ءَ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ مِنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ ذِکۡرِیۡ ۚ بَلۡ لَّمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ ؕ﴿۸﴾
کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔
En
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اُتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
En
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ {ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا:} یہ ہے وہ اصل بات جس سے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تسلیم نہ کرنے کی وجہ ظاہر ہو رہی ہے اور وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حسد اور حسد کی وجہ سے عداوت کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سرداروں اور چودھریوں کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بلند منصب کے لیے کیوں چنا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حسد اور عداوت کا کئی جگہ ذکر فرمایا اور اس کا رد فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [الأنعام: ۱۲۴] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ (31) اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ» [الزخرف: ۳۱، ۳۲] ” اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟“ اسی حسد کا اظہار قوم ثمود نے صالح علیہ السلام پر کیا تھا: «ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ (25) سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ» [القمر: ۲۵، ۲۶] ”کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔ عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبّر کون ہے؟“
➋ { بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ: ” شَكٍّ “} سے مراد ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں ان کے دل کی حالت بیان فرمائی ہے کہ ان کے پاس میرے ذکر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ نہیں مگر وہ حسد کی وجہ سے اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ اگر حسد چھوڑ کر تھوڑا سا غور کریں تو انھیں یقین کی نعمت حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کی قوم کا حال خود ان کی زبانی یہی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۶۲)۔
➌ {بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ: ”لَمْ يَذُوْقُوْا“} انھوں نے نہیں چکھا اور {” لَمَّا يَذُوْقُوْا “} انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا۔ {” عَذَابِ “} اصل میں {”عَذَابِيْ“} (میرا عذاب) ہے۔ آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رہنے دیا ہے۔ یعنی ان کے ایسی باتیں کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کوئی حقیقت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک میری مار نہیں چکھی۔ جب میری مار پڑی تو ان کے سب کَس بَل نکل جائیں گے اور انھیں ایسی باتیں کرنے کا ہوش نہیں رہے گا۔
➋ { بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ: ” شَكٍّ “} سے مراد ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں ان کے دل کی حالت بیان فرمائی ہے کہ ان کے پاس میرے ذکر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ نہیں مگر وہ حسد کی وجہ سے اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ اگر حسد چھوڑ کر تھوڑا سا غور کریں تو انھیں یقین کی نعمت حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کی قوم کا حال خود ان کی زبانی یہی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۶۲)۔
➌ {بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ: ”لَمْ يَذُوْقُوْا“} انھوں نے نہیں چکھا اور {” لَمَّا يَذُوْقُوْا “} انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا۔ {” عَذَابِ “} اصل میں {”عَذَابِيْ“} (میرا عذاب) ہے۔ آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رہنے دیا ہے۔ یعنی ان کے ایسی باتیں کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کوئی حقیقت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک میری مار نہیں چکھی۔ جب میری مار پڑی تو ان کے سب کَس بَل نکل جائیں گے اور انھیں ایسی باتیں کرنے کا ہوش نہیں رہے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یعنی مکہ میں بڑے بڑے چودھری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی رسالت کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب بھی عجیب ہے؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہے خوئے بد را بہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة زخرف۔ 31، 32۔ 8۔ 2 یعنی ان کا انکار اس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی شک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایا توحید کی دعوت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ کیا ہم میں سے یہی ایک شخص [8] رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا؟“ میرے ذکر کے بارے میں ہی شک میں [9] پڑے ہیں اور یہ اس لیے کہ انہوں نے ابھی تک میرا عذاب [10] نہیں چکھا۔
[8] قریش کا قول کہ کیا نبوت کے لئے یہی شخص رہ گیا تھا؟
دنیا دار لوگوں کے نزدیک کسی شخص کی عظمت کو ماپنے کا پیمانہ مال و دولت ہوتا ہے یا جاہ و منصب۔ اسی خیال سے کفار مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر اللہ نے ہم میں سے کسی بشر کو ہی رسول بنانا تھا تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہی شخص رسالت کے لئے ملا تھا کیا سرداران قریش مر گئے تھے؟ اگر بنانا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے لوگوں میں سے کسی رئیس کو اپنا رسول بناتا۔ بالفاظ دیگر ان کا اصل اعتراض یہ تھا کہ اللہ میاں نے رسالت کا منصب سونپتے وقت ہم سے مشورہ کیوں نہیں لیا؟
[9] بات یوں نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی کے منکر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا کلام بھی ان کے نزدیک مشکوک ہو گیا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسالت سے پیشتر کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راست بازی کے قائل تھے۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دعویٰ میں ان کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی پر بھی شک کیا جانے لگا ہے اور اس ہستی کو کذاب کہنے لگے ہیں جسے وہ ہمیشہ سے را ستباز سمجھتے آئے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں میرے ذکر، میرے کلام اور میرے پیغام میں شک ہے۔
[10] ان کے ایسے بیہودہ اعتراض کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک انہوں نے میری مار کا مزا نہیں چکھا۔ ایک دفعہ انہیں میری مار پڑ گئی تو ان کے سب کس بل نکل جائیں گے اور آئندہ ایسی باتیں بنانے کا انہیں ہوش ہی نہ رہے گا۔
[9] بات یوں نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی کے منکر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا کلام بھی ان کے نزدیک مشکوک ہو گیا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسالت سے پیشتر کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راست بازی کے قائل تھے۔ اب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دعویٰ میں ان کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی پر بھی شک کیا جانے لگا ہے اور اس ہستی کو کذاب کہنے لگے ہیں جسے وہ ہمیشہ سے را ستباز سمجھتے آئے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں میرے ذکر، میرے کلام اور میرے پیغام میں شک ہے۔
[10] ان کے ایسے بیہودہ اعتراض کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک انہوں نے میری مار کا مزا نہیں چکھا۔ ایک دفعہ انہیں میری مار پڑ گئی تو ان کے سب کس بل نکل جائیں گے اور آئندہ ایسی باتیں بنانے کا انہیں ہوش ہی نہ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے «وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» [43- الزخرف: 32، 31] یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بے بس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لیے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا «اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا» [4- النسآء: 55-53]، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بے بس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لیے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا «اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا» [4- النسآء: 55-53]، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے۔
اور آیت میں ہے «قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا» [17- الإسراء: 100]۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا کہ «أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ» [54-القمر: 25 -26]، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کر لیں گے کہ ایسا کون ہے؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہو گا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہو گئے، جیسے اور آیت میں ہے «اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ» [54- القمر: 46-44]، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہو گی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ چنانچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔