تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ …:} یعنی تم سے پہلے لوگوں کو اور تم سب کو اس بات کا تاکیداً حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو، یعنی اس کے دیے گئے احکام پر عمل کرو۔ یہ جملہ {”اتَّقُوا اللّٰهَ“} قرآن کی تمام آیات کے لیے بمنزلہ رحی (چکی) کے ہے کہ اسی کی لٹھ پر تمام آیات گھومتی ہیں۔ ابن عاشور رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قرآن مجید میں اللہ کے اسماء کے بعد سب سے زیادہ اسی کا ذکر ہوا ہے۔“
➌ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”تین بار فرمایا کہ اللہ کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے، پہلی بار کشائش(کھلا رزق دینے) کا بیان ہے (کہ علیحدگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ دونوں کو غنی کر دے گا، کیونکہ جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کا ہے، جسے جس طرح چاہے دیتا ہے) دوسری دفعہ اس کی بے پروائی کا بیان ہے کہ اگر تم کفر کرو، منکر بنو (تو اللہ بھی بے پروا ہے، کیونکہ سبھی کچھ اس کا ہے) اور تیسری بار اللہ کے کارساز ہونے کا بیان ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو (تو وہ کافی وکیل ہے)۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ الخ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّـهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:8] کہ اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کفر کرنے لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور لائق ستائش ہے اور جگہ فرمایا «فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ» ۱؎ [64-التغابن:6] ’ انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے ان سے بے نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔‘
اپنے تمام بندوں سے غنی اور اپنے تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے۔ آسمان و زمین کی ہرچیز کا وہ مالک ہے اور ہر شخص کے تمام افعال پر وہ گواہ ہے اور ہرچیز کا وہ عالم اور شاہد ہے۔ وہ قادر ہے کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں برباد کر دے اور غیروں کو آباد کر دے۔
جیسا کہ دوسری آیت میں ہے «وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:38] ’ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدل کر تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ ‘ بعض سلف سے منقول ہے کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچو کہ گنہگار بندے اللہ اکبر و اعلیٰ کے نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں؟
اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [14-ابراھیم:19،20] ’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں۔‘
اور ایسے بھی ہیں جو دعائیں کرتے ہیں کہ «وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» ۱؎ [2-البقرة:201] { اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرما۔ }
یہ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا پورا حصہ ملے گا اور جگہ ہے جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے اور آیت میں ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:18] ’ جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے چاہیں جتنا چاہیں دنیا میں دے دیں۔ ‘
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کے معنی تو بظاہر یہی ہیں لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے کیونکہ اس آیت کے الفاظ تو صاف بتا رہے ہیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دینا الہ العالمین کے ہاتھ ہے تو ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے بلکہ دونوں چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو تمہیں دنیا دیتا ہے وہی آخرت کا مالک بھی ہے
اور یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے والے سے تھوڑا مانگو، نہیں نہیں بلکہ تم دنیا اور آخرت کے بڑے بڑے کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو۔
یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے ہر ہر نفع اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی نہیں جسے اس کے ساتھ شراکت ہو یا اس کے کاموں میں دخل ہو سعادت و شقاوت اس نے تقسیم کی ہے خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اسے وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں دیکھنے سننے کی طاقت دینے والے کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عموم ملكه العظيم الواسع المستلزم تدبيره بجميع أنواع التَّدبير وتصرُّفه بأنواع التصريف قدراً وشرعاً؛ فتصرُّفه الشرعي أن وصَّى الأوَّلين والآخرين أهل الكتب السابقة واللاَّحقة بالتَّقوى المتضمِّنة للأمر والنَّهي وتشريع الأحكام والمجازاة لمن قام بهذه الوصيَّة بالثواب والمعاقبة لمن أهملها وضيَّعها بأليم العذاب، ولهذا قال: {وإن تَكْفُروا}: بأن تتركوا تقوى الله وتشركوا بالله ما لم ينزِّل به عليكم سلطاناً؛ فإنكم لا تضرُّون بذلك إلا أنفسكم، ولا تضرُّون الله شيئاً، ولا تنقصون ملكَه، وله عبيدٌ خير منكم وأعظم وأكثر، مطيعون له خاضعون لأمره، ولهذا رتَّب على ذلك قوله: {وإن تَكْفُروا فإنَّ لله ما في السموات وما في الأرض وكان الله غنيًّا حميداً}: له الجود الكامل والإحسان الشامل الصادر من خزائن رحمته التي لا يَنْقُصُها الإنفاق ولا يَغيضها نفقةٌ، سحاء الليل والنهار، لو اجتمع أهل السماوات وأهل الأرض أولهم وآخرهم، فسأل كلُّ واحد منهم ما بلغت أمانيه، ما نَقَصَ من ملكه شيئاً، ذلك بأنه جوادٌ واجدٌ ماجدٌ، عطاؤه كلامٌ، وعذابه كلامٌ، إنما أمره لشيء إذا أراد أن يقولَ له كُن فيكون، ومن تمام غِناه أنَّه كامل الأوصاف؛ إذ لو كان فيه نقصٌ بوجه من الوجوه؛ لكان فيه نوعُ افتقارٍ إلى ذلك الكمال، بل له كلُّ صفة كمال، ومن تلك الصفة كمالها.
ومن تمام غِناه أنَّه لم يتَّخذ صاحبةً ولا ولداً ولا شريكاً في ملكه ولا ظهيراً ولا معاوناً له على شيء من تدابير ملكِهِ، ومن كمال غناه افتقار العالم العلويِّ والسفليِّ في جميع أحوالهم وشؤونهم إليه وسؤالهم إيّاه جميع حوائجهم الدقيقة والجليلة، فقام تعالى بتلك المطالب والأسئلة، وأغناهم وأقناهم ومنَّ عليهم بلطفه وهداهم.
وأما الحميدُ؛ فهو من أسماء الله تعالى الجليلة، الدال على أنه هو المستحقُّ لكلِّ حمدٍ ومحبةٍ وثناء وإكرام، وذلك لما اتَّصف به من صفات الحمد التي هي صفة الجمال والجلال، ولما أنعم به على خلقه من النعم الجزال؛ فهو المحمود على كلِّ حال.
وما أحسن اقتران هذين الاسمين الكريمين: الغنيّ الحميد؛ فإنه غنيٌّ محمودٌ؛ فله كمالٌ من غناه وكمالٌ من حمده وكمالٌ من اقتران أحدهما بالآخر، ثم كرَّر إحاطة ملكه لما في السماوات و [ما في] الأرض، وأنَّه على كلِّ شيء وكيل؛ أي: عالم قائم بتدبير الأشياء على وجه الحكمة؛ فإنَّ ذلك من تمام الوكالة؛ فإنَّ الوكالة تستلزم العلم بما هو وكيلٌ عليه، والقوَّة والقدرة على تنفيذه وتدبيره، وكون ذلك التدبير على وجه الحكمة والمصلحة؛ فما نقص من ذلك؛ فهو لنقص الوكيل، والله تعالى منزَّه عن كلِّ نقص.