(آیت 11){ قُلْاِنِّيْۤاُمِرْتُاَنْاَعْبُدَاللّٰهَ …:} سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاعْبُدِاللّٰهَمُخْلِصًالَّهُالدِّيْنَ» [الزمر: ۲] اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ کہہ دے مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ اپنی بندگی، اطاعت اور نیت کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں۔ تفصیل اسی سورت کی آیت (۲) میں دیکھیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ آپ کہئے: مجھے تو یہ حکم ہوا ہے کہ میں خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت [22] کروں
[22] ہر نبی سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور احکام الہٰی کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے :۔
ہر نبی پر یہ واجب ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لائے۔ پھر دوسروں کو دعوت دے۔ اسی طرح اس پر یہ بھی واجب ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم نازل ہو سب سے پہلے خود اس پر عمل کرے اور اپنی ذات کو بطور نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرے پھر دوسروں کو دعوت دے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بات کہلوائی کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ خالصتاً اللہ اکیلے کی عبادت کروں اور اس حکم پر سب سے پہلے میں خود سر تسلیم خم کرتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ’ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ‘۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔