تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد کی شہادت ماں باپ کے خلاف قبول ہو گی اور یہ ان کے ساتھ {”بِرٌّ“} یعنی احسان کے منافی نہیں ہے۔ والدین اور بھائی کی شہادت بھی سلف کے نزدیک مقبول ہے، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ جب وہ عادل ہوں اور ان پر تہمت نہ ہو۔ اسی تہمت کے پیش نظر بعض ائمہ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں شہادت کو جائز رکھا ہے اور بعض نے رد کیا ہے۔ (قرطبی)
➌ { اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا …: } یعنی جس کے خلاف تمھاری گواہی پڑ رہی ہے وہ دولت مند ہے تب اور غریب ہے تب، تم اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت سے بڑھ کر اس کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، لہٰذا نہ تم دولت مند کی دولت مندی کی وجہ سے اس کی بے جا حمایت یا مخالفت کرو اور نہ غریب پر ترس کھا کر اس کی بے جا رعایت کرو، بلکہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سچی گواہی دو۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کی غربت تمھیں اس کی بے جا حمایت پر آمادہ کر دے، تم اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اس کے بندوں کے، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، نہ زیادہ خیر خواہ ہو سکتے ہو اور نہ زیادہ ان پر حق رکھنے والے۔
➍ {وَ اِنْ تَلْوٗۤا …:} ”{لَوَي يَلْوِيْ لَيًّا } (ض)“ پیچ دینا، یعنی اگر تم زبان کو پیچ دے کر اس طرح بات بنا کر پیش کرو کہ جس کے خلاف گواہی پڑنی چاہیے وہ بچ جائے، یا {” تُعْرِضُوْا “} یعنی گواہی دینے ہی سے پہلو بچاؤ، بلکہ چھپا جاؤ تو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اس سے پوری طرح با خبر ہے، اس کی پوری سزا اللہ کے ہاں پاؤ گے۔ یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صاف جھوٹ نہیں بولا تو جھوٹی گواہی کے گناہ سے بچ جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ» ۱؎ [65-الطلاق:2] ’ یعنی گواہیاں اللہ کی رضا جوئی کے لیے دو ‘ جو بالکل صحیح صاف سچی اور بیلاگ ہوں۔ انہیں بدلو نہیں، چھپاؤ نہیں، چبا کر نہ بولو صاف صاف سچی شہادت دو چاہے وہ تمہارے اپنے ہی خلاف ہو تم حق گوئی سے نہ رکو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار غلاموں کی مخلصی کی صورتیں بہت سی نکال دیتا ہے کچھ اسی پر موقوف نہیں کہ جھوٹی شہادت سے ہی اس کا چھٹکارا ہو۔ گو سچی شہادت ماں باپ کے خلاف ہوتی ہو گو اس شہادت سے رشتے داروں کا نقصان پہنچتا ہو، لیکن تم سچ ہاتھ سے نہ جانے دو گواہی سچی دو، اس لیے کہ حق ہر ایک پر غالب ہے، گواہی کے وقت نہ تونگر کا لحاظ کرو نہ غریب پر رحم کرو۔
جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ «وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى» ۱؎ [5-المائدة:8] ’ کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے عدل کرتے رہو یہی تقویٰ کی شان کے قریب تر ہے۔ ‘
پھر فرماتا ہے «وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:283] اگر تم نے شہادت میں تحریف کی یعنی بدل دی غلط گوئی سے کام لیا واقعہ کے خلاف گواہی دی دبی زبان سے پیچیدہ الفاظ کہے واقعات غلط پیش کر دئے یا کچھ چھپا لیا کچھ بیان کیا تو یاد رکھو اللہ جیسے باخبر حاکم کے سامنے یہ چال چل نہیں سکتی وہاں جا کر اس کا بدلہ پاؤ گے اور سزا بھگتو گے۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے [حدیث] «خَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا» { بہترین گواہ وہ ہیں جو دریافت کرنے سے پہلے ہی سچی گواہی دے دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1719]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عبادَه المؤمنين أن يكونوا {قوَّامين بالقسطِ شهداء لله}، والقوَّام صيغةُ مبالغةٍ؛ أي: كونوا في كلِّ أحوالكم قائمين بالقسطِ الذي هو العدل في حقوق الله وحقوق عباده؛ فالقِسْطُ في حقوق الله أن لا يُستعان بنعمه على معصيتِهِ، بل تُصرف في طاعته، والقِسْط في حقوق الآدميِّين أن تُؤدِّيَ جميع الحقوق التي عليك كما تَطْلُبُ حقوقك، فتؤدِّي النفقات الواجبة والدُّيون وتعامل الناس بما تحبُّ أن يعاملوك به من الأخلاق والمكافأة وغير ذلك.
ومن أعظم أنواع القِسْط القِسْط في المقالات والقائلين؛ فلا يحكم لأحدِ القولين أو أحد المتنازِعَين لانتسابه أو ميله لأحدهما، بل يَجعل وجهته العدل بينهما، ومن القسط أداء الشهادة التي عندك على أيِّ وجه كان، حتى على الأحباب، بل على النفس، ولهذا قال: {شهداء لله ولو على أنفسكم أو الوالدين والأقربين، إن يكنْ غنيًّا أو فقيراً فالله أولى بهما}؛ أي: فلا تُراعوا الغنيَّ لغناه ولا الفقير بزعمكم رحمة له، بل اشهدوا بالحقِّ على مَن كان. والقيام بالقسط من أعظم الأمور وأدل على دين القائم به وورعِهِ ومقامِهِ في الإسلام، فيتعيَّن على مَن نصح نفسه وأراد نجاتَها أن يهتمَّ له غاية الاهتمام، وأن يَجْعَلَهُ نصبَ عينيه ومحلَّ إرادته، وأن يزيل عن نفسِهِ كلَّ مانع وعائق يَعوقه عن إرادة القِسْط أو العمل به، وأعظم عائق لذلك اتِّباع الهوى، ولهذا نبَّه تعالى على إزالة هذا المانع بقوله: {فلا تتَّبِعوا الهوى أن تعدِلوا}؛ أي: فلا تتَّبعوا شهوات أنفسكم المعارضة للحقِّ؛ فإنكم إن اتَّبعتموها؛ عدلتُم عن الصواب ولم توفَّقوا للعدل؛ فإنَّ الهوى إمَّا أن يُعْمِيَ بصيرة صاحبه حتى يرى الحقَّ باطلاً والباطلَ حقًّا، وإما أن يعرفَ الحقَّ ويتركَه لأجل هواه؛ فمن سلم من هوى نفسه؛ وفِّق للحق وهُدِيَ إلى الصراط المستقيم.
ولما بيَّن أنَّ الواجب القيام بالقِسط؛ نهى عن ما يضادُّ ذلك، وهو لَيُّ اللسان عن الحقِّ في الشهادات وغيرها، وتحريف النُّطق عن الصواب المقصود من كلِّ وجه أو من بعض الوجوه، ويدخل في ذلك تحريف الشهادة وعدم تكميلها أو تأويلُ الشاهد على أمرٍ آخر؛ فإنَّ هذا من اللَّيِّ؛ لأنَّه الانحراف عن الحقِّ. {أو تعرِضوا}؛ أي: تتركوا القِسْط المَنوط بكم كترك الشاهد لشهادته وترك الحاكم لحكمه الذي يَجِبُ عليه القيام به.
{فإنَّ الله كان بما تعملون خبيراً}؛ أي: محيط بما فعلتم، يعلم أعمالَكم خفيَّها وجليَّها، وفي هذا تهديدٌ شديدٌ للذي يلوي أو يعرض، ومن باب أولى وأحرى الذي يحكم بالباطل أو يشهد بالزُّور؛ لأنه أعظم جرماً؛ لأن الأوَّلَيْنِ تركا الحقَّ، وهذا ترك الحقَّ، وقام بالباطل.