ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 119

وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹﴾ؕ
اور یقینا میں انھیں ضرور گمراہ کروں گا اور یقینا میں انھیں ضرور آرزوئیں دلائوں گا اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور چوپائوں کے کان کاٹیں گے اور یقینا میں انھیں ضرور حکم دوں گا تو یقینا وہ ضرور اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت بدلیں گے اور جو کوئی شیطان کو اللہ کے سوا دوست بنائے تو یقینا اس نے خسارہ اٹھایا، واضح خسارہ۔ En
اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا
En
اور انہیں راه سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دﻻتا رہوں گا اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کی کان چیر دیں، اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں، سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کرشیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وه صریح نقصان میں ڈوبے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 119) ➊ { وَ لَاُمَنِّيَنَّهُمْ …:} یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ گناہ کرتے رہو اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، ایمان مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے، نماز پڑھنے اور دوسرے نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے، یا ابھی جلدی کیا ہے، مرتے وقت توبہ کر لیں گے، یا جن بزرگوں اور پیروں کا تم دم بھرتے ہو ان کا اللہ پر بڑا زور ہے، تم ان کا دامن تھام لینا وہ تمھیں سیدھے جنت میں لے جائیں گے وغیرہ۔ اس قسم کے تمام خیالات اور گمان شیطانی آرزوؤں میں داخل ہیں۔(قرطبی، ابن کثیر)
➋ { فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ: بَتْكٌ } کا معنی قطع کرنا ہے، یعنی غیر اللہ کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر ان پر سواری کرنا حرام سمجھیں گے، جنھیں بحیرہ و سائبہ وغیرہ کہتے تھے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۳)۔
➌ {فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکل و صورت تبدیل کریں گے اور ان کے حلال و حرام ہونے کے احکام بھی بدل دیں گے۔ اس میں رہبانیت(دنیا میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرکے جنگل میں جا رہنا)، قوم لوط کا عمل، مردوں کا خصی ہو کر ہیجڑا بن جانا، عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول کے نام پر مردوں کی نس بندی اور عورتوں کے آپریشن کر کے بچے پیدا ہونے میں رکاوٹیں ڈالنا، عورتوں کو گھروں سے نکال کر ان کے فطری فرائض سے سبکدوش کر کے مردوں کی صف میں کھڑا کر دینا، عورتوں کو مملکت کی سربراہ بنا دینا، خوب صورتی کے لیے ابروؤں کے بال اکھاڑنا، جلد میں نیل وغیرہ بھر کر نقش و نگار بنانا، دانت باریک کروانا، سر پر مصنوعی بال لگوانا، مردوں کا داڑھی منڈوانا، عورتوں کا لباس کم از کم کر کے انھیں ننگا کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب شیطانی کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر (جلد میں نیل یا سرمہ بھر کر نقش بنوانے والیوں)، چہرے کے بال صاف کرنے والیوں اور کروانے والیوں پر اور حسن کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والیوں پر جو اللہ عزوجل کی خلق (پیدائش) کو بدلتی ہیں۔ پھر فرمایا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ اللہ کی کتاب میں بھی ہے اور یہ آیت پڑھی: «وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا» [الحشر: ۷] جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو، جس سے منع کر دے اس سے باز آ جاؤ۔ [بخاری، التفسیر، باب: «‏‏‏‏وما آتاکم الرسول فخذوہ» ‏‏‏‏: ۴۸۸۶]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

119۔ 1 یہ وہ باطل امیدیں ہیں جو شیطان کے وسوسوں اور دخل اندازی سے پیدا ہوتی اور انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ 119۔ 2 یہ بحیرہ اور سائبہ جانوروں کی علامتیں اور صورتیں ہیں۔ مشرکین ان کو بتوں کے نام وقف کرتے تو شناخت کے لئے ان کا کان وغیرہ چیر دیا کرتے تھے۔ 119۔ 3 تغیْرُ خَلق اللہ (اللہ کی تخلیق کو بدلنا) کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہی جس کا ابھی ذکر ہوا یعنی کان وغیرہ کاٹنا چیرنا سوراخ کرنا، ان کے علاوہ اور کئی صورتیں ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج، پتھر اور آگ وغیرہ اشیاء مختلف مقاصد کے لئے بنائی ہیں، لیکن مشرکین نے ان کے مقصد تخلیق کو بدل کر ان کو معبود بنا لیا۔ یا تغییر کا مطلب تغییر فطرت ہے یا حلت وحرمت میں تبدیلی ہے وغیرہ اسی تغییر میں مردوں کی نس بند کر کے اور اسی طرح عورتوں کے آپریشن کر کے انہیں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم کردینا۔ میک آپ کے نام پر ابروؤں کے بال وغیرہ اکھاڑ کر اپنی صورتوں کو مسخ کرنا اور وشم (یعنی گودنا گدوانا (وغیرہ بھی شامل ہے یہ سب شیطانی کام ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ البتہ جانوروں کو اس لئے خصی کرنا کہ ان سے زیادہ انتفاع ہو سکے یا ان کا گوشت زیادہ بہتر ہو سکے یا اسی قسم کا کوئی اور صحیح مقصد ہو تو جائز ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی جانور قربانی میں ذبح فرمائے ہیں۔ اگر جانور کو خصی کرنے کا جواز نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قربانی نہ کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

119۔ اور میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا، انہیں آرزوئیں دلاؤں [158] گا اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان پھاڑ [159] ڈالیں اور انہیں یہ بھی حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ صورت [160] میں تبدیلی کر ڈالیں“ اور جس شخص نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا اس نے صریح نقصان اٹھایا
[158] شیطانی فریب کی صورتیں:۔
ایسی جھوٹی آرزوئیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھو ہی نہیں سکے گی۔ ماسوائے ان چند دنوں کے جن میں گؤ سالہ پرستی کی تھی۔ یا جیسے یہ کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں لہٰذا ہمیں آخرت میں عذاب نہ ہو گا۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں اور عقائد شیطان ہی خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے جس سے انسان گناہوں پر دلیر ہو جاتا ہے اور یہ بات یہودی تک محدود نہیں نصاریٰ اور مسلمان بھی اس معاملہ میں شیطان سے فریب خوردہ ہیں۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے اور مسلمانوں میں سید حضرات کہتے ہیں کہ ہماری خیر سے نسل ہی پاک ہے نیز پیروں کی سفارش کا عقیدہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ پھر یہ آرزوئیں صرف آخرت سے ہی متعلق نہیں ہوتیں، شیطان انسان کو کئی طرح کی دنیوی کامیابیوں، شادمانیوں اور عیش و عشرت کے سبز باغ دکھا کر بسا اوقات اسے گمراہ کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔
[159] جیسا کہ اہل عرب کیا کرتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی دس بچے جن لیتی یا جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہو چکتے تو اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے اور علامت کے طور پر اس کے کان چیر دیتے تھے۔
[160] شکل و صورت میں تبدیلی:۔
اس آیت کے بہت سے مفہوم ہیں مثلاً ایک یہ کہ کوئی مرد ایسی شکل و صورت بنائے کہ وہ عورت معلوم ہونے لگے یا کوئی عورت ایسی ہئیت کذائی بنائے کہ وہ مرد معلوم ہو۔ دوسرے یہ کہ بہروپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تیسرے یہ کہ اپنی ہی شکل و صورت میں اپنی مرضی کے مطابق ایسی قطع و برید کی جائے جس سے وہ خوبصورت بن سکے۔ داڑھی منڈانا بھی اس ضمن میں آتا ہے۔ چوتھے یہ کہ کسی مخلوق سے وہ کام لیا جائے جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا نہیں کیا۔ مثلاً لڑکوں سے لواطت کرنا یا جس کام کے لئے اللہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے، اس سے وہ کام نہ لینا۔ مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا، برتھ کنٹرول، منصوبہ بندی، اسقاط حمل سے انسانی نسل کو روکنا، خصی کرنا وغیرہ۔ عورتوں کو گھر کے میدان سے باہر لا کر کھیتوں اور معیشت کے میدان میں لانا۔ اور ایسے کام در اصل فطرت کے خلاف جنگ ہے جس کے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے ہیں اور فطرت کے خلاف جنگ میں بالآخر انسان ہی ناکام رہتا ہے۔ اور یہ سب پٹیاں شیطان ہی پڑھاتا ہے۔ اور ہر زمانہ میں اس کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔