(آیت 121،120) ابلیس کے پاس جھوٹے وعدوں، غلط آرزوؤں اور وسوسوں کے سوا کچھ نہیں، حالانکہ اس کے سب وعدے جھوٹے اور سراسر دھوکا ہیں، بظاہر خوش نما، اندر سے مہلک ہیں۔ دیکھیے سورۂ فاطر (6،5) اور سورۂ ابراہیم (۲۳) اور ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے پھر اس کے وعدوں پر اعتبار اور غلط آرزوؤں کو سچ سمجھنے کا نتیجہ جہنم کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
120۔ شیطان ان سے وعدہ کرتا اور امیدیں [161] دلاتا ہے۔ اور جو وعدے بھی شیطان انہیں دیتا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے
[161]مثلاً شیطان کا یہ پٹی پڑھانا کہ توحید کے ہوتے ہوئے باقی سب گناہ معاف ہو جائیں گے اور اس طرح گناہوں پر دلیر بنا دینا یا اولیاء اللہ کی ان کے مریدوں کے حق میں سفارش کر کے چھڑا لینے کے عقیدہ کو پختہ کر دینا، یا یہ کہ ابھی کافی زندگی باقی ہے۔ نیک اعمال کے لئے اور توبہ کے لئے ابھی جلدی بھی کیا پڑی ہے۔ ایسے سب وعدے اور امیدیں شیطان انسان کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے کرتا رہتا ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں بے جا آرزوئیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ جن سے انسان کی حرص اور طول امل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوں جوں ابن آدم بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور خواہشیں جواں ہوتی رہتی ہیں اور یہی دو باتیں تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔ طول امل کی وجہ سے انسان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اسے کسی وقت اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔ اپنی موت سے بھول سے یاد نہیں آتی۔ حالانکہ ایسی آرزوئیں کسی کو ساری عمر نہ حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہوں گی۔ ایسی ہی آرزؤں کی تکمیل لئے وہ کئی قسم کے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے تا آنکہ موت اسے یکدم آکر دبوچ لیتی ہے۔ اور اس کی طویل خواہشات کے سلسلہ کو منقطع کر دیتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَعِدُهُمْوَیُمَنِّیْهِمْ ﴾”وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔“ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّ٘یْطٰ٘نُیَعِدُؔكُمُالْ٘فَقْ٘رَ ﴾(البقرۃ: 2؍268) ”شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔“ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَاذٰلِكُمُالشَّ٘یْطٰ٘نُیُخَوِّفُاَوْلِیَآءَهٗ ﴾ (آل عمران: 3؍175) ”یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔“
جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال: {يَعِدُهم ويمنِّيهم}؛ أي: يعد الشيطانُ من يسعى في إضلالهم والوعد يشمل حتى الوعيد؛ كما قال تعالى: {الشيطان يَعِدُكم الفقْرَ}؛ فإنه يعدهم إذا أنفقوا في سبيل الله؛ افتقروا، ويخوِّفهم إذا جاهدوا بالقتل وغيره؛ كما قال تعالى: {إنَّما ذلكم الشيطان يخوِّفُ أولياءَه ... } الآية، ويخوِّفهم عند إيثار مرضاة الله بكلِّ ما يمكن وما لا يمكنُ مما يدخله في عقولهم حتى يكسلوا عن فعل الخير، وكذلك يمنِّيهم الأماني الباطلة التي هي عند التحقيق كالسراب الذي لا حقيقة له، ولهذا قال: {وما يَعِدُهم الشيطان إلا غُروراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔