(آیت 4) {عَلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِيْمٍ:} یعنی آپ دین توحید پر ہیں، جو سیدھا اللہ تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَعَلَىاللّٰهِقَصْدُالسَّبِيْلِوَمِنْهَاجَآىِٕرٌ» [النحل: ۹]”اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا) ہے اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔“ یہی بات ان آیات میں فرمائی: «وَاِنَّكَلَتَهْدِيْۤاِلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِيْمٍ (52) صِرَاطِاللّٰهِالَّذِيْلَهٗمَافِيالسَّمٰوٰتِوَمَافِيالْاَرْضِاَلَاۤاِلَىاللّٰهِتَصِيْرُالْاُمُوْرُ» [الشوریٰ: ۵۲، ۵۳]”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو!تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پیغمبروں کے راستے پر ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں۔ یا ایسے راستے پر ہیں جو سیدھا اور مطلوب منزل (جنت) تک پہنچانے والا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ سیدھی راہ پر ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔