ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 130

وَ اِنۡ یَّتَفَرَّقَا یُغۡنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیۡمًا ﴿۱۳۰﴾
اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے
En
اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 130) ➊ { وَ اِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ:} یہ دوسری صورت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی صورت باقی ہی نہیں رہی تو اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ مرد کو دوسری بیوی مل جائے گی، جو اسے پسند ہو اور عورت کو دوسرا شوہر مل جائے گا جو اس سے محبت کرے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ (قرطبی) اس سے اسلام کے احکام کی حکمت، وسعت اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض مذاہب میں طلاق کو حرام قرار دیا گیا ہے، ایک دفعہ جب نکاح ہو گیا اب وہ خواہ ایک دوسرے سے کتنے متنفر ہو جائیں، خواہ ان کی زندگی جہنم کا نمونہ بن جائے، طلاق نہیں دے سکتے۔ نہیں ہر گز نہیں، جب تعلق روگ بن جائے تو اس کا ٹوٹنا ہی اچھا ہے۔ اسلام نے دونوں کے لیے علیحدگی کا راستہ رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ نئی زندگی شروع کر کے امن و اطمینان سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، رہی وہ حدیث جس میں ہے: [أَبْغَضُ الْحَلاَلِ عِنْدَ اللّٰهِ الطَّلاَقُ] (اللہ کے نزدیک حلال میں سب سے نا پسندیدہ طلاق ہے) تو یہ حدیث صحیح سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [دیکھیے إرواء الغلیل: 106/7، ح: ۲۰۴۰]
➋ {وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا:} یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ کسی کا رزق میرے ہاتھ میں ہے، اگر میں نہ دوں گا تو وہ بھوکا مر جائے گا۔ اللہ تعالیٰ رازق مطلق ہے اور اس کے انتظامات انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں، اس نے جس طرح ملاپ میں حکمت رکھی ہے، جدائی میں بھی رکھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

130۔ 1 یہ تیسری صورت ہے کہ کوشش کے باوجود اگر نباہ کی صورت نہ بنے پھر طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ ممکن ہے علیحدگی کے بعد مرد کو مطلوبہ صفات والی بیوی اور عورت کو مطلوبہ صفات والا مرد مل جائے۔ اسلام میں طلاق کو اگرچہ سخت ناپسند کیا گیا ہے، طلاق حلال تو ہے لیکن یہ ایسا حلال ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے " اس کے باوجود اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس لئے کہ بعض دفعہ حالات ایسے موڑ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور فریقین کی بہتری اسی میں ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ مزکورہ حدیث میں صحت اسناد کے اعتبار سے اگرچہ ضعف ہے تاہم قرآن وسنت کی نصوص سے یہ واضح ہے کہ یہ حق اسی وقت استعمال کرنا چاہیے جب نباہ کی کوئی صورت کسی طرح بھی نہ بن سکے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

130۔ اور اگر دونوں میاں بیوی (میں صلح نہ ہو سکے اور وہ) ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو اللہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کو (دوسرے کی محتاجی سے)[173] بے نیاز کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور حکمت والا ہے
[173] اور اگر ان میں نباہ اور حسن معاشرت کی کوئی صورت نظر نہ آرہی ہو تو اسلام اس بات پر مجبور نہی کہ ایک گھرانہ میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہے اور جہنم زار بنا رہے۔ اس سے بہتر ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔ خواہ مرد طلاق دے دے یا عورت خلع لے لے۔ پھر دونوں کا اللہ مالک ہے وہ ان کے لیے بہت سامان پیدا فرما دے گا۔ اور یہ بات کئی بار تجربہ میں آچکی ہے کہ جن دو میاں بیوی کا آپس میں نباہ ہونا نا ممکن نظر آرہا تھا اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نالاں اور ایک دوسرے پر الزام دھرتے تھے جب دونوں الگ ہو گئے تو ان دونوں کو اللہ نے اپنے اپنے گھروں میں سکھ چین سے آباد کر دیا اور پھر زندگی بھر ان نئے جوڑوں میں موافقت و موانست کی فضا برقرار رہی اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات میاں اور بیوی دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے ذہن میں دوسرے کے متعلق ایسی بدظنیاں اور بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ ہر سیدھی بات سے بھی غلط نتیجہ ہی اخذ کرتے ہیں۔ پھر جب انہیں نیا ماحول میسر آ جاتا ہے جس میں ذہن ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف ہوتے ہیں تو ایسی کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی اور ان دونوں کی خوش باش زندگی کا نیا دور شروع ہو جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔