ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 55

ہٰذَا ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ﴿ۙ۵۵﴾
یہ ہے (جزا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے یقینا بد ترین ٹھکانا ہے۔ En
یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
En
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56،55){ هٰذَا وَ اِنَّ لِلطّٰغِيْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ …: هٰذَا } یعنی یہ تو متقین کی جزا ہوئی، اب کفار کا انجام سنو جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھنے والے اور اس کے احکام سے سرکشی کرنے والے ہیں کہ ان کے لیے ایک بدترین ٹھکانا ہے، جو جہنم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

55۔ 1 یعنی مذکورہ اہل خیر کا معاملہ ہوا۔ اس کے بعد اہل شر کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ 55۔ 2 طَاغِیْنَ جنہوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور رسولوں کو جھٹلایا یَصْلُوْنَ کے معنی ہیں یَدْخُلُون داخل ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ یہ (تو تھا پرہیزگاروں کا انجام) اور سرکشوں کے لئے بہت برا ٹھکانا ہو گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اہل نار کے احوال ٭٭
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔