ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 137

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا کُفۡرًا لَّمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ سَبِیۡلًا ﴿۱۳۷﴾ؕ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر وہ کفر میں بڑھ گئے، اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں بخش دے اور نہ یہ کہ انھیں کسی راستے کی ہدایت دے۔ En
جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا
En
جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان ﻻکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 137) {اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا …: } ان لوگوں سے مراد منافقین ہیں جو مسلمان تو ہو گئے مگر جب کوئی فائدہ دیکھتے تو ایمان کی طرف بڑھ جاتے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی تو کافر ہو جاتے۔ یہ لوگ مشرکین اوس و خزرج میں سے بھی تھے اور یہود مدینہ سے بھی۔ اب بھی بے شمار مسلمانوں کا یہی حال ہے، فرمایا: «{ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ [الحج: ۱۱] اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔ پھر کفر میں بڑھ گئے یعنی پھر وہ کفر پر قائم رہے اور اسی پر مر گئے، کیونکہ کفر کا یہی وہ درجہ ہے جس کی بخشش نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی شخص تائب ہو جائے اور ایمان لے آئے تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ یہاں بات ان لوگوں کی ہو رہی ہے جنھوں نے ایمان قبول کیا، پھر اسے چھوڑ دیا، پھر اسے قبول کر لیا، پھر اسے چھوڑ کر گمراہی کو قبول کر لیا اور پھر گمراہی میں بڑھتے ہی گئے، حتیٰ کہ کفر کی حالت میں مر گئے، تو مرنے کے بعد ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں، اللہ انھیں معاف نہیں کرے گا، کیونکہ اس صورت حال تک پہنچنے کے بعد اس سے نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں کہ اب انھیں نکلنے کی کوئی صورت مل سکے۔ انھی لوگوں کا ذکر سورۂ آل عمران (۷۲)، سورۂ منافقون(۳) اور سورۂ نساء (۱۸) میں کیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(2) بعض مفسرین نے اس سے مراد یہود لیے ہیں۔ یہود حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے لیکن حضرت عزیر ؑ کا انکار کیا، پھر حضرت عزیر ؑ پر ایمان لائے تو حضرت عیسیٰ کا انکار کیا۔ پھر کفر میں پڑھتے چلے گئے۔ حتی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بھی انکار کیا اور بعض نے اس سے مراد منافقین لئے ہیں، چونکہ مقصد ان کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا، اس لئے وہ بار بار اپنی مسلمانی کا ڈھونگ رچاتے تھے بالآخر کفر و ضلالت میں اتنے بڑھ گئے کہ ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوگئی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے، پھر کفر کیا [184] پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ہی انہیں سیدھی راہ دکھائے گا
[184] ایمان اور فکر کی بار بار تبدیلی:۔
ان سے مراد منافقین اور مرتدین کا گروہ ہے جو ہر وقت مذبذب ہی رہتے کہ جس طرف کا پلہ بھاری نظر آئے اس میں شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ ہوا کا رخ دیکھتے، حالات کا جائزہ لے کر اپنی خواہش نفس کے پیرو کار ہوتے ہیں اور جتنی دفعہ بھی ہوا کا رخ بدلے اتنی دفعہ ہی ان کا ایمان اور کفر بدلتا رہتا ہے۔ ایسے ایمان کا چونکہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا لہٰذا ان پر کفر ہی کی چھاپ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اور کفر میں بڑھتے چلے جانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ خود تو کافر ہیں ہی دوسروں کو بھی کافر بنانے کے لیے اور اسلام کی راہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کی راہ راست پر آنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صحبت بد سے بچو ٭٭
ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے بخشے، نہ راہ راست پر لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے۔
پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے
آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا» ۱؎ [35-فاطر:10]‏‏‏‏ اورفرمایا «وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:8]‏‏‏‏ ’ یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں۔ }
مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا۔
مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:134/4،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏