تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت میں ہر قسم کے گناہوں کے نتائج بد سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کی جائے۔ { ”سُوْٓءًا“ } وہ گناہ جن سے انسان اپنے علاوہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جیسے جھوٹی شہادت اور بے گناہ کو متہم کرنا اور {”اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ“} سے ان گناہوں کی طرف اشارہ ہے جن سے انسان صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسے نماز چھوڑنا اور شراب پینا وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
«ويوم الوشاح من تعاجيب ربنا الا انه من بلدة الكفر انجاني»
”کمر بند کا دن ہمارے پروردگار کے عجائبات میں سے ہے۔ اسی واقعہ نے تو مجھے کفر کی سرزمین سے نجات بخشی تھی۔“
[بخاری۔ کتاب الصلٰوۃ۔ باب نوم المرأۃ فی المسجد]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے دروازے پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آ جاتا تھا جو اسے ادا کرنا پڑتا اور انہیں یہ بھی حکم تھا کہ ان کے کپڑے پر اگر پیشاب لگ جائے تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے اس امت پر آسانی کر دی پانی سے دھو لینا ہی کپڑے کی پاکی رکھی اور توبہ کر لیناہی گناہ کی معافی۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے استغفار کرے تو اللہ اس کے اس گناہ کو بخش دیتا ہے
پھر آپ نے یہ آیت اور «وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:135] کی تلاوت کی۔ ‘ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے مسند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کر دیا ہے اور کچھ بیان سورۃ آل عمران کی تفسیر میں بھی گذرا ہے۔
پھر فرمایا گناہ کرنے والا اپنا ہی برا کرتا ہے جیسے اور جگہ ہے کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ایک دوسرے کو نفع نہ پہنچا سکے گا، ہر شخص انپے کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی نہ ہوگا جو بوجھ اٹھائے، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے خلاف ہے کہ ایک گناہ کرے اور دوسرا پکڑا جائے۔
پھر فرماتا ہے جو خود برا کام کر کے کسی بےگناہ کے سر تھوپ دے جیسے بنوابیرق نے سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے جیسے بعض اور مفسرین کا خیال ہے کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے نے اس بےگناہ شخص کے ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظالم تھے، آیت گو شان نزول کے اعتبار سے خاص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے جو بھی ایسا کرے وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {ومَن يعملْ سوءاً أو يَظْلِمْ نفسَه ثم يستغفرِ الله يجدِ الله غفوراً رحيماً}؛ أي: من تجرَّأ على المعاصي واقتحم على الإثم، ثم استغفر الله استغفاراً تامًّا يستلزم الإقرار بالذنب والندم عليه والإقلاع والعزم على أن لا يعود؛ فهذا قد وَعَدَه من لا يُخْلِف الميعاد بالمغفرة والرحمة، فيغفر له ما صدر منه من الذَّنب، ويزيل عنه ما ترتَّب عليه من النقص والعيب، ويعيد إليه ما تقدَّم من الأعمال الصالحة، ويوفِّقه فيما يستقبله من عمرِهِ، ولا يجعل ذنبه حائلاً عن توفيقِهِ؛ لأنَّه قد غفره، وإذا غفره؛ غفر ما يترتَّب عليه.
واعلم أنَّ عمل السوء عند الإطلاق يشملُ سائر المعاصي الصغيرة والكبيرة، وسُمِّي سوءاً لكونِهِ يسوءُ عامله بعقوبته، ولكونِهِ في نفسه سيئاً غير حسن، وكذلك ظلم النفس عند الإطلاق يَشْمَلُ ظلمها بالشِّرك فما دونَه، ولكن عند اقتران أحدِهما بالآخرِ قد يُفَسَّرُ كلُّ واحدٍ منهما بما يناسبه، فيفسَّر عمل السوء هنا بالظُّلم الذي يسوء الناس، وهو ظلمهم في دمائهم وأموالهم وأعراضهم، ويفسَّر ظلم النفس بالظُّلم والمعاصي التي بين الله وبين عبده، وسمي ظلم النفس ظلماً؛ لأن نفس العبد ليست مُلكاً له يتصرَّف فيها بما يشاء، وإنَّما هي ملك لله تعالى، قد جعلها أمانةً عند العبد، وأمره أن يُقيمها على طريق العدل بإلزامها للصراط المستقيم علماً وعملاً، فيسعى في تعليمها ما أمر به، ويسعى في العمل بما يجب، فسعيه في غير هذا الطريق ظلمٌ لنفسه وخيانةٌ وعدول بها عن العدل الذي ضده الجور والظلم.