تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ پہلی کتابوں پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ باقی رہا عمل! تو وہ ان پر نہیں بلکہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کیا جائے گا۔ ان کتابوں میں جو چیز کتاب و سنت کے مطابق ہو گی اس کی تصدیق کی جائے گی اور جو ان کے خلاف ہو گی اسے رد کر دیا جائے گا۔
➌ { وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ …:} یعنی اگر ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کیا تو گویا تمام چیزوں کا انکار کر دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[182] قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کتاب یا کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ فی الواقع وہ کتاب بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ مواد ان میں آج کل پایا جاتا ہے وہ سب کچھ منزل من اللہ ہے اس آیت میں اور اسی طرح دیگر متعدد آیات میں ایمان بالغیب کے پانچ اجزا کا ذکر آیا ہے جو یہ ہیں اللہ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کے فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر بن دیکھے ایمان لایا جائے۔ یعنی ان پر پختہ یقین رکھا جائے۔ ایمان بالغیب کا چھٹا جزو تقدیر پر ایمان ہے یعنی ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ عقیدہ بھی قرآن ہی کی متعدد آیات سے مستنبط ہے۔ اگرچہ اس آیت میں مذکور نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھاتا رہ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو فرمایا ہے اور آیت میں ایمانداروں سے خطاب کر کے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ پہلی کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس سے پہلے کی کتاب سے مراد تمام نبیوں پر جو جو کتابیں نازل ہوئیں سب ہیں۔
قرآن کے لیے لفظ «نزل» بولا گیا اور دیگر کتابوں کے لیے «انزل» اس لیے کہ قرآن بتدریج وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا کر کے اترا اور باقی کتابیں پوری پوری ایک ساتھ نازل ہوئیں، پھر فرمایا جو شخص اللہ جل شانہ کے ساتھ اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں کے ساتھ اس کے رسولوں کے ساتھ آخرت کے دن کے ساتھ کفر کرے وہ راہ ہدایت سے بہک گیا اور بہت دور غلط راہ پڑ گیا گمراہی میں راہ حق سے ہٹ کر راہ باطل پہ چلا گیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
اعلم أن الأمر إمّا أن يوجَّه إلى من لم يدخل في الشيء ولم يتَّصف بشيء منه؛ فهذا يكون أمراً له في الدُّخول فيه، وذلك كأمر من ليس بمؤمن بالإيمان؛ كقوله تعالى: {يا أيُّها الذين أوتوا الكتابَ آمِنوا بما نَزَّلْنا مصدِّقاً لما معكم ... } الآية، وإمّا أن يوجَّه إلى من دخل في الشيء؛ فهذا يكون أمره ليصحِّح ما وُجِدَ منه ويحصِّل ما لم يوجد، ومنه ما ذكره الله في هذه الآية من أمر المؤمنين بالإيمان؛ فإنَّ ذلك يقتضي أمرهم بما يصحِّح إيمانهم من الإخلاص والصدق وتجنُّب المفسدات والتوبة من جميع المنقصات، ويقتضي أيضاً الأمر بما لم يوجد من المؤمن من علوم الإيمان وأعماله؛ فإنَّه كلَّما وصل إليه نصٌّ وفهم معناه واعتقدَه؛ فإنَّ ذلك من الإيمان المأمور به، وكذلك سائر الأعمال الظاهرة والباطنة، كلُّها من الإيمان؛ كما دلَّت على ذلك النصوص الكثيرة وأجمع عليه سلف الأمة، ثم الاستمرار على ذلك والثَّبات عليه إلى الممات؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا اتَّقوا الله حقَّ تُقاتِهِ ولا تموتنَّ إلاَّ وأنتُم مسلمونَ}، وأمر هنا بالإيمان به وبرسله وبالقرآن وبالكتب المتقدِّمة؛ فهذا كلُّه من الإيمان الواجب الذي لا يكون العبد مؤمناً إلاَّ به، إجمالاً فيما لم يصل إليه تفصيلُه، وتفصيلاً فيما عُلِمَ من ذلك بالتفصيل؛ فمن آمن هذا الإيمان المأمور به؛ فقد اهتدى وأنجح.
ومن كفر {بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ضلَّ ضلالاً بعيداً}: وأيُّ ضلال أبعد من ضلال من تَرَكَ طريق الهدى المستقيم وسَلَكَ الطريق الموصلةَ له إلى العذاب الأليم؟! واعلم أنَّ الكفر بشيء من هذه الأمور المذكورة كالكُفر بجميعها؛ لتلازُمِها وامتناع وجود الإيمان ببعضِها دون بعض.