(آیت 17) ➊ {وَالَّذِيْنَاجْتَنَبُواالطَّاغُوْتَ …:”الطَّاغُوْتَ“} کی لغوی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۶)۔ استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں، اصل میں لفظ {”الطَّاغُوْتَ“ } (بروزن {فَعْلُوْتٌلَافَاعُوْلٌأَصْلُهُطَغْيُوْتٌأَوْطَغْوُوْتٌ}) {”طُغْيَانٌ“} سے مشتق ہے، لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل بالذات آمر و مطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجاآوری بھی ہے۔ جوہری لکھتے ہیں: {”اَلطَّاغُوْتُالْكَاهِنُوَالشَّيْطَانُوَكُلُّرَأْسٍفِيالضَّلَالِ“} کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب کہتے ہیں: {”هُوَعِبَارَةٌعَنْكُلِّمَعْبُوْدٍمِنْدُوْنِاللّٰهِ“} کہ وہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ (روح) (اشرف الحواشی) ➋ معلوم ہوا توحید کے لیے صرف اللہ کی عبادت کافی نہیں بلکہ طاغوت سے کنارا کشی بھی لازم ہے، اس لیے کلمہ توحید {”لَااِلٰهَإِلَّااللّٰهُ“} میں پہلے تمام الٰہوں کی نفی ہے، پھر ایک اللہ کی عبادت کا اثبات ہے۔ ➌ { لَهُمُالْبُشْرٰى:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۶۴)۔ ➍ { لَهُمُالْبُشْرٰى …: ”عِبَادِ“} اصل میں {”عِبَادِيْ“} ہے، آیات کے فواصل کی مناسبت کے لیے یاء کو حذف کر کے دال پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے اور ترجمہ ”میرے بندوں کو“ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ جو لوگ [26] طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے لہذا میرے بندوں کو بشارت [27] دے دیجئے
[26] طاغوت کا مفہوم :۔
طاغوت کا معنی عموماً بت یا شیطان کر لیا جاتا ہے۔ ان الفاظ سے اس لفظ کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت یا عبادت کی جاتی ہو یا وہ خود اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت یا عبادت لوگوں سے کروانا پسند کرتا ہو، گویا طاغوت سے مراد دنیا دار چودھری اور حکمران بھی ہو سکتے ہیں کوئی ادارہ یا پارلیمنٹ بھی ہو سکتی ہے۔ بت، شیطان اور جن بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے پیر فقیر بھی ہو سکتے ہیں جو اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت کروانا پسند فرماتے ہیں اور شریعت پر طریقت کو ترجیح دیتے ہیں۔ [27] یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر قسم کے طاغوت کی اطاعت یا عبادت سے بچتے رہے اور تنگی ترشی میں بھی اللہ کی ہی اطاعت و عبادت کرتے رہے، اسی کی طرف رجوع کیا اور اسی پر توکل کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
شرک سے مبرا عبادات ٭٭
مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لیے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا «فَخُذْهَابِقُوَّةٍوَأْمُرْ قَوْمَكَيَأْخُذُوابِأَحْسَنِهَاسَأُرِيكُمْدَارَ الْفَاسِقِينَ»۱؎[7-الأعراف:145] ’ اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔