وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۰﴾٪
اور وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہجرت کرے، وہ زمین میں پناہ کی بہت سی جگہ اور بڑی وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے موت پالے تو بے شک اس کا اجر اللہ پر ثابت ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے
En
جو کوئی اللہ کی راه میں وطن کو چھوڑے گا، وه زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی، اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف نکل کھڑا ہوا، پھر اسے موت نے آ پکڑا تو بھی یقیناً اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ﺛابت ہو گیا، اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 100) ➊ {مُرٰغَمًا:} یہ اسم ظرف ہے، یعنی {”مَوْضِعُ رَغْمِ الْاَعْدَاءِ“} دشمنوں کی ناک خاک آلود ہونے کی جگہ، جس سے دشمن ذلیل ہوں۔ { ”مُرٰغَمًا“ } کے معنی جگہ، جائے قیام اور جائے پناہ بھی آتے ہیں۔ ہجرت کر کے نکلنے کے بعد حاصل ہونے والی جائے قیام کو {”مُرٰغَمًا“} اس لیے فرمایا کہ وہ تمام دشمنوں کی ناک کو خاک آلود کر دیتی ہے۔ (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دوسرے مقامات پر دارالکفرمیں زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے، لیکن یہ آیت عام ہے اور متعدد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا اور اس کی طرف سے بڑی وسعت بھی ملے گی۔
➋ {وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ …:} اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خلوص نیت سے ہجرت کرتے ہیں مگر راستے میں ان کا وقت آخر آجاتا ہے تو ان کا اجر اللہ پر ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ اصل مدار نیت پر ہے، جیسا کہ مشہور حدیث ہے: [إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۱] ”تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔“ چنانچہ خالد بن حزام رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے نکلے، انھیں ایک سانپ نے ڈس لیا تو ان کے بارے میں یہ آیت اتری: «{ وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ }» [ابن أبی حاتم: 328/4، ح: ۵۸۸۸، حسن] سو آدمیوں کو قتل کر کے ہجرت کرنے والے شخص کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے۔
➌ ہجرت کے معنی ہیں دارالحرب سے دار السلام کی طرف منتقل ہونا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فرض تھی اور اس کی فرضیت تا قیامت باقی ہے۔ جس ہجرت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ] (فتح کے بعد ہجرت نہیں) فرما کر منسوخ فرمایا ہے، وہ مکہ یا کسی بھی جگہ سے مدینہ کی طرف ہجرت تھی۔ اسی طرح اہل بدعت کی آبادی سے بھی ہجرت کرنی چاہیے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی شخص کے لیے ایسے مقام پر رہنا جائز نہیں جہاں سلف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔“ علی ہذا القیاس جس علاقے میں حلال روزی نہ ملتی ہو، یا دین میں فتنے کا خوف ہو وہاں سے بھی ہجرت کرنی چاہیے۔ (قرطبی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَنَا بَرِيْءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ] ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو۔“ [أبو داوٗد، الجہاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود: ۲۶۴۵]
➋ {وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ …:} اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خلوص نیت سے ہجرت کرتے ہیں مگر راستے میں ان کا وقت آخر آجاتا ہے تو ان کا اجر اللہ پر ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ اصل مدار نیت پر ہے، جیسا کہ مشہور حدیث ہے: [إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ] [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۱] ”تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔“ چنانچہ خالد بن حزام رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے نکلے، انھیں ایک سانپ نے ڈس لیا تو ان کے بارے میں یہ آیت اتری: «{ وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ }» [ابن أبی حاتم: 328/4، ح: ۵۸۸۸، حسن] سو آدمیوں کو قتل کر کے ہجرت کرنے والے شخص کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے۔
➌ ہجرت کے معنی ہیں دارالحرب سے دار السلام کی طرف منتقل ہونا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فرض تھی اور اس کی فرضیت تا قیامت باقی ہے۔ جس ہجرت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ] (فتح کے بعد ہجرت نہیں) فرما کر منسوخ فرمایا ہے، وہ مکہ یا کسی بھی جگہ سے مدینہ کی طرف ہجرت تھی۔ اسی طرح اہل بدعت کی آبادی سے بھی ہجرت کرنی چاہیے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی شخص کے لیے ایسے مقام پر رہنا جائز نہیں جہاں سلف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔“ علی ہذا القیاس جس علاقے میں حلال روزی نہ ملتی ہو، یا دین میں فتنے کا خوف ہو وہاں سے بھی ہجرت کرنی چاہیے۔ (قرطبی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَنَا بَرِيْءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيْمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِيْنَ] ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو۔“ [أبو داوٗد، الجہاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود: ۲۶۴۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے دوری اختیار کرنے کی تلقین ہے مُرَاغَمَا کے معنی جگہ، جائے قیام یا جائے پناہ اور سَعَۃَ سے رزق یا جگہوں اور ملکوں کی کشادگی و فراخی ہے۔ 10۔ 2 اس میں نیت کے مطابق اجر وثواب ملنے کی یقین دہانی ہے چاہے موت کی وجہ سے وہ اس عمل کے مکمل کرنے سے قاصر رہا ہو۔ جیسا کہ گزشتہ آیتوں میں سے ایک سو افراد کے قاتل کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ جو توبہ کے لئے نیکوں کی ایک بستی میں جا رہا تھا کہ راستے میں موت آگئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے نیکوں کی بستی کو نسبت دوسری بستی کے قریب تر کردیا جس کی وجہ سے اسے ملائکہ رحمت اپنے ساتھ لے گئے، اسی طرح جو شخص ہجرت کی نیت سے گھر سے نکلے لیکن راستے میں اسے موت آجائے تو اسے اللہ کی طرف سے ہجرت کا ثواب ملے گا، گو ابھی وہ ہجرت کے عمل کو پایہ تکمیل تک بھی نہ پہنچ سکا ہو جیسے حدیث میں بھی آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (انما الاعمال بالنیات) عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے " وانمالکل امریء مانویٰ) آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی " جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہجرت کی پس، اس کی ہجرت ان ہی کے لئے ہے اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی نیت سے ہجرت کی پس اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے جس نیت سے اس نے ہجرت کی " (صحیح بخاری، باب بدء الوحی ومسلم، کتاب الامارۃ) یہ حکم عام ہے جو دین کے ہر کام کو شامل ہے۔ یعنی اس کو کرتے وقت اللہ کی رضا پیش نظر ہوگی تو وہ مقبول، ورنہ مردود ہوگا)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت [136] کرے گا وہ زمین میں ہجرت کے لیے بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف آپ نے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے نکلے پھر (راہ ہی میں) اسے موت آلے تو اللہ کے ہاں [137] اس کا اجر ثابت ہو چکا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[136] ہجرت کے مقاصد اور ضرورت:۔
ہجرت اس لیے فرض کی گئی تھی کہ ایک تو مسلمان کفار کے تشدد سے آزاد ہو کر اپنے اسلامی شعائر آزادی کے ساتھ بجا لا سکیں۔ اور دوسرے اس لیے کہ مدینہ کی طرف ہجرت کر کے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور پورے خطہ عرب میں اسلام کا بول بالا ہو گیا تو پھر ہجرت کی ضرورت نہ رہی۔ جیسا کہ کئی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب تا قیامت ہجرت فرض نہیں۔ بلکہ جب بھی دوبارہ ایسا موقع پیدا ہو جائے کہ کسی علاقہ میں مسلمانوں کو اپنے شعائر اسلام کو بجا لانا بھی مشکل ہو رہا ہو تو مسلمانوں کو کوئی ایسا خطہ تلاش کرنا چاہیے جہاں انہیں آزادی سے شعائر اسلام بجا لانے کی سہولت میسر ہو اور اپنے میں سے کوئی امیر منتخب کر کے اس طرف ہجرت کرنا اور اپنی اجتماعی قوت کو مرکوز کرنا اور پھر جہاد کرنا سب کچھ فرض ہو جائے گا۔ بلکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ہجرت بھی جہاد کا ہی ایک حصہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس علاقہ میں اسلام کا غلبہ ہو جائے تو وہاں بھی ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔
دار الکفر میں رہنے کی رخصت کی شرائط:۔
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کا دار الکفر میں رہنے کا جواز صرف دو صورتوں میں ہے ایک یہ کہ کوئی شخص اس خطہ میں اسلام کو غالب کرنے اور نظام کفر کو نظام اسلام میں تبدیل کرنے کی جد و جہد میں لگا رہے۔ جیسا کہ انبیاء علیہم السلام اور ان کے ابتدائی پیرو کرتے رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ فی الواقع وہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پاتا ہو۔ اور بیزاری اور نفرت سے مجبوراً وہاں رہ رہا ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ دار الکفر میں رہنا مستقل معصیت ہے۔
[137] اللہ کا غفور الرحیم ہونا:۔
اس آیت میں صرف ہجرت کے سفر کا ذکر ہے۔ جبکہ کئی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ کی راہ میں کوئی سفر کیا جائے خواہ یہ ہجرت کا سفر ہو یا جہاد کا سفر ہو یا حج و عمرہ کا سفر ہو یا دینی علوم کے حصول کے لیے سفر ہو، اور دوران سفر حصول مقصد سے بعد یا پہلے موت واقع ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا پورا پورا اجر عطا کر دیتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے ننانوے قتل کیے تھے۔ پھر وہ اپنے متعلق مسئلہ پوچھنے لگا۔ وہ ایک راہب کے ہاں گیا اور اسے پوچھا: کیا میرے لیے (توبہ کی) گنجائش ہے؟“ اس نے کہا ”نہیں“ تو اس نے راہب کو بھی مار ڈالا (اور سو پورے کر دیے) پھر لوگوں سے یہی مسئلہ پوچھتا رہا۔ کسی آدمی نے اسے کہا کہ فلاں فلاں بستی میں (توبہ کے لیے) چلے جاؤ۔ راستہ ہی میں اسے موت نے آلیا۔ اس نے اپنا سینہ بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب رحمت کے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ جس بستی کی طرف وہ جا رہا تھا اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ نزدیک ہو جا اور جس بستی سے جا رہا تھا اسے حکم دیا کہ دور ہو جا۔ اور فرشتوں سے فرمایا کہ فاصلہ ناپ لو۔ چنانچہ جہاں اسے جانا تھا وہ بستی ایک بالشت بھر قریب نکلی تو اسے بخش دیا گیا۔
[بخاری، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل]
[بخاری، کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ہجرت کی ترغیب دیتے ہوئے اور مشرکوں سے الگ ہونے کی ہدایات کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والا ہراساں نہ ہو وہ جہاں جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسباب پناہ تیار کر دے گا اور وہ بہ آرام وہاں اقامت کر سکے گا «مراغم» کے ایک معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بھی ہیں۔
مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔
ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:54] یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
مجاہد فرماتے ہیں وہ اپنے دکھ سے بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے گا، امن کے بہت سے اسباب اسے مل جائیں گے، دشمنوں کے شر سے بچ جائے گا اور وہ روزی بھی پائے گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے ملے گی اس کی فقیری تونگری سے بدل جائے۔
ارشاد ہوتا ہے جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے گھر سے نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اسے موت آ گئی اسے بھی ہجرت کا کامل ثواب مل گیا { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہ ہے جو اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضا مندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اسے اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے گا بلکہ اس کی ہجرت اسی طرف سمجھی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:54] یہ حدیث عام ہے ہجرت وغیرہ تمام اعمال پر مشتمل ہے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کے بارے میں ہے { جس نے ننانوے قتل کئے تھے پھر ایک عابد کو قتل کر کے سو پورے کئے پھر ایک عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا تیری توبہ کے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تو اپنی بستی سے ہجرت کر کے فلاں شہر چلا جا جہاں اللہ کے عابد بندے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہجرت کر کے اس طرف چلا راستہ میں ہی تھا جو موت آ گئی۔
رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3470]
ایک روایت میں ہے کہ { موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2766]
رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اس کے بارے میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے ہجرت کر کے مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں پھر انہیں حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے یہ شخص قریب ہو اس کے رہنے والوں میں اسے ملا دیا جائے پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے رحمت کے فرشتے لے گئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3470]
ایک روایت میں ہے کہ { موت کے وقت یہ اپنے سینے کے بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2766]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ’ جو شخص اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں انگلیوں یعنی کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی اور انگھوٹھے کو ملا کر کہا۔ پھر فرمایا کہاں ہیں مجاہد؟ پھر وہ اپنی سواری پر سے گر پڑا یا اسے کسی جانور نے کاٹ لیا یا اپنی موت مر گیا تو اس کا ہجرت کا ثواب اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ ‘ راوی کہتے ہیں اپنی موت مرنے کے لیے جو کلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا واللہ میں نے اس کلمہ کو آپ سے پہلے کسی عربی کی زبانی نہیں سنا اور جو شخص غضب کی حالت میں قتل کیا گیا وہ جگہ کا مستحق ہو گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:36/4:ضعیف]
سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن]
یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا خالد بن خرام رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے لیکن راہ میں ہی انہیں ایک سانپ نے ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں چونکہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا اور مجھے ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے آ رہے ہیں اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے ان کے سوا اور کوئی ہجرت کر کے آنے کا نہیں اور کم و بیش جتنے مہاجر تھے ان کے ساتھ رشتے کنبے کے لوگ تھے لیکن میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا جو مجھے ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے بہت ہی رنج ہوا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5888/3:حسن]
یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے کہ یہ قصہ مکے کا ہے اور آیت مدینے میں اتری ہے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے گو شان نزول یہ نہ ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے لیکن آپ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں انتقال کر گئے ان کے بارے میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5889/3:]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» ۱؎ [4-النساء:98] سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف]
ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا سعد بن ابی ضمرہ رضی اللہ عنہ جن کو آنکھوں سے دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» ۱؎ [4-النساء:98] سنتے ہیں تو کہتے ہیں میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے ہجرت کرنی چاہیئے چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل کھڑے ہوئے لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے جو موت آ گئی ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5890/3:ضعیف]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخض میری راہ میں غزوہ کرنے کے لیے نکلا صرف میرے وعدوں کو سچا جان کر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یا تو وہ لشکر کے ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے گا اجر و غنیمت اور فضل رب لے کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے یا مار ڈالا جائے یا گھوڑے سے گر جائے یا اونٹ پر سے گر پڑے یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے یا اپنے بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:3418:ضعیف]
ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ وہ جنتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2499،قال الشيخ الألباني:ضعیف] بعض الفاظ ابوداؤد میں نہیں ہیں۔
ابویعلیٰ میں ہے { جو شخص حج کے لیے نکلا پھر مر گیا قیامت تک اس کے لیے حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، جو عمرے کے لیے نکلا اور راستے میں فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک عمرے کا اجر لکھا جاتا ہے۔ جو جہاد کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قیامت تک کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:6357،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی غریب ہے۔