ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 127

وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ ۙ وَ مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَاتُؤۡ تُوۡنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡیَتٰمٰی بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا ﴿۱۲۷﴾
اور وہ تجھ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو اور نہایت کمزور بچوں کے بارے میں ہے اور اس بارے میں ہے کہ یتیموں کے لیے انصاف پر قائم رہو اور تم جو بھی نیکی کرو سو بے شک اللہ ہمیشہ سے اسے خوب جاننے والا ہے۔ En
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
En
آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وه آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں ﻻنے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو۔ تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 127) ➊ {وَ يَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَآءِ …:} گو یہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کر رہے تھے، لیکن اگلی چار آیات میں جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔
➋ { قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ وَ مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ …:} یہاں دراصل کچھ سوالوں کے جواب کے لیے پچھلی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ کتاب کی اسی سورت میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اسی سے متعلق ہے، مثلاً آیت (۳) اور اس کے بعد کی آیات یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق ہیں، پھر عورتوں کے حقوق اور نا بالغ بچوں کی نگہداشت اور ان کا مال کھانے سے اجتناب اور ان کا ورثہ دینا یہ سب اسی کے بارے میں ہے۔
➌ {وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ:} اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ جب {تَرْغَبُوْنَ} کا صلہ { فِيْ } محذوف مانا جائے، جس کا معنی رغبت کرنا ہے اور اگر اس کا صلہ{ عَنْ } محذوف مانا جائے تو ترجمہ یوں ہو گا کہ تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث سے اس دوسرے ترجمے کی تائید ہوتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر دونوں طرح کا ظلم کیا جاتا تھا۔ ابتدا سورت میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (قرطبی) اس آیت کے مطلب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس سورت کے اول میں یتیم کے حق کا ذکر تھا اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی، جس کا کوئی ولی نہ ہو مگر اس کا چچا زاد، سو وہ اگر سمجھے کہ میں اس کا حق ادا نہ کر سکوں گا تو وہ اسے اپنے نکاح میں نہ لائے، کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے اور خود اس کا ولی بن جائے۔ اب مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کر دیا، پھر دیکھا گیا کہ بعض اوقات لڑکی کے ولی ہی کے لیے اسے اپنے نکاح میں رکھنا بہتر ہوتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت مانگی گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اجازت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو کتاب میں منع کیا گیا تھا وہ اس وقت ہے کہ اس کا حق پورا نہ دو، اگر ان کے حق کی بہتری کی سوچو تو رخصت ہے۔ (موضح)
➍ { وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ:} یعنی ان کے بارے میں بھی اپنے احکام یاد دلاتا ہے جو اس سورت کے شروع میں میراث کے تحت دیے گئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۰، ۱۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

127۔ 1 عورتوں کے بارے میں جو سوالات ہوتے رہتے ہیں، یہاں سے ان کے جوابات دیئے جا رہے ہیں۔ 127۔ 2 وَمَا یُتلَیٰ عَلَیْکُمْ اس کا عطف اللہ یفتیکُمْ پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بابت وضاحت فرماتا ہے اور کتاب اللہ کی وہ آیات وضاحت کرتی ہیں جو اس سے قبل یتیم لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوچکی ہیں۔ مراد سورة نساء کی آیت 3 جس میں ان لوگوں کو اس بےانصافی سے روکا گیا کہ یتیم لڑکی سے ان کے حسن و جمال کی وجہ سے شادی تو کرلیتے تھے لیکن مہر دینے سے گریز کرتے تھے۔ 127۔ 2 اس کے دو ترجمے کئے گئے ہیں، ایک تو یہی جو مرحوم مترجم نے کیا ہے اس میں فی کا لفظ محذوف ہے اس کا دوسرا ترجمہ عن کا لفظ محذوف مان کر کیا گیا ہے یعنی ترغبون عن ان تنکحوھن، " تمہیں ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہ ہو " رغبت کا صلہ عن آئے تو معنی اعراض اور بےرغبتی کے ہوتے ہیں۔ جیسے (وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ) 2:130 میں ہے یہ گویا دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ یتیم لڑکی بعض دفعہ بدصورت ہوتی تو اس کے ولی یا اس کے ساتھ وراثت میں شریک دوسرے ورثاء خود بھی اس کے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ کرتے اور کسی دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہ کرتے، تاکہ کوئی اور شخص اس کے حصہ جائیداد میں شریک نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی طرح ظلم کی اس دوسری صورت سے بھی منع فرمایا۔ 127۔ 3 اس کا عطف۔ یتامی النساء۔ پر ہے۔ یعنی وما یتلی علیکم فی یتامی النساء وفی المستضعفین من الولدان۔ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم پر جو پڑھا جاتا ہے۔ (سورۃ النساء کی آیت نمبر 3) اور کمزور بچوں کی بابت جو پڑھا جاتا ہے اس سے مراد قرآن کا حکم (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ) 4:11 ہے جس میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی وراثت میں حصہ دار بنایا گیا ہے۔ جب کہ زمانہ جاہلیت میں صرف بڑے لڑکوں کو ہی وارث سمجھا جاتا تھا چھوٹے کمزور بچے اور عورتیں وراثت سے محروم ہوتی تھیں۔ شریعت نے سب کو وارث قرار دے دیا۔ 127۔ 4 اس کا عطف بھی یَتَامَی النِّسآءِ پر ہے۔ یعنی کتاب اللہ کا حکم بھی تم پر پڑھا جاتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ یتیم بچی صاحب جمال ہو تب بھی اور بدصورت ہو تب بھی۔ دونوں صورتوں میں انصاف کرو (جیسا کہ تفصیل گزری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

127۔ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ ان کے بارے میں اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے اور اس بارے میں بھی جو یتیم عورتوں سے متعلق اس کتاب میں [166] پہلے سے تمہیں سنائے جا چکے ہیں جن کے مقررہ حقوق تو تم دیتے نہیں (میراث وغیرہ) اور ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو اور ان بچوں [167] کے بارے میں بھی جو ناتواں ہیں، نیز اللہ تمہیں یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی کا کام تم کرو گے، اللہ یقیناً اسے خوب جانتا ہے
[166] یتیم لڑکیوں سے نا انصافی:۔
یتیم لڑکیوں کے بارے میں جو احکام پہلے سنائے جا چکے ہیں وہ اسی سورۃ نساء کی آیت نمبر 3 میں مذکور ہیں اور اس آیت کا اس آیت سے گہرا تعلق ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ یتیم لڑکیوں کے سرپرست ان سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں کئی طرح کی بے انصافیوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کی تفصیل اسی سورۃ کی آیت نمبر 3 کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔ ان بے انصافیوں سے بچنے کی خاطر ایسی یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں نے یہ محتاط رویہ اختیار کیا کہ ان سے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا تھا تاکہ ان سے ان یتیم لڑکیوں کے حق میں کوئی بے انصافی کی بات سرزد نہ ہو جائے۔ لیکن اس طرح بھی بعض دفعہ نقصان کی صورت پیش آ جاتی تھی اور وہ یہ تھی کہ جس قدر اخوت اور بہتر سلوک انہیں سرپرستوں سے نکاح کرنے میں میسر آسکتا تھا، غیروں کے ساتھ نکاح کرنے سے وہ میسر آہی نہ سکتا تھا اور بعض دفعہ ان کی زندگی تلخ ہو جاتی۔ اس آیت کے ذریعہ اولیاء کو ان کے زیر کفالت یتیم لڑکیوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی مگر اس شرط کے ساتھ کہ ایک تو ان کے حق مہر میں کمی نہ کرو اور دوسرے جو کچھ تم طے کرو وہ ادا ضرور کر دو اور ان کے جو دوسرے حقوق وراثت وغیرہ ہوں، بھی انہیں ادا کر دو۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت سے یتیم بچیوں کا وراثت میں حصہ مراد لیا ہے جس کے احکام پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر 11 میں گزر چکے ہیں۔ دور جاہلیت کا دستور یہ تھا کہ وہ نہ میت کی بیوی کو وراثت سے کچھ حصہ دیتے تھے اور نہ یتیم لڑکیوں کو۔ بلکہ وراثت کے حقدار صرف وہ لڑکے سمجھے جاتے تھے جو لڑائی کرنے اور انتقام لینے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میراث کی رو سے بیواؤں، یتیم لڑکیوں کے علاوہ چھوٹے بچوں کو بھی وراثت میں حقدار بنا دیا اور اس آیت میں ماکَتَبَ لَھُنَّ کے الفاظ اسی بات پر دلالت کرتے ہیں۔
[167] یعنی ایسے یتیم بچے جو ان کے ولی کے زیر کفالت ہیں ان کے حقوق بھی انہیں پورے پورے ادا کرو۔ اور کسی طرح سے بھی ان سے نا انصافی نہ کرو، یتیموں سے حسن سلوک کے سلسلہ میں بھی پہلے سورۃ نساء کی ابتدا میں تفصیل گزر چکی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی ہو مال میں شریک ہو گیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیمہ سے میں نکاح کر لوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4600]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:127]‏‏‏‏ نازل فرمائی۔
فرماتی ہیں کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے «‏‏‏‏وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ» اس سے مراد پہلی آیت «وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا» ۱؎ [4-النساء:3]‏‏‏‏ ہے
آپ سے بھی منقول ہے کہ یتیم لڑکیوں کے ولی وارث جب ان کے پاس مال کم پاتے یا وہ حسین نہ ہوتیں تو ان سے نکاح کرنے سے باز رہتے اور اگر مالدار اور صاحب جمال پاتے تو نکاح کی رغبت کرتے لیکن اس حال میں بھی چونکہ ان لڑکیوں کا اور کوئی محافظ نہیں ہوتا تھا ان کے مہر اور حقوق میں کمی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کہ بغیر پورا مہر اور پورے حقوق دینے کے نکاح کر لینے کی اجازت نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ ایسی یتیم بچی جس سے اس کے ولی کو نکاح حلال ہو تو وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ جو مہر اس جیسی اس کے کنبے قبیلے کی اور لڑکیوں کو ملا ہے اسے بھی اتنا ہی دے اور اگر ایسا نہ کرے تو اسے چاہیئے اس سے نکاح بھی نہ کرے۔ اس سورت کے شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس یتیم بچی سے خود اس کا ایسا ولی جسے اس سے نکاح کرنا حلال ہے اسے اپنے نکاح میں لانا نہیں چاہتا خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن یہ جان کر کہ جب یہ دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی تو جو مال میرے اس لڑکی کے درمیان شراکت میں ہے وہ بھی میرے قبضے سے جاتا رہے گا۔ تو ایسے ناواجبی فعل سے اس آیت میں روک دیا گیا۔
یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت میں دستور تھا کہ یتیم لڑکی کا والی جب لڑکی کو اپنی ولایت میں لیتا تو اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا اب کسی کی مجال نہ تھی کہ اس سے نکاح کرے اگر وہ صورت شکل میں اچھی اور مالدار ہوتی اس سے خود آپ نکاح کر لیتا اور مال بھی ہضم کر جاتا اور اگر وہ صورت شکل میں اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو اسے دوسری جگہ نکاح کرنے سے روک دیتا وہ بیچاری یونہی مر جاتی اور یہ اس کا مال قبضہ میں کر لیتا۔ اس سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں منع فرما رہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے ساتھ ہی یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت والے چھوٹے لڑکوں اور چھوٹی لڑکیوں کو وارث نہیں سمجھتے تھے اس رسم کو بھی قرآن نے ختم دیا اور ہر ایک کو حصہ دلوایا اور فرمایا کہ «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ» ۱؎ [4-النساء:11]‏‏‏‏ لڑکی اور لڑکے کو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے حصہ ضرور دو۔
البتہ لڑکی کو آدھا اور لڑکے کو پورا یعنی دو لڑکیوں کے برابر اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف کا حکم دیا کہ جب جمال و مال والی سے خود تم اپنا نکاح کر لیتے ہو تو پھر ان سے بھی کر لیا کرو جو مال وجمال میں کم ہوں پھر فرمایا یقین مانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ تمہیں چاہیئے کہ خیر کے کام کرو فرماں برداری کرو اور نیک جزا حاصل کرو۔