ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 116

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۱۶﴾
بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کے ساتھ شریک بنائے تو یقینا وہ بھٹک گیا، بہت دور بھٹکنا۔ En
خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا
En
اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 116) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ …:} پچھلی آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو رسول کی مخالفت کرتا ہے اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرتا ہے۔ ایسا وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنے کفر پر اصرار کرے اور دین اسلام قبول نہ کرے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے کفر پر اڑنے کو شرک قرار دیا اور صراحت فرما دی کہ اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص دین سلام قبول کرلے، اللہ کی توحید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دے، اس کا عملی ثبوت دے اور ایسے فعل سے بچا رہے جس سے آدمی ملت اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، تو پھر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے یا سزا دے کر جنت میں داخل کر دے۔ مگر جو شخص اسلام ہی قبول نہ کرے، یا اسلام لا کر صریح ارتداد والے اعمال کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی نہیں، کیونکہ اسے معافی دینے کا مقصد باغی اور غدار کو معافی دینا ہے جو اپنی بغاوت اور غدر پر قائم ہو۔ بغاوت کو کوئی معمولی سے معمولی بادشاہ بھی برداشت نہیں کرتا، تو بادشاہوں کا بادشاہ، جس کی غیرت بے پناہ ہے، وہ بغاوت کو کیسے معاف کر سکتا ہے؟ معلوم ہوا ابدی جہنمی صرف کفار و مشرکین ہوں گے، مسلمان گناہ گار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا رد نکلتا ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب مسلم کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (۴۸)۔
➋ اوپر سے منافقوں کا ذکر آ رہا ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو پسند نہ کرتے اور جدا راستے پر چلتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشتا، تو معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمول بنایا جائے تو یہ شرک ہے، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے شرک ہے، اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

116۔ اللہ کے ساتھ اگر کسی کو شریک بنایا جائے تو یہ گناہ وہ کبھی معاف نہیں کرے گا اور اس کے علاوہ جو دوسرے گناہ ہیں انہیں وہ جسے چاہے [154] معاف کر دے۔ اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک بنایا وہ گمراہی میں دور تک چلا گیا
[154] اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
1۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔
کیسے گناہوں کی معافی کی توقع ہو سکتی ہے:۔
دوسرے گناہوں کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ معاف ہو جائیں گے۔ اللہ جس کو چاہے اور جونسا گناہ چاہے معاف کر دینے کا اختیار رکھتا ہے اور چاہے تو ان پر مواخذہ بھی کر سکتا ہے۔ گناہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں یا ایک ہی گناہ میں دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کا حق، دوسرے بندوں کا حق، اللہ جسے چاہے اپنا حق معاف کر دے اور جسے چاہے نہ کرے مگر بندوں کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے تب ہی اللہ اپنا حق بھی معاف کرے گا۔ بندوں کا حق خواہ اس دنیا میں ادا کر دیا جائے یا ان سے معاف کرا لیا جائے یا اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے حقدار کو بدلہ اپنی طرف سے ادا کر دے۔ بہرحال بندوں کے حقوق کی معافی کے بعد اللہ کے حق کی معافی کی توقع ہو سکتی ہے۔
3۔ اور تیسری بات یہ کہ شرک ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ شرک کو ہی ایک دوسرے مقام پر ’ظلم عظیم‘ کہا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں ۱؎ [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9]‏‏‏‏ اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» ۱؎ [53-النجم:19]‏‏‏‏ ’ کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا ‘ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:19]‏‏‏‏ ’ اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی]‏‏‏‏ باز پرس کی جائے گی۔ ‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» ۱؎ [36-يس:60]‏‏‏‏ ’ اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ ‘ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے ۱؎ [صحیح مسلم:2116]‏‏‏‏ اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2117]‏‏‏‏
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ’ گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے ‘ میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے «وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [59-الحشر:7]‏‏‏‏ پڑھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5931]‏‏‏‏
بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے «فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:30]‏‏‏‏ ’ یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ ‘ اس سے پچھلے (‏‏‏‏آخری) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو۔
بخاری و مسلم میں ہے ’ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ‘ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں ۱؎ [صحیح بخاری:4775]‏‏‏‏
صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے ’ میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا۔‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏ شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے۔
چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخر جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا۔
ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خودبخود بہنے لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقیناً ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے۔
’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:867]‏‏‏‏