(آیت 3) {اِنَّكَلَمِنَالْمُرْسَلِيْنَ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رسول ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ در اصل یہ ان کفار کی تردید ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف کہتے تھے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ کلام پیش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَيَقُوْلُالَّذِيْنَكَفَرُوْالَسْتَمُرْسَلًاقُلْكَفٰىبِاللّٰهِشَهِيْدًۢابَيْنِيْوَبَيْنَكُمْوَمَنْعِنْدَهٗعِلْمُالْكِتٰبِ» [الرعد: ۴۳]”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے (وَيَقُوْلُالَّذِيْنَكَفَرُوْالَسْتَمُرْسَلًا ۭ قُلْكَفٰىباللّٰهِشَهِيْدًۢابَيْنِيْوَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْعِنْدَهٗعِلْمُالْكِتٰبِ 43) 13۔ الرعد:43) ' تو تو پیغمبر ہی نہیں ' اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرف و فضل و اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لئے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کے لئے قسم کھائی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ آپ بلا شبہ رسولوں میں سے ایک رسول ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّكَلَ٘مِنَالْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ﴾”بے شک آپ رسولوں میں سے ہیں۔“ یہ ہے وہ حقیقت جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی اور وہ ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت۔ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جملہ انبیاء و مرسلین میں شامل ہیں آپ کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں، نیز آپ وہی دینی اصول لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو دیگر انبیاء نے پیش کیے تھے۔
جو کوئی انبیاء و مرسلین کے احوال و اوصاف پر غور کرتا ہے تو اسے انبیاء و مرسلین اور عام لوگوں کے درمیان فرق معلوم ہو جاتا ہے اور اسے اس حقیقت کی معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ آپ تمام رسولوں میں اعلیٰ و افضل مقام رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صفات کاملہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہیں۔ جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، یعنی قرآن حکیم اور جس کے بارے میں قسم کھائی گئی ہے یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، ان کے مابین جو اتصال ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر اس قرآن حکیم کے سوا کوئی دوسری دلیل اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی قرآن حکیم آپ کی رسالت محمدی پر دلیل اور شہادت کے لیے کافی ہے، بلکہ قرآن عظیم آپ کی رسالت پر ہمیشہ رہنے والی قوی ترین دلیل ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت کے تمام دلائل دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّك لَمِنَ المرسلينَ}: هذا المقسَم عليه، وهو رسالةُ محمد - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّك يا محمد من جملة المرسلين، فلست ببدع من الرسل. وأيضاً؛ فجئت بما جاء به الرسل من الأصول الدينيَّة. وأيضاً؛ فمن تأمل أحوال المرسلين وأوصافهم وعرف الفرق بينهم وبين غيرهم؛ عرف أنَّك من خيار المرسلين بما فيك من الصفات الكاملة والأخلاق الفاضلة. ولا يخفى ما بين المقسَم به وهو القرآنُ الحكيم وبين المقسَم عليه وهو رسالةُ الرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - من الاتصال، وأنَّه لو لم يكن لرسالتِهِ دليلٌ ولا شاهدٌ إلاَّ هذا القرآن الحكيم؛ لكفى به دليلاً وشاهداً على رسالة محمد [- صلى الله عليه وسلم -]، بل القرآنُ العظيم أقوى الأدلةِ المتصلةِ المستمرةِ على رسالة الرسول، فأدلةُ القرآن كلُّها أدلةٌ لرسالة محمد - صلى الله عليه وسلم -.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔