ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 120

یَعِدُہُمۡ وَ یُمَنِّیۡہِمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲۰﴾
وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔ En
وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے
En
وه ان سے زبانی وعدے کرتا رہے گا، اور سبز باغ دکھاتا رہے گا، (مگر یاد رکھو!) شیطان کے جو وعدے ان سے ہیں وه سراسر فریب کاریاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 121،120) ابلیس کے پاس جھوٹے وعدوں، غلط آرزوؤں اور وسوسوں کے سوا کچھ نہیں، حالانکہ اس کے سب وعدے جھوٹے اور سراسر دھوکا ہیں، بظاہر خوش نما، اندر سے مہلک ہیں۔ دیکھیے سورۂ فاطر (6،5) اور سورۂ ابراہیم (۲۳) اور ظاہر ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانتے ہوئے پھر اس کے وعدوں پر اعتبار اور غلط آرزوؤں کو سچ سمجھنے کا نتیجہ جہنم کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

120۔ شیطان ان سے وعدہ کرتا اور امیدیں [161] دلاتا ہے۔ اور جو وعدے بھی شیطان انہیں دیتا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے
[161] مثلاً شیطان کا یہ پٹی پڑھانا کہ توحید کے ہوتے ہوئے باقی سب گناہ معاف ہو جائیں گے اور اس طرح گناہوں پر دلیر بنا دینا یا اولیاء اللہ کی ان کے مریدوں کے حق میں سفارش کر کے چھڑا لینے کے عقیدہ کو پختہ کر دینا، یا یہ کہ ابھی کافی زندگی باقی ہے۔ نیک اعمال کے لئے اور توبہ کے لئے ابھی جلدی بھی کیا پڑی ہے۔ ایسے سب وعدے اور امیدیں شیطان انسان کو فریب میں مبتلا رکھنے کے لئے کرتا رہتا ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں بے جا آرزوئیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ جن سے انسان کی حرص اور طول امل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جوں جوں ابن آدم بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور خواہشیں جواں ہوتی رہتی ہیں اور یہی دو باتیں تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔ طول امل کی وجہ سے انسان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ اسے کسی وقت اس دنیا سے رخصت بھی ہونا ہے۔ اپنی موت سے بھول سے یاد نہیں آتی۔ حالانکہ ایسی آرزوئیں کسی کو ساری عمر نہ حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہوں گی۔ ایسی ہی آرزؤں کی تکمیل لئے وہ کئی قسم کے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے تا آنکہ موت اسے یکدم آکر دبوچ لیتی ہے۔ اور اس کی طویل خواہشات کے سلسلہ کو منقطع کر دیتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔