ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 7

مَا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِی الۡمِلَّۃِ الۡاٰخِرَۃِ ۚۖ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ ۖ﴿ۚ۷﴾
ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ En
یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے
En
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ {مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ:} آخری ملت سے مراد ان کے قریب کے آبا و اجداد ہیں، کیونکہ اصل دینِ ابراہیم(علیہ السلام) تو توحید پر قائم تھا۔ یہ عمرو بن لحی خزاعی تھا جس نے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا، حتیٰ کہ عین کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی مورتیوں کے ہاتھ میں فال کے تیر رکھ دیے گئے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: پچھلا دین (آخری ملت) کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو، یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے، پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ (موضح) بعض مفسرین نے فرمایا کہ آخری ملت سے مراد عیسائی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب سے آخر میں آنے والے نبی عیسیٰ علیہ السلام ہی تھے، یعنی ہم نے نصاریٰ میں بھی توحید کی بات نہیں سنی، بلکہ وہ بھی تین خداؤں کے قائل ہیں۔
➋ { اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ: اخْتِلَاقٌ } مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے، یعنی یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 پچھلے دین سے مراد تو ان کا دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔ 7۔ 2 یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو ہم نے زمانہ قریب کے دین [7] میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔
[7] یعنی قریب کے زمانہ میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں یہودی اور عیسائی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔ ایران، عراق اور مشرقی عرب مجوسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ اللہ کے پیاروں کے تصرفات کو تو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے فی الواقع لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی ہو جاتی ہے۔ پھر آخر اللہ اکیلے پر کون اکتفا کرتا ہے؟ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تابعداری کریں اور یہ ہمارا حاکم بن جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔