تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ: ” بَتْكٌ “} کا معنی قطع کرنا ہے، یعنی غیر اللہ کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر ان پر سواری کرنا حرام سمجھیں گے، جنھیں بحیرہ و سائبہ وغیرہ کہتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۳)۔
➌ {فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکل و صورت تبدیل کریں گے اور ان کے حلال و حرام ہونے کے احکام بھی بدل دیں گے۔ اس میں رہبانیت(دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے جنگل میں جا رہنا)، قوم لوط کا عمل، مردوں کا خصی ہو کر ہیجڑا بن جانا، عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول کے نام پر مردوں کی نس بندی اور عورتوں کے آپریشن کر کے بچے پیدا ہونے میں رکاوٹیں ڈالنا، عورتوں کو گھروں سے نکال کر ان کے فطری فرائض سے سبکدوش کر کے مردوں کی صف میں کھڑا کر دینا، عورتوں کو مملکت کی سربراہ بنا دینا، خوب صورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، عورتوں کا لباس کم از کم کر کے انھیں ننگا کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر (جلد میں نیل یا سرمہ بھر کر نقش بنوانے والیوں)، چہرے کے بال صاف کرنے والیوں اور کروانے والیوں پر اور حسن کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والیوں پر جو اللہ عزوجل کی خلق (پیدائش) کو بدلتی ہیں۔“ پھر فرمایا: ”میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہے “ اور یہ آیت پڑھی: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] ”جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «وما آتاکم الرسول فخذوہ» : ۴۸۸۶]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[159] جیسا کہ اہل عرب کیا کرتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی دس بچے جن لیتی یا جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہو چکتے تو اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے اور علامت کے طور پر اس کے کان چیر دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا النصيب المفروض الذي أقسم لله أنهم يتخذهم ؛ ذَكَرَ ما يريدُ بهم، وما يقصدُه لهم بقوله: {ولأضِلَّنَّهم}؛ أي: عن الصراط المستقيم ضلالاً في العلم وضلالاً في العمل، {ولأمنِّينَّهم}؛ أي: مع الإضلال لأمنِّينَّهم أن ينالوا ما ناله المهتدونَ، وهذا هو الغرور بعينه، فلم يقتصِرْ على مجرَّد إضلالهم، حتى زيَّن لهم ما هم فيه من الضلال، وهذا زيادةُ شرٍّ إلى شرِّهم، حيث عملوا أعمال أهل النار الموجبة للعقوبة، وحسِبوا أنَّها موجبةٌ للجنة. واعتَبِرْ ذلك باليهود والنَّصارى ونحوهم؛ فإنهم كما حكى الله عنهم: {وقالوا لَن يَدْخُلَ الجنَّة إلاَّ مَن كان هوداً أو نصارى تلك أمانِيُّهم}، {وكذلك زينَّا لكلِّ أمةٍ عَمَلَهم}، {قل هل ننبِّئُكم بالأخسرينَ أعمالاً الذين ضلَّ سعيُهم في الحياة الدُّنيا وهم يحسَبون أنَّهم يحسنون صنعاً ... } الآية، وقال تعالى عن المنافقين: إنهم يقولون يوم القيامة للمؤمنين: {ألم نَكُن معكُم قالوا بلى ولكنَّكم فتنتُم أنفسَكم وتربَّصْتم وارتَبْتُم وغرَّتكم الأماني حتى جاء أمرُ الله وغرَّكم بالله الغَرورُ}.
وقوله: {ولآمُرَنَّهم فَلَيُبَتِّكُنَّ آذان الأنعام}؛ أي: بتقطيع آذانها، وذلك كالبحيرة والسائبة والوصيلة والحام، فنبَّه ببعض ذلك على جمعيه، وهذا نوعٌ من الإضلال يقتضي تحريم ما أحلَّ الله، أو تحليل ما حرَّم الله، ويلتحق بذلك من الاعتقادات الفاسدة والأحكام الجائرة ما هو من أكبرِ الإضلال. {ولآمُرَنَّهم فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ الله}: وهذا يتناول [تغيير] الخِلقة الظاهرة بالوشم والوَشْر والنَّمْص والتفلُّج للحسن، ونحو ذلك مما أغواهم به الشيطان، فغيَّروا خِلقة الرحمن، وذلك يتضمَّن التسخُّط من خلقتِهِ، والقدح في حكمتِهِ واعتقاد أنَّ ما يصنعونَه بأيديهم أحسنَ من خلقة الرحمن، وعدم الرِّضا بتقديرِهِ وتدبيرِهِ، ويتناول أيضاً تغيير الخِلقة الباطنةِ؛ فإن الله تعالى خَلَقَ عباده حنفاء، مفطورين على قَبول الحقِّ وإيثارِهِ، فجاءتهم الشياطين، فاجتالتْهم عن هذا الخَلْق الجميل، وزيَّنت لهم الشرَّ والشرك والكفر والفسوق والعصيان؛ فإنَّ كلَّ مولود يولد على الفطرة، ولكن أبواه يهوِّدانِه أو ينصِّرانِه أو يمجِّسانِه ونحو ذلك مما يغيِّرون به، ما فَطَرَ الله عليه العباد من توحيدِهِ وحبِّه ومعرفته، فافترستهم الشياطينُ في هذا الموضع افتراس السبع والذئاب للغنم المنفردةِ، لولا لطفُ الله وكرمُهُ بعباده المخلصينَ؛ لجرى عليهم ما جرى على هؤلاء المفتونين، وهذا الذي جرى عليهم من تولِّيهم عن ربِّهم وفاطرهم وتولِّيهم لعدوِّهم المريد لهم الشرَّ من كل وجه، فخسروا الدُّنيا والآخرة، ورجعوا بالخيبة والصفقةِ الخاسرة، ولهذا قال: {ومن يتَّخِذِ الشيطان وليًّا من دون الله فقد خَسِرَ خسراناً مبيناً}، وأيُّ خسارٍ أبين وأعظم ممن خَسِرَ دينه ودُنياه وأوبقته معاصيه وخطاياه فحصل له الشقاءُ الأبديُّ وفاته النعيم السرمديُّ؟! كما أن من تولَّى مولاه، وآثر رضاه، رَبِحَ كلَّ الرِّبح، وأفلح كلَّ الفلاح، وفاز بسعادةِ الدَّارين، وأصبح قرير العين. فلا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت، اللهم! تولَّنا فيمن تولَّيت، وعافنا فيمن عافيت.