ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 136

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۳۶﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور یوم آخرت (کے ساتھ) کفر کرے تو یقینا وہ گمراہ ہوا، بہت دور گمراہ ہونا۔ En
مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنی پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ۔ اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روزقیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 136) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ …: } یہاں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دیا جا رہا ہے، یعنی ایمان پر ثابت قدم رہو، یا اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرو، اس کے مخاطب تمام مومنین ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس کے مخاطب اہل کتاب کے مومن ہیں، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔ (فتح القدیر) قرطبی لکھتے ہیں، بعض کا خیال ہے کہ یہ خطاب منافقین سے ہے، ان کے بظاہر مسلمان ہونے کی وجہ سے ایمان والے فرما دیا اور معنی یہ ہے کہ جب تک دل میں کامل یقین پیدا نہیں کرو گے اور خالص اللہ کو نہیں مانو گے تو اللہ کے ہاں مسلمان نہیں ہو سکتے۔
➋ پہلی کتابوں پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ باقی رہا عمل! تو وہ ان پر نہیں بلکہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کیا جائے گا۔ ان کتابوں میں جو چیز کتاب و سنت کے مطابق ہو گی اس کی تصدیق کی جائے گی اور جو ان کے خلاف ہو گی اسے رد کر دیا جائے گا۔
➌ { وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ …:} یعنی اگر ان میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کیا تو گویا تمام چیزوں کا انکار کر دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) ایمان والوں کو ایمان لانے کی تاکید، تحصیل حاصل والی بات نہیں بلکہ کمال ایمان اور اس پر استقرار و اثبات کا حکم ہے۔ جیسے (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ) 1:5 کا مفہوم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

136۔ اے ایمان والو! (خلوص دل سے) اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کتاب [181] پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے۔ نیز اس کتاب پر بھی جو اس سے پہلے [182] اس نے نازل کی تھی۔ اور جو شخص اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار [183] کرے تو وہ گمراہی میں بہت دور تک چلا گیا
[181] ایمان کے درجات:۔
اس آیت میں ایمان کا لفظ دو معنوں میں یا ایمان کے دو مختلف درجوں میں استعمال ہوا ہے۔ «اٰمنوا» کا مطلب یہ ہے، لوگو جو تم مومنوں کی جماعت میں شامل ہو چکے ہو۔ اور اٰمنوا کا مطلب یہ ہے کہ خلوص نیت سچے دل اور پختہ عزم اور سنجیدگی کے ساتھ ایمان لاؤ اور اپنی سوچ، اپنے عمل، اپنے رویہ، اپنے نظریات، اپنے مذاق، اپنے کردار، اپنی دوستی اور دشمنی، اپنی اغراض، اپنی جد و جہد غرض ہر چیز کو اس عقیدے کے مطابق بناؤ جس پر تم ایمان لائے ہو۔ تب ہی تم میں انصاف پر قائم رہنے کی صفت پیدا ہو سکے گی۔
[182] قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کتاب یا کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ فی الواقع وہ کتاب بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ مواد ان میں آج کل پایا جاتا ہے وہ سب کچھ منزل من اللہ ہے اس آیت میں اور اسی طرح دیگر متعدد آیات میں ایمان بالغیب کے پانچ اجزا کا ذکر آیا ہے جو یہ ہیں اللہ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کے فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر بن دیکھے ایمان لایا جائے۔ یعنی ان پر پختہ یقین رکھا جائے۔ ایمان بالغیب کا چھٹا جزو تقدیر پر ایمان ہے یعنی ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ عقیدہ بھی قرآن ہی کی متعدد آیات سے مستنبط ہے۔ اگرچہ اس آیت میں مذکور نہیں۔
[183] کفر کے درجے:۔
جس طرح پہلی آیت میں ایمان کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوا ہے اسی طرح اس آیت میں کفر کا لفظ بھی دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک یہ کہ سرے سے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہی نہ ہو اور ان سب امور مذکورہ کا انکار کر دے۔ دوسرے یہ کہ ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے مسلمانوں میں شامل تو ہو جائے لیکن جو اثرات اس عقیدہ کے اس کی طبیعت پر مترتب ہونا چاہیے تھے وہ نہ ہوں۔ نہ ہی وہ اپنے طریق زندگی کو شرعی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ ایسا ایمان بھی کچھ فائدہ نہ دے گا اور یہ سراسر گمراہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایمان کی تکمیل مکمل اطاعت میں مضمر ہے ٭٭
ایمان والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ایمان میں پورے پورے داخل ہو جائیں تمام احکام کو کل شریعت کو ایمان کی تمام جزئیات کو مان لیں، یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل حاصل ہے نہیں بلکہ تکمیل کامل ہے۔ ایمان لائے ہو تو اب اسی پر قائم رہو اللہ جل شانہ کو مانا ہے تو جس طرح وہ منوائے مانتے چلے جاؤ۔
یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھاتا رہ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو فرمایا ہے اور آیت میں ایمانداروں سے خطاب کر کے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔ پہلی کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس سے پہلے کی کتاب سے مراد تمام نبیوں پر جو جو کتابیں نازل ہوئیں سب ہیں۔
قرآن کے لیے لفظ «نزل» بولا گیا اور دیگر کتابوں کے لیے «انزل» اس لیے کہ قرآن بتدریج وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا کر کے اترا اور باقی کتابیں پوری پوری ایک ساتھ نازل ہوئیں، پھر فرمایا جو شخص اللہ جل شانہ کے ساتھ اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں کے ساتھ اس کے رسولوں کے ساتھ آخرت کے دن کے ساتھ کفر کرے وہ راہ ہدایت سے بہک گیا اور بہت دور غلط راہ پڑ گیا گمراہی میں راہ حق سے ہٹ کر راہ باطل پہ چلا گیا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

معلوم ہونا چاہیے کہ امر یعنی حکم کا رخ یا تو اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس شے میں داخل نہیں اور اس سے کچھ بھی متصف نہیں، تب اس کے لیے یہ حکم اس چیز میں داخل ہونے کا ہے۔ مثلاً اس شخص کے لیے ایمان لانے کا حکم جو مومن نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ (النساء: 4؍47) اے وہ لوگو جن کو کتاب عطا کی گئی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمھارے ساتھ ہے۔ یا اس حکم کا رخ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس چیز میں داخل ہو چکا ہے، تب یہ حکم اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس چیز کی تصحیح کر لے جسے وہ پا چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس نے ابھی تک نہیں پائی۔ اور اس کی مثال یہی آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ یہ ان سے اس چیز کے حکم کا تقاضا کرتی ہے جو ان کے ایمان یعنی صدق و اخلاص کی تصحیح کرتی ہے اور مفسدات سے اجتناب اور نقص میں ڈالنے والی ہر چیز سے توبہ کا تقاضا کرتی ہے۔ نیز یہ اس چیز کے حکم کا بھی تقاضا کرتی ہے جو ابھی مومن میں موجود نہیں یعنی علوم ایمان و عمل وغیرہ۔ کیونکہ جب کبھی اس کے پاس کوئی نص پہنچے گی، تو وہ اس کا معنی سمجھے گا اور اسے اپنے اعتقاد کا حصہ بنائے گا اور اسی چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا یہی معاملہ ہے تمام اعمال ایمان ہی کے دائرے میں آتے ہیں جیسا کہ بہت سی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے۔ پھر اس پر استمرار اور موت تک اس پر ثابت قدمی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُ٘نَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (آل عمران: 3؍102) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔
یہاں ہمیں اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، قرآن کریم پر اور سابقہ کتب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تمام تر، ایمان واجب میں سے ہیں جس کے بغیر کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا۔ جس چیز کے بارے میں تفصیل نہیں پہنچی اس پر اجمالاً ایمان لانا فرض ہے اور جہاں تفصیل معلوم ہے وہاں تفصیلاً ایمان لانا فرض ہے۔ جو کوئی اس مامور طریقے پر ایمان لاتا ہے وہی ہدایت پا کر فوزیاب ہوتا ہے۔
﴿ وَمَنْ یَّكْ٘فُ٘رْ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَؔكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰ٘لًۢا بَعِیْدًا جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے، تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا یعنی ان لوگوں سے بھی کوئی بڑھ کر گمراہ ہو سکتا ہے جو ہدایت کی راہ راست کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس راستے پر چل نکلتے ہیں جو دردناک عذاب میں لے جاتا ہے؟
یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان تمام امور میں سے کسی ایک کے ساتھ کفر گویا ان تمام امور کے ساتھ کفر ہے کیونکہ یہ تمام امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر ایمان لانے سے بھی ایمان کا وجود ممتنع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

اعلم أن الأمر إمّا أن يوجَّه إلى من لم يدخل في الشيء ولم يتَّصف بشيء منه؛ فهذا يكون أمراً له في الدُّخول فيه، وذلك كأمر من ليس بمؤمن بالإيمان؛ كقوله تعالى: {يا أيُّها الذين أوتوا الكتابَ آمِنوا بما نَزَّلْنا مصدِّقاً لما معكم ... } الآية، وإمّا أن يوجَّه إلى من دخل في الشيء؛ فهذا يكون أمره ليصحِّح ما وُجِدَ منه ويحصِّل ما لم يوجد، ومنه ما ذكره الله في هذه الآية من أمر المؤمنين بالإيمان؛ فإنَّ ذلك يقتضي أمرهم بما يصحِّح إيمانهم من الإخلاص والصدق وتجنُّب المفسدات والتوبة من جميع المنقصات، ويقتضي أيضاً الأمر بما لم يوجد من المؤمن من علوم الإيمان وأعماله؛ فإنَّه كلَّما وصل إليه نصٌّ وفهم معناه واعتقدَه؛ فإنَّ ذلك من الإيمان المأمور به، وكذلك سائر الأعمال الظاهرة والباطنة، كلُّها من الإيمان؛ كما دلَّت على ذلك النصوص الكثيرة وأجمع عليه سلف الأمة، ثم الاستمرار على ذلك والثَّبات عليه إلى الممات؛ كما قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا اتَّقوا الله حقَّ تُقاتِهِ ولا تموتنَّ إلاَّ وأنتُم مسلمونَ}، وأمر هنا بالإيمان به وبرسله وبالقرآن وبالكتب المتقدِّمة؛ فهذا كلُّه من الإيمان الواجب الذي لا يكون العبد مؤمناً إلاَّ به، إجمالاً فيما لم يصل إليه تفصيلُه، وتفصيلاً فيما عُلِمَ من ذلك بالتفصيل؛ فمن آمن هذا الإيمان المأمور به؛ فقد اهتدى وأنجح.

ومن كفر {بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر فقد ضلَّ ضلالاً بعيداً}: وأيُّ ضلال أبعد من ضلال من تَرَكَ طريق الهدى المستقيم وسَلَكَ الطريق الموصلةَ له إلى العذاب الأليم؟! واعلم أنَّ الكفر بشيء من هذه الأمور المذكورة كالكُفر بجميعها؛ لتلازُمِها وامتناع وجود الإيمان ببعضِها دون بعض.