمنين، ولو تخلَّل ذلك بعض الامتحان لعباده المؤمنين وإدالة العدوِّ عليهم إدالةً غير مستمرة؛ فإن العاقبة والاستقرار للمؤمنين.

وفي هذه الآية الترهيب العظيم من موالاة الكافرين وترك موالاة المؤمنين، وأنَّ ذلك من صفات المنافقين، وأنَّ الإيمان يقتضي محبَّة المؤمنين وموالاتهم وبُغض الكافرين وعداوَتِهم.