اس آیت کی تفسیر آیت 75 میں تا آیت 77 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ کہنے لگا: ”میں اس سے بہتر ہوں (کیونکہ) مجھے تو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَاخَیْرٌمِّؔنْهُ١ؕخَلَقْتَنِیْمِنْنَّارٍوَّخَلَقْتَهٗمِنْطِیْنٍ ﴾”میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔“ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} إبليسُ معارضاً لربِّه مناقضاً: {أنا خيرٌ منه خَلَقْتَني من نارٍ وخَلَقْتَهُ من طين}: وبزعمِهِ أنَّ عنصر النار خيرٌ من عنصر الطين، وهذا من القياس الفاسدِ؛ فإنَّ عنصرَ النار مادَّةُ الشرِّ والفساد والعلوِّ والطيش والخفَّة، وعنصرُ الطِّين مادَّةُ الرزانة والتواضُع وإخراج أنواع الأشجارِ والنباتات، وهو يغلِبُ النار ويطفِئُها، والنارُ تحتاج إلى مادَّةٍ تقومُ بها والطينُ قائمٌ بنفسِهِ. فهذا قياسُ شيخ القوم، الذي عارض به الأمر الشفاهيَّ من الله، قد تبيَّن غايةُ بطلانِهِ وفسادِهِ؛ فما بالُك بأقيسةِ التلاميذ الذين عارضوا الحقَّ بأقْيِسَتِهِم؛ فإنَّها كلَّها أعظمُ بطلاناً وفساداً من هذا القياس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔