ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 18

الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۸﴾
کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلوں والے ہیں۔ En
جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں
En
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ:} اس جملے کی تین تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ میرے ان بندوں کو بشارت دے جو ہر بات سنتے ہیں، مگر پیروی صرف قرآن و سنت کی کرتے ہیں، کیونکہ سب باتوں سے اچھی بات اللہ کی نازل کردہ بات ہے، جیسا کہ آگے آیت (۲۳) میں آ رہا ہے: «‏‏‏‏اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ» اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَحْسَنُ الْكَلاَمِ كَلاَمُ اللّٰهِ وَ أَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] [نسائي، السھو، باب نوع من الذکر بعد التشھد: ۱۳۱۲، عن جابر رضی اللہ عنہ] ہر کلام سے اچھا اللہ کا کلام ہے اور ہر طریقے سے اچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ قرآن سنتے ہیں جس میں کچھ احکام حسن (اچھے) ہیں اور کچھ اَحسن (زیادہ اچھے) ہیں، پھر وہ احسن کی پیروی کرتے ہیں۔ مثلاً قصاص لینا یا معاف کر دینا، زیادتی پر انتقام لینا یا صبر کرنا، قرض وصول کرنے میں مہلت دینا یا چھوڑ دینا، اگرچہ تینوں معاملات میں مذکور دونوں کام اچھے ہیں، مگر دوسرا کام پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ وہ اچھی بری سبھی باتیں سنتے ہیں، مگر کرتے وہی بات یا وہی کام ہیں جو سب سے اچھا ہو۔ ابن عطیہ نے المحرر الوجیز میں فرمایا: {هُوَ عَامٌّ فِيْ جَمِيْعِ الْأَقْوَالِ وَالْقَصْدُ الثَّنَاءُ عَلٰی هٰؤُلَاءِ بِبَصَائِرَ وَ نَظْرٍ سَدِيْدٍ يُفَرِّقُوْنَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ وَ بَيْنَ الصَّوَابِ وَالْخَطَإِ فَيَتَّبِعُوْنَ الْأَحْسَنَ مِنْ ذٰلِكَ} یہ تمام اقوال کے لیے عام ہے، مقصد ان لوگوں کی بصیرتوں اور درست غور و فکر کی تعریف ہے جس کے ساتھ وہ حق و باطل اور درست اور خطا کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں، پھر اس میں سے احسن کی پیروی کرتے ہیں۔ الفاظ عام ہونے کی وجہ سے تیسری تفسیر زیادہ ظاہر ہے۔
➋{ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ …:} ہر قسم کے اقوال سن کر سب سے اچھی بات کی جستجو کر کے اس پر عمل کرنے والوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے وہ لوگ قرار دیا جنھیں اس نے ہدایت دی اور صرف انھی کو عقلوں والے قرار دیا۔
➌ اس آیت سے تقلید کی واضح تردید ہو رہی ہے، کیونکہ تقلید کا معنی ہے: {أَخْذُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيْلٍ} یعنی اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات بلا دلیل لے لینا۔ مقلد اپنے بنائے ہوئے پیشوا کے علاوہ اوّل تو کسی کی بات سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا، اگر سن بھی لے تو اپنے پیشوا کی بات پر جما رہتا ہے۔ دوسری بات خواہ قرآن مجید کی آیت ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو اور خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے نہ مانتا ہے۔ جب کہ مومن ہر بات غور سے سن کر اس کے حسن و قبح کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور احسن پر عمل کرتا ہے۔ جہنم میں جانے والے تمنا کریں گے کہ کاش! وہ دنیا میں سنتے یا سمجھتے ہوتے، مگر اس وقت جب ان کی تمنا پوری ہونے کی کوئی صورت نہ ہو گی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» ‏‏‏‏ [الملک: ۱۰] اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔ ایسے لوگ نہ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور نہ ان کا شمار اولوا الالباب میں ہو سکتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 اَحسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا سب سے اچھی بات، یا عقوبیت کے مقابلے میں درگزر اختیار کرتے ہیں۔ 18۔ 2 کیونکہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین [28] پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔
[28] اتباع احسن سے کیا مراد ہے؟
ان لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی اس صورت میں پیروی کرتے ہیں جو بہتر سے بہتر ہو۔ مثلاً نماز کی ادائیگی کی جائے تو خلوص نیت اور اللہ کی رضا اور اس کی محبت کے جذبے سے ادا کرے۔ بروقت اور با جماعت ادا کرے۔ طہارت اچھی طرح کرے۔ نماز میں خشوع و خضوع ہو اور ظاہری ارکان و آداب بھی درست ہوں۔ تو یہ نماز کی اچھی سے اچھی صورت ہے۔ اب اگر کوئی شخص نماز تو با جماعت ادا کرتا ہے لیکن نماز میں خیال بس دنیوی باتوں کے ہی آتے رہیں۔ نماز میں بے توجہی ہو۔ فضول حرکتیں بھی کرتا رہے اور سست اور ڈھیلا ڈھالا کھڑا رہے۔ تو نماز تو اس نے بھی ادا کر لی۔ اور اللہ کے حکم کی اطاعت بھی ہو گئی مگر یہ احسن صورت نہیں۔ اور پہلے اور اس شخص کی نماز میں بہت فرق ہے۔ یہی حال تمام اعمال کا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ باتیں تو سب کی سنتے ہیں مگر قبول صرف وہ بات کرتے ہیں جو ان سے بہتر ہو پھر اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شرک سے مبرا عبادات ٭٭
مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔
یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْقَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا سَأُرِيكُمْ دَارَالْفَاسِقِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:145]‏‏‏‏ ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔