ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 119

وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹﴾ؕ
اور یقینا میں انھیں ضرور گمراہ کروں گا اور یقینا میں انھیں ضرور آرزوئیں دلائوں گا اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور چوپائوں کے کان کاٹیں گے اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت بدلیں گے اور جو کوئی شیطان کو اللہ کے سوا دوست بنائے تو یقینا اس نے خسارہ اٹھایا، واضح خسارہ۔ En
اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
En
اور انہیں راه سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دﻻتا رہوں گا اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کی کان چیر دیں، اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں، سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وه صریح نقصان میں ڈوبے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 119) ➊ { وَ لَاُمَنِّيَنَّهُمْ …:} یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ گناہ کرتے رہو اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، ایمان مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے، نماز پڑھنے اور دوسرے نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے، یا ابھی جلدی کیا ہے، مرتے وقت توبہ کر لیں گے، یا جن بزرگوں اور پیروں کا تم دم بھرتے ہو ان کا اللہ پر بڑا زور ہے، تم ان کا دامن تھام لینا وہ تمھیں سیدھے جنت میں لے جائیں گے وغیرہ۔ اس قسم کے تمام خیالات اور گمان شیطانی آرزوؤں میں داخل ہیں۔(قرطبی، ابن کثیر)
➋ { فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ: بَتْكٌ } کا معنی قطع کرنا ہے، یعنی غیر اللہ کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر ان پر سواری کرنا حرام سمجھیں گے، جنھیں بحیرہ و سائبہ وغیرہ کہتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۳)۔
➌ {فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکل و صورت تبدیل کریں گے اور ان کے حلال و حرام ہونے کے احکام بھی بدل دیں گے۔ اس میں رہبانیت(دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے جنگل میں جا رہنا)، قوم لوط کا عمل، مردوں کا خصی ہو کر ہیجڑا بن جانا، عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول کے نام پر مردوں کی نس بندی اور عورتوں کے آپریشن کر کے بچے پیدا ہونے میں رکاوٹیں ڈالنا، عورتوں کو گھروں سے نکال کر ان کے فطری فرائض سے سبکدوش کر کے مردوں کی صف میں کھڑا کر دینا، عورتوں کو مملکت کی سربراہ بنا دینا، خوب صورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، عورتوں کا لباس کم از کم کر کے انھیں ننگا کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر (جلد میں نیل یا سرمہ بھر کر نقش بنوانے والیوں)، چہرے کے بال صاف کرنے والیوں اور کروانے والیوں پر اور حسن کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والیوں پر جو اللہ عزوجل کی خلق (پیدائش) کو بدلتی ہیں۔ پھر فرمایا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہے اور یہ آیت پڑھی: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ [بخاری، التفسیر، باب: «‏‏‏‏وما آتاکم الرسول فخذوہ» ‏‏‏‏: ۴۸۸۶]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

119۔ 1 یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ 119۔ 2 یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔ 119۔ 3 تغیْرُ خَلق اللہ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہی جس کا ابھی ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا چیرنا سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیاء مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر کا مطلب تغییر فطرت ہے یا حلت وحرمت میں تبدیلی ہے وغیرہ اسی تغییر میں مردوں کی نس بند کر کے اور اسی طرح عورتوں کے آپریشن کر کے انہیں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کردینا۔ میک آپ کے نام پر ابروؤں کے بال وغیرہ اکھاڑ کر اپنی صورتوں کو مسخ کرنا اور وشم (یعنی گودنا گدوانا (وغیرہ بھی شامل ہے یہ سب شیطانی کام ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ جانوروں کو اس لئے خصی کرنا کہ ان سے زیادہ انتفاع ہو سکے یا ان کا گوشت زیادہ بہتر ہو سکے یا اسی قسم کا کوئی اور صحیح مقصد ہو تو جائز ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی جانور قربانی میں ذبح فرمائے ہیں۔ اگر جانور کو خصی کرنے کا جواز نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قربانی نہ کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

119۔ اور میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا، انہیں آرزوئیں دلاؤں [158] گا اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان پھاڑ [159] ڈالیں اور انہیں یہ بھی حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ صورت [160] میں تبدیلی کر ڈالیں“ اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا اس نے صریح نقصان اٹھایا
[158] شیطانی فریب کی صورتیں:۔
ایسی جھوٹی آرزوئیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکے گی۔ ماسوائے ان چند دنوں کے جن میں گؤ سالہ پرستی کی تھی۔ یا جیسے یہ کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں لہٰذا ہمیں آخرت میں عذاب نہ ہو گا۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں اور عقائد شیطان ہی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے جس سے انسان گناہوں پر دلیر ہو جاتا ہے اور یہ بات یہودی تک محدود نہیں نصاریٰ اور مسلمان بھی اس معاملہ میں شیطان سے فریب خوردہ ہیں۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے اور مسلمانوں میں سید حضرات کہتے ہیں کہ ہماری خیر سے نسل ہی پاک ہے نیز پیروں کی سفارش کا عقیدہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ پھر یہ آرزوئیں صرف آخرت سے ہی متعلق نہیں ہوتیں، شیطان انسان کو کئی طرح کی دنیوی کامیابیوں، شادمانیوں اور عیش و عشرت کے سبز باغ دکھا کر بسا اوقات اسے گمراہ کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔
[159] جیسا کہ اہل عرب کیا کرتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی دس بچے جن لیتی یا جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہو چکتے تو اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے اور علامت کے طور پر اس کے کان چیر دیتے تھے۔
[160] شکل و صورت میں تبدیلی:۔
اس آیت کے بہت سے مفہوم ہیں مثلاً ایک یہ کہ کوئی مرد ایسی شکل و صورت بنائے کہ وہ عورت معلوم ہونے لگے یا کوئی عورت ایسی ہئیت کذائی بنائے کہ وہ مرد معلوم ہو۔ دوسرے یہ کہ بہروپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تیسرے یہ کہ اپنی ہی شکل و صورت میں اپنی مرضی کے مطابق ایسی قطع و برید کی جائے جس سے وہ خوبصورت بن سکے۔ داڑھی منڈانا بھی اس ضمن میں آتا ہے۔ چوتھے یہ کہ کسی مخلوق سے وہ کام لیا جائے جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا نہیں کیا۔ مثلاً لڑکوں سے لواطت کرنا یا جس کام کے لئے اللہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے، اس سے وہ کام نہ لینا۔ مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول، منصوبہ بندی، اسقاط حمل سے انسانی نسل کو روکنا، خصی کرنا وغیرہ۔ عورتوں کو گھر کے میدان سے باہر لا کر کھیتوں اور معیشت کے میدان میں لانا۔ اور ایسے کام در اصل فطرت کے خلاف جنگ ہے جس کے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ میں بالآخر انسان ہی ناکام رہتا ہے۔ اور یہ سب پٹیاں شیطان ہی پڑھاتا ہے۔ اور ہر زمانہ میں اس کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمْ۠ اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّیَنَّهُمْ اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔
ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ (البقرۃ: 2؍111) کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُ٘لِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ (الانعام: 6؍108) اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔ اور فرمایا ﴿ قُ٘لْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْ٘سَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (الکہف: 18؍103۔104) کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمْ نَؔكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَ٘رَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمْ بِاللّٰهِ الْ٘غَرُوْرُ (الحدید: 57؍14) کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔
﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُ٘نَّ۠ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے) مثلاً بَحِیرَہ سَائِبَہ وَصِیلَہ اور حَام وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔
﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ۠ خَلْ٘قَ اللّٰهِ اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔
ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّؔتَّؔخِذِ الشَّ٘یْطٰ٘نَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُ٘سْرَانًا مُّؔبِیْنًا جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔
اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا النصيب المفروض الذي أقسم لله أنهم يتخذهم ؛ ذَكَرَ ما يريدُ بهم، وما يقصدُه لهم بقوله: {ولأضِلَّنَّهم}؛ أي: عن الصراط المستقيم ضلالاً في العلم وضلالاً في العمل، {ولأمنِّينَّهم}؛ أي: مع الإضلال لأمنِّينَّهم أن ينالوا ما ناله المهتدونَ، وهذا هو الغرور بعينه، فلم يقتصِرْ على مجرَّد إضلالهم، حتى زيَّن لهم ما هم فيه من الضلال، وهذا زيادةُ شرٍّ إلى شرِّهم، حيث عملوا أعمال أهل النار الموجبة للعقوبة، وحسِبوا أنَّها موجبةٌ للجنة. واعتَبِرْ ذلك باليهود والنَّصارى ونحوهم؛ فإنهم كما حكى الله عنهم: {وقالوا لَن يَدْخُلَ الجنَّة إلاَّ مَن كان هوداً أو نصارى تلك أمانِيُّهم}، {وكذلك زينَّا لكلِّ أمةٍ عَمَلَهم}، {قل هل ننبِّئُكم بالأخسرينَ أعمالاً الذين ضلَّ سعيُهم في الحياة الدُّنيا وهم يحسَبون أنَّهم يحسنون صنعاً ... } الآية، وقال تعالى عن المنافقين: إنهم يقولون يوم القيامة للمؤمنين: {ألم نَكُن معكُم قالوا بلى ولكنَّكم فتنتُم أنفسَكم وتربَّصْتم وارتَبْتُم وغرَّتكم الأماني حتى جاء أمرُ الله وغرَّكم بالله الغَرورُ}.

وقوله: {ولآمُرَنَّهم فَلَيُبَتِّكُنَّ آذان الأنعام}؛ أي: بتقطيع آذانها، وذلك كالبحيرة والسائبة والوصيلة والحام، فنبَّه ببعض ذلك على جمعيه، وهذا نوعٌ من الإضلال يقتضي تحريم ما أحلَّ الله، أو تحليل ما حرَّم الله، ويلتحق بذلك من الاعتقادات الفاسدة والأحكام الجائرة ما هو من أكبرِ الإضلال. {ولآمُرَنَّهم فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ الله}: وهذا يتناول [تغيير] الخِلقة الظاهرة بالوشم والوَشْر والنَّمْص والتفلُّج للحسن، ونحو ذلك مما أغواهم به الشيطان، فغيَّروا خِلقة الرحمن، وذلك يتضمَّن التسخُّط من خلقتِهِ، والقدح في حكمتِهِ واعتقاد أنَّ ما يصنعونَه بأيديهم أحسنَ من خلقة الرحمن، وعدم الرِّضا بتقديرِهِ وتدبيرِهِ، ويتناول أيضاً تغيير الخِلقة الباطنةِ؛ فإن الله تعالى خَلَقَ عباده حنفاء، مفطورين على قَبول الحقِّ وإيثارِهِ، فجاءتهم الشياطين، فاجتالتْهم عن هذا الخَلْق الجميل، وزيَّنت لهم الشرَّ والشرك والكفر والفسوق والعصيان؛ فإنَّ كلَّ مولود يولد على الفطرة، ولكن أبواه يهوِّدانِه أو ينصِّرانِه أو يمجِّسانِه ونحو ذلك مما يغيِّرون به، ما فَطَرَ الله عليه العباد من توحيدِهِ وحبِّه ومعرفته، فافترستهم الشياطينُ في هذا الموضع افتراس السبع والذئاب للغنم المنفردةِ، لولا لطفُ الله وكرمُهُ بعباده المخلصينَ؛ لجرى عليهم ما جرى على هؤلاء المفتونين، وهذا الذي جرى عليهم من تولِّيهم عن ربِّهم وفاطرهم وتولِّيهم لعدوِّهم المريد لهم الشرَّ من كل وجه، فخسروا الدُّنيا والآخرة، ورجعوا بالخيبة والصفقةِ الخاسرة، ولهذا قال: {ومن يتَّخِذِ الشيطان وليًّا من دون الله فقد خَسِرَ خسراناً مبيناً}، وأيُّ خسارٍ أبين وأعظم ممن خَسِرَ دينه ودُنياه وأوبقته معاصيه وخطاياه فحصل له الشقاءُ الأبديُّ وفاته النعيم السرمديُّ؟! كما أن من تولَّى مولاه، وآثر رضاه، رَبِحَ كلَّ الرِّبح، وأفلح كلَّ الفلاح، وفاز بسعادةِ الدَّارين، وأصبح قرير العين. فلا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت، اللهم! تولَّنا فيمن تولَّيت، وعافنا فيمن عافيت.