تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لیے مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے۔
میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالاخانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے۔
صبح میرے چچا میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور سیدنا لبید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے، ہم جانتے تھے کہ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔
سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے۔
ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئیے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا۔
پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا۔
اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا «واَللهُ اْلمـُسـَتعَانُ» اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس «خائنین» سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3036،قال الشيخ الألباني:حسن]
بشیر یہ آیتیں سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی آیتیں «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ» ۱؎ [4-النساء:115] سے «ضَلَالًا بَعِيدًا» ۱؎ [4-النساء:116] تک نازل ہوئیں اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر ایک کی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی۔ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔
ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے،۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ها أنتم هؤلاء جادَلْتُم عنهم في الحياة الدُّنيا فمن يجادِلُ الله عنهم يوم القيامة أم من يكونُ عليهم وكيلاً}؛ أي: هَبْكم جادلتم عنهم في هذه الحياة الدنيا ودَفَعَ عنهم جدالُكم بعضَ ما يحذَرون من العارِ والفضيحةِ عند الخَلْق؛ فماذا يُغني عنهم وينفعُهم؟! ومَن يجادلُ الله عنهم يوم القيامة حين تتوجَّه عليهم الحجَّة وتشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجُلُهم بما كانوا يعملون؟! يومئذٍ يوفِّيهم الله دينهم الحق ويعلمون أنَّ الله هو الحق المبين؛ فمن يجادلُ عنهم من يعلم السِّرَّ وأخفى ومن أقام عليهم من الشهود ما لا يمكن معه الإنكارُ؟
وفي هذه الآية الإرشاد إلى المقابلة بين ما يُتَوَهَّم من مصالح الدُّنيا المترتبة على ترك أوامر الله أو فعل مناهيه وبين ما يَفوتُ من ثواب الآخرة أو يَحْصُلُ من عقوباتِها، فيقولُ من أمرتْه نفسُهُ بتركِ أمر الله: ها أنت تركتَ أمره كسلاً وتفريطاً؛ فما النفع الذي انتفعت به؟ وماذا فاتك من ثواب الآخرة؟ وماذا ترتَّب على هذا الترك من الشقاء والحرمان والخيبة والخسران؟ وكذلك إذا دعته نفسُه إلى ما تشتهيه من الشَّهوات المحرَّمة؛ قال لها: هبكِ فعلتِ ما اشتهيتِ؛ فإنَّ لذَّته تنقضي ويعقُبها من الهموم والغموم والحَسَرات وفوات الثواب وحصول العقاب ما بعضُه يكفي العاقل في الإحجام عنها، وهذا من أعظم ما ينفع العبدَ تدبُّره، وهو خاصَّة العقل الحقيقي؛ بخلاف من يدَّعي العقل وليس كذلك؛ فإنَّه بجهله وظلمِهِ يؤثر اللَّذَّة الحاضرة والراحة الراهنة، ولو ترتَّب عليها ما ترتب. والله المستعان.