(آیت 66) ➊ {بَلِاللّٰهَفَاعْبُدْ:} لفظ {”اللّٰهَ“} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی (اللہ کے ساتھ شرک نہ کر) بلکہ (اگر تجھ میں عقل ہے، یا اگر تجھے عبادت کرنی ہے تو) صرف اللہ کی عبادت کر، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کر۔ ➋ { وَكُنْمِّنَالشّٰكِرِيْنَ:} یعنی عقیدۂ توحید کی سمجھ عطا ہونے پر اور اکیلے اللہ کی عبادت کی توفیق ملنے پر اس کے شکر گزار بندوںمیں شامل ہو جا، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66۔ 1 اِیَّاکَنَعْبُدُ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کو مقدم کر کے حصر کا مفہوم پیدا کردیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجئے اور اس کے شکرگزار بن کر رہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر فرمایا: ﴿بَلِاللّٰهَفَاعْبُدْ ﴾”بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔“ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِاللّٰهَفَاعْبُدْ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُ٘نْمِّنَالشّٰكِرِیْنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال: {بل اللهَ فاعْبُدْ}: لما أخبر أنَّ الجاهلين يأمرونَه بالشركِ، وأخبر عن شناعتِهِ؛ أمَرَه بالإخلاص، فقال: {بل الله فاعْبُدْ}؛ أي: أخلِصْ له العبادةَ وحدَه لا شَريك له، {وكُن من الشاكرينَ}: اللهَ على توفيقِ الله تعالى؛ فكما أنَّه [تعالى] يُشْكَرُ على النعم الدنيويَّة كصحَّة الجسم وعافيتِهِ وحصول الرزقِ وغير ذلك؛ كذلك يُشْكَر ويُثنى عليه بالنعم الدينيَّة؛ كالتوفيق للإخلاص والتقوى، بل نعم الدين هي النعم على الحقيقة، وفي تدبُّر أنَّها من الله تعالى، والشكرِ لله عليها سلامةٌ من آفة العُجْبِ التي تَعْرِضُ لكثير من العاملين بسبب جهلِهِم، وإلاَّ؛ فلو عرف العبدُ حقيقة الحال؛ لم يُعْجَبْ بنعمةٍ تستحقُّ عليه زيادة الشكر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔