وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾
اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔
En
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ
En
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 73) ➊ {وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ …:} کفار کے انجام سے ڈرانے کے بعد متقین کے حسن انجام کی بشارت دی، کیونکہ قرآن مجید میں یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [مریم: ۹۷] ”تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوش خبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑا لو ہیں۔“
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {”سَاقَ يَسُوْقُ“} میں سختی کے ساتھ ہانکنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں کفار کو سختی سے ہانک کر جہنم کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، تو یہاں متقین کو جنت کی طرف لے جانے کے لیے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ پہلے {” سِيْقَ “} کے ساتھ مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے، ورنہ یہاں اس لفظ سے مراد سختی سے لے جانا یا ہانکنا نہیں۔ اسے تجرید کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد صرف لے جانا ہے۔ مقصد دونوں کو لے جانے کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ اگرچہ دونوں کو لے جایا جائے گا، مگر کفار کو لے جانے میں سختی، دھکے اور اہانت و تذلیل ہو گی، جب کہ مومنوں کو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا، جس کی دلیل بعد میں آنے والے الفاظ {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} اور {” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ہیں۔
➌ { زُمَرًا:} یہ جماعتیں درجات کے لحاظ سے ہوں گی، چنانچہ سب سے بلند درجات والے پہلے داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰) مثلاً انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اسی طرح درجہ بدرجہ جماعتیں جنت میں داخل ہوں گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوْرَتُهُمْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُوْنَ فِيْهَا وَ لاَ يَمْتَخِطُوْنَ وَ لَا يَتَغَوَّطُوْنَ، آنِيَتُهُمْ فِيْهَا الذَّهَبُ، أَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَ مَجَامِرُهُمُ الْأُلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرٰی مُخُّ سُوْقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَ لَا تَبَاغُضَ، قُلُوْبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ، يُسَبِّحُوْنَ اللّٰهَ بُكْرَةً وَ عَشِيًّا] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۴۵] ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، وہ نہ اس میں تھوکیں گے، نہ رینٹ پھینکیں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں {”اُلُوَّه“ } (جل کر خوشبو دینے والی ایک لکڑی) کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں وہ ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز حسن کی وجہ سے گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے سے کوئی بغض ہو گا، ان کے دل ایک دل ہوں گے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔“ صحیح مسلم میں اسی حدیث میں ہے: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِيْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَنَازِلُ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا و أھلھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ…: ۱۶؍۲۸۳۴] ”میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے، پھر جو ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے۔“
➍ جنتیوں کے گروہوں کی ایک تقسیم مختلف صالح اعمال میں خصوصیت کی بنا پر ہو گی، جن کی بنا پر انھیں مختلف دروازوں سے بلایا جائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِی الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللّٰهِ! هٰذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ، وَ بَابِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ مَا عَلٰی هٰذَا الَّذِيْ يُدْعٰی مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَةٍ، وَ قَالَ هَلْ يُدْعٰی مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ نَعَمْ، وَ أَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ!] [بخاري، باب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۶] ”جو شخص کسی چیز کا ایک جوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ خیر ہے۔ تو جو شخص نماز والوں سے ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد والوں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے والوں سے ہو گا اسے روزے کے دروازے اور باب الریان (سیرابی کے دروازے) سے بلایا جائے گا۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس شخص کو ان دروازوں سے بلایا جائے اسے کوئی ضرورت تو نہیں، مگر یا رسول اللہ! کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ اے ابوبکر! تم بھی ان میں سے ہو گے۔“
➎ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یہاں {” فُتِحَتْ “} سے پہلے ”واؤ“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ متقین کی آمد پر جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے ہی دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا: «جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ» [صٓ: ۵۰] ”ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھولے ہوئے ہوں گے۔“ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيْهَا بَابٌ يُسَمَّی الرَّيَّانَ لاَ يَدْخُلُهُ إِلاَّ الصَّائِمُوْنَ] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ: ۳۲۵۷] ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس میں سے صرف خاص روزے دار داخل ہوں گے۔“
➏ { وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ …:} کفار کے برعکس متقین کی جنت کے پاس آمد پر اس کے دربان فرشتے نہایت محبت کے ساتھ ان کا اکرام اور عزت افزائی کرتے ہوئے انھیں تین باتیں کہیں گے، پہلی یہ کہ تم پر سلام ہے، یعنی اب تم ہر تکلیف، غم اور خوف سے سلامت رہو گے۔ دوسری بات {” طِبْتُمْ “} ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تم اس سے پہلے دنیا میں کفر و شرک سے پاک رہے، سو اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والے، دوسرا یہ کہ اب تم ہر گناہ اور بری بات سے پاک ہو گئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰي إِذَا هُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ] [بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ: ۶۵۳۵] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا دلایا جائے گا جو دنیا میں آپس میں ہوئیں، پھر جب خوب پاک صاف ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ تیسری بات یہ کہیں گے کہ چونکہ تم پاک ہو چکے، سو اب تم جنت میں ہمیشہ رہنے والے بن کر داخل ہو جاؤ۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی بشارت ہے، اس کے ساتھ ہمیشگی کی بشارت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ [آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ]
➐ کفار کے متعلق جو فرمایا: {” اِذَا جَآءُوْهَا “} (جب وہ اس کے پاس آئیں گے) اس شرط کی جزا {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} (تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے) ہے، مگر متقین کے متعلق تینوں جملے شرط کا حصہ ہیں {” اِذَا جَآءُوْهَا “، ” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “ اور ” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ان کی جزا حذف کر دی گئی ہے، کیونکہ اس دنیا میں انسانی فکر اس کی بلندی تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ گویا عبارت یوں ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، پاکیزہ رہنے والے، تو مت پوچھو کہ وہ کس قدر خوش ہوں گے، کیونکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کتنی بڑی نعمت حاصل کریں گے۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {”سَاقَ يَسُوْقُ“} میں سختی کے ساتھ ہانکنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں کفار کو سختی سے ہانک کر جہنم کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، تو یہاں متقین کو جنت کی طرف لے جانے کے لیے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ پہلے {” سِيْقَ “} کے ساتھ مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے، ورنہ یہاں اس لفظ سے مراد سختی سے لے جانا یا ہانکنا نہیں۔ اسے تجرید کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد صرف لے جانا ہے۔ مقصد دونوں کو لے جانے کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ اگرچہ دونوں کو لے جایا جائے گا، مگر کفار کو لے جانے میں سختی، دھکے اور اہانت و تذلیل ہو گی، جب کہ مومنوں کو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا، جس کی دلیل بعد میں آنے والے الفاظ {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} اور {” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ہیں۔
➌ { زُمَرًا:} یہ جماعتیں درجات کے لحاظ سے ہوں گی، چنانچہ سب سے بلند درجات والے پہلے داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰) مثلاً انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اسی طرح درجہ بدرجہ جماعتیں جنت میں داخل ہوں گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوْرَتُهُمْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُوْنَ فِيْهَا وَ لاَ يَمْتَخِطُوْنَ وَ لَا يَتَغَوَّطُوْنَ، آنِيَتُهُمْ فِيْهَا الذَّهَبُ، أَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَ مَجَامِرُهُمُ الْأُلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرٰی مُخُّ سُوْقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَ لَا تَبَاغُضَ، قُلُوْبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ، يُسَبِّحُوْنَ اللّٰهَ بُكْرَةً وَ عَشِيًّا] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۴۵] ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، وہ نہ اس میں تھوکیں گے، نہ رینٹ پھینکیں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں {”اُلُوَّه“ } (جل کر خوشبو دینے والی ایک لکڑی) کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں وہ ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز حسن کی وجہ سے گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے سے کوئی بغض ہو گا، ان کے دل ایک دل ہوں گے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔“ صحیح مسلم میں اسی حدیث میں ہے: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِيْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَنَازِلُ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا و أھلھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ…: ۱۶؍۲۸۳۴] ”میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے، پھر جو ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے۔“
➍ جنتیوں کے گروہوں کی ایک تقسیم مختلف صالح اعمال میں خصوصیت کی بنا پر ہو گی، جن کی بنا پر انھیں مختلف دروازوں سے بلایا جائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِی الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللّٰهِ! هٰذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ، وَ بَابِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ مَا عَلٰی هٰذَا الَّذِيْ يُدْعٰی مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَةٍ، وَ قَالَ هَلْ يُدْعٰی مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ نَعَمْ، وَ أَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ!] [بخاري، باب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۶] ”جو شخص کسی چیز کا ایک جوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ خیر ہے۔ تو جو شخص نماز والوں سے ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد والوں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے والوں سے ہو گا اسے روزے کے دروازے اور باب الریان (سیرابی کے دروازے) سے بلایا جائے گا۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس شخص کو ان دروازوں سے بلایا جائے اسے کوئی ضرورت تو نہیں، مگر یا رسول اللہ! کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ اے ابوبکر! تم بھی ان میں سے ہو گے۔“
➎ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یہاں {” فُتِحَتْ “} سے پہلے ”واؤ“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ متقین کی آمد پر جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے ہی دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا: «جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ» [صٓ: ۵۰] ”ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھولے ہوئے ہوں گے۔“ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيْهَا بَابٌ يُسَمَّی الرَّيَّانَ لاَ يَدْخُلُهُ إِلاَّ الصَّائِمُوْنَ] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ: ۳۲۵۷] ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس میں سے صرف خاص روزے دار داخل ہوں گے۔“
➏ { وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ …:} کفار کے برعکس متقین کی جنت کے پاس آمد پر اس کے دربان فرشتے نہایت محبت کے ساتھ ان کا اکرام اور عزت افزائی کرتے ہوئے انھیں تین باتیں کہیں گے، پہلی یہ کہ تم پر سلام ہے، یعنی اب تم ہر تکلیف، غم اور خوف سے سلامت رہو گے۔ دوسری بات {” طِبْتُمْ “} ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تم اس سے پہلے دنیا میں کفر و شرک سے پاک رہے، سو اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والے، دوسرا یہ کہ اب تم ہر گناہ اور بری بات سے پاک ہو گئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰي إِذَا هُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ] [بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ: ۶۵۳۵] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا دلایا جائے گا جو دنیا میں آپس میں ہوئیں، پھر جب خوب پاک صاف ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ تیسری بات یہ کہیں گے کہ چونکہ تم پاک ہو چکے، سو اب تم جنت میں ہمیشہ رہنے والے بن کر داخل ہو جاؤ۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی بشارت ہے، اس کے ساتھ ہمیشگی کی بشارت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ [آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ]
➐ کفار کے متعلق جو فرمایا: {” اِذَا جَآءُوْهَا “} (جب وہ اس کے پاس آئیں گے) اس شرط کی جزا {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} (تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے) ہے، مگر متقین کے متعلق تینوں جملے شرط کا حصہ ہیں {” اِذَا جَآءُوْهَا “، ” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “ اور ” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ان کی جزا حذف کر دی گئی ہے، کیونکہ اس دنیا میں انسانی فکر اس کی بلندی تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ گویا عبارت یوں ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، پاکیزہ رہنے والے، تو مت پوچھو کہ وہ کس قدر خوش ہوں گے، کیونکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کتنی بڑی نعمت حاصل کریں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اہل ایمان وتقوی بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے پہلے مقربین پھر ابرار اس طرح درجہ بدرجہ ہر گروہ ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہوگا مثلا انبیاء علیم السلام کے ساتھ صدیقین شہدا اپنے ہم جنسوں کے ساتھ علماء اپنے اقران کے ساتھ یعنی ہر صنف اپنی ہی صنف یا اس کی مثل کے ساتھ ہوگی۔ ابن کثیر۔ حدیث میں آتا ہے جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک ریان ہے جس سے صرف روزے دار داخل ہونگے (صحیح بخاری) اسی طرح دوسرے دروازوں کے بھی نام ہوں گے جیسے باب الصلوۃ باب الصدقۃ باب الجہاد وغیرہ صحیح بخاری کتاب الصیام مسلم کتاب الزکوۃ ہر دروازے کی چوڑائی چالیس سال کی مسافت کے برابر ہوگی اس کے باوجود یہ بھرے ہوئے ہوں گے۔ (صحیح مسلم) سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے (مسلم) جنت میں سب سے پہلے جانے والے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح اور دوسرے گرہ کے چہرے آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں سے روشن ترین ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے جنت میں وہ بول و براز اور تھوک بلغم سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی اور پسینہ کستوری ہوگا ان کی انگیٹھیوں میں خوشبو دار لکڑی ہوگی ان کی بیویاں الحور العین ہوں گی ان کا قد آدم ؑ کی طرح ساٹھ ہاتھ ہوگا (صحیح بخاری) صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کو دو بیویاں ملیں گی ان کے حسن وجمال کا یہ حال ہوگا کہ ان کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا (کتاب بدء الخلق) بعض نے کہا یہ دو بیویاں حوروں کے علاوہ دنیا کی عورتوں میں سے ہوں گی لیکن چونکہ 72 حوروں والی روایت سندا صحیح نہیں اس لیے بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ ہر جنتی کی کم از کم حور سمیت دو بیویاں ہوں گی تاہم و لھم فیھا ما یشتھون کے تحت زیادہ بھی ممکن ہیں واللہ اعلم
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے انہیں گروہ در گروہ [93] جنت کی طرف چلایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغے انہیں کہیں گے: ”تم پر سلامتی ہو، خوش ہو جاؤ اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو جاؤ
[93] جنت کے درجات :۔
جس طرح کفر کے بہت سے درجات اور اقسام ہیں اسی طرح ایمان اور تقویٰ کے بھی بہت سے درجات ہیں۔ اور ایک حدیث کے مطابق جنت کے سو درجات ہیں جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایمان و تقویٰ کے بھی اتنے ہی درجات ہیں۔ ان متقین کی بھی درجوں کے لحاظ سے گروہ بندی کی جائے گی۔ انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب یہ گروہ جنت کے پاس پہنچیں گے۔ تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جنت کے محافظ فرشتے ان کے استقبال کو آگے بڑھ کر ان پر سلام پیش کریں گے۔ انہیں داخلہ کی بشارت اور مبارک باد دیں گے اور اعلان عام ہو گا کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
متقیوں کی آخری منزل ٭٭
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے ‘۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہو گی، انبیاء انبیاء علیہم السلام کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہو چکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو مظالم ہوں گے ان کا قصاص اور بدلہ ہو جائے گا۔ جب پاک صاف ہو جائیں گے تو جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
مسند احمد میں ہے کہ { پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے، تھوک، رینٹ پیشاب، پاخانہ وہاں کچھ نہ ہو گا۔ ان کے برتن اور سامان آرائش سونے چاندی کا ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں بہترین اگر خوشبو دے رہا ہو گا ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا بوجہ حسن و نزاکت صفائی اور نفاست کے گوشت کے پیچھے سے نظر آ رہا ہو گا۔ کسی دو میں کوئی اختلاف اور حسد و بغض نہ ہو گا۔ سب گھل مل کر ایسے ہوں گے جیسے ایک شخص کا دل }۔۱؎ [صحیح بخاری:3245]
{ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
{ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہ پورے خوش وقت ہو جائیں گے بے انداز سرور راحت آرام و چین انہیں ملے گا۔ ہر طرح کی آس اور بھلائی کی امید بندھ جائے گی۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
بخاری مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے { جنت میں آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام ”باب الریان“ ہے اس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1896]
صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں بیان فرمایا کہ { ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کی وسعت چالیس سال کی راہ ہے۔ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب کہ جنت میں جانے والوں کی بھیڑ بھاڑ سے یہ وسیع دروازے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2967]
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف]، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف]، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
جیسے کہ { حضور علیہ السلام نے کسی غزوے کے موقعہ پر اپنے منادی سے فرمایا تھا { جاؤ ندا کر دو کہ جنت میں صرف مسلمان لوگ ہی جائیں گے } یا فرمایا تھا { صرف مومن ہی } } ۱؎ [صحیح بخاری:4204]۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105]، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105]، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
معراج والے واقعہ میں بخاری و مسلم میں ہے کہ { جنت کے ڈیرے خیمے لولو کے ہیں اور اس کی مٹی مشک خالص ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]
{ ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
{ ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
مسلم ہی کی اور روایت میں ہے کہ { ابن صائد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔
نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔
اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔
نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔
اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے، ان کا استقبال کیا جائے گا ان کیلئے پروں والی اونٹنیاں لائی جائیں گی جن پر سونے کے کجاوے ہوں گے ان کی جوتیوں کے تسمے تک نور سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ اونٹنیاں ایک ایک قدم اس قدر دور رکھتی ہیں جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکتی ہے۔ یہ ایک درخت کے پاس پہنچیں گی جس کے نیچے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ایک کا پانی یہ پئں گے جس سے ان کے پیٹ کی تمام فضولیات اور میل کچیل دھل جائے گا دوسری نہر سے یہ غسل کریں گے پھر ہمیشہ تک ان کے بدن میلے نہ ہوں گے ان کے بال پراگندہ نہ ہوں گے اور ان کے جسم اور چہرے بارونق رہیں گے۔ اب یہ جنت کے دروازوں پر آئیں گے دیکھیں گے کہ ایک کنڈا سرخ یاقوت کا ہے جو سونے کی تختی پر آویزاں ہے۔ یہ اسے ہلائیں گے تو ایک عجیب سریلی اور موسیقی صدا پیدا ہو گی اسے سنتے ہی حور جان لے گی کہ اس کے خاوند آ گئے یہ داروغے کو حکم دیں گی کہ جاؤ دروازہ کھولو وہ دروازہ کھول دے گا یہ اندر قدم رکھتے ہی اس داروغے کی نورانی شکل دیکھ کر سجدے میں گر پڑے گا لیکن وہ اسے روک لے گا اور کہے گا اپنا سر اٹھا میں تو تیرا ماتحت ہوں۔ اور اسے اپنے ساتھ لے چلے گا }۔
{ جب یہ اس در و یاقوت کے خیمے کے پاس پہنچے گا جہاں اس کی حور ہے وہ بیتابانہ دوڑ کر خیمے سے باہر آ جائے گی اور بغل گیر ہو کر کہے گی تم میرے محبوب ہو اور میں تمہاری چاہنے والی ہوں میں یہاں ہمیشہ رہنے والی ہوں مروں گی نہیں۔ میں نعمتوں والی ہوں فقر و محتاجی سے دور ہوں۔ میں آپ سے ہمیشہ راضی خوشی رہوں گی کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ میں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر رہنے والی ہوں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹوں گی۔ پھر یہ گھر میں جائے گا جس کی چھت فرش سے ایک لاکھ ہاتھ بلند ہو گی۔ اس کی کل دیواریں قسم قسم کے اور رنگ برنگے موتیوں کی ہوں گی اس گھر میں ستر تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر ستر چھولداریاں ہوں گی اور ان میں سے ہر بستر پر ستر حوریں ہوں گی ہر حور پر ستر جوڑے ہوں گے اور ان سب حلوں کے نیچے سے ان کی پنڈلی کا گودا نظر آتا ہوگا۔ ان کے ایک جماع کا اندازہ ایک پوری رات کا ہوگا۔ ان کے باغوں اور مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جن کا پانی کبھی بدبودار نہیں ہوتا صاف شفاف موتی جیسا پانی ہے اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا۔ جو دودھ کسی جانور کے تھن سے نہیں نکلا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو نہایت لذیذ ہو گا جو کسی انسانی ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں۔ اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی جو مکھیوں کے پیٹ سے حاصل شدہ نہیں۔ قسم قسم کے میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے چاروں طرف ہوں گے جن کا پھل ان کی طرف جھکا ہوا ہو گا۔ یہ کھڑے کھڑے پھل لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں اگر یہ بیٹھے بیٹھے پھل توڑنا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں گی کہ یہ توڑ لیں اگر یہ لیٹے لیٹے پھل لینا چاہیں تو شاخیں اتنی جھک جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ۱؎ [76-الإنسان:14]، پڑھی یعنی ’ ان جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے میوے بہت قریب کر دیئے جائیں گے ‘۔ یہ کھانا کھانے کی خواہش کریں گے تو سفید رنگ یا سبز رنگ پرندے ان کے پاس آ کر اپنا پر اونچا کر دیں گے یہ جس قسم کا اس کے پہلو کا گوشت چاہیں کھائیں گے پھر وہ زندہ کا زندہ جیسا تھا ویسا ہی ہو کر اڑ جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے سلام کریں گے اور کہیں گے کہ یہ جنتیں ہیں جن کے تم اپنے اعمال کے باعث وارث بنائے گئے ہو۔ اگر کسی حور کا ایک بال زمین پر آ جائے تو وہ اپنی چمک سے اور اپنی سیاہی سے نور کو روشن کرے اور سیاہی نمایاں کرے }۔ ۱؎ [ضعیف] یہ حدیث غریب ہے گو کہ یہ مرسل ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔