اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہَا ؕ وَ مِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیۡضٌ وَّ حُمۡرٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہَا وَ غَرَابِیۡبُ سُوۡدٌ ﴿۲۷﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں
En
کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاه
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 27) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …:} یعنی اس کائنات میں اشیاء کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے، جیسا کہ میٹھے دریا اور نمکین سمندر، نابینا اور بینا لوگ، اندھیرے اور روشنی، سایہ اور لُو، مردہ اور زندہ، مومن اور کافر کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اب نباتات و جمادات کی بوقلمونی اور رنگا رنگی پر غور کرو، اگر ایک صانع حکیم کی کاریگری نہ ہوتی تو کائنات میں یہ رنگا رنگی کبھی نہ ہوتی۔ یہ اندھے، بہرے اور شعور سے عاری مادے کا کام نہیں، بلکہ اس قادرِ مطلق کا کام ہے جس نے اس اختلاف کو اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔
➋ {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا؟“ یہ کلمہ بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے اس بات کا علم ہو، اس وقت یہ تعجب کے اظہار کے لیے ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے علم نہیں ہوتا۔ اس وقت مقصود اسے بتانا اور اسے تعجب میں ڈالنا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ اس دوسرے مفہوم میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے، گویا جس شخص نے ایک چیز نہیں دیکھی اسے دیکھنے والے شخص کی طرح قرار دے کر اس سے بات کی جاتی ہے، اس لحاظ سے کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے تمھارا لاعلم ہونا مناسب ہی نہیں، پھر اس سے اس شخص کی طرح بات کی جاتی ہے جس نے اسے دیکھا ہو اور اسے اچھی طرح جانتا ہو۔ آیت میں {” اَلَمْ تَرَ “} کا معنی {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے، کیا تو نے نہیں جانا، یعنی یقینا تم جانتے ہو۔ (ملخص از آلوسی)
➌ یعنی اے مردِ عاقل! یقینا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بہت سا پانی اتارا ({” مَآءً “} کی تنوین تکثیر کے لیے ہے) پھر اس کے ساتھ زمین سے بہت سے پھل اگائے، جن کے رنگ، شکلیں، اقسام اور ذائقے مختلف ہیں۔ کوئی سرخ ہے، کوئی زرد، کوئی سبز، کوئی میٹھا، کوئی کھٹا اور کوئی اس کے علاوہ، حالانکہ سب ایک ہی زمین سے پیدا ہوئے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [الرعد: ۴] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“
➍ {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً “} میں اللہ تعالیٰ نے پانی اتارنے میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر {”فَاَخْرَجْنَا بِهٖ “} میں اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کیا ہے، اسے ”التفات“ کہتے ہیں۔ اس سے مقصود زمین سے اتنی مختلف چیزیں اگانے میں اپنی کمال قدرت کو نمایاں کرنا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے سرانجام دیا ہے۔
➎ {وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢبِيْضٌ …: ” جُدَدٌ“ ”جُدَّةٌ“} کی جمع ہے، اس کا معنی راستہ اور لکیر ہے۔ مراد پہاڑوں میں مختلف رنگوں کی دھاریاں اور قطعے ہیں۔ {” سُوْدٌ “ ”أَسْوَدُ“} کی جمع ہے۔ {” غَرَابِيْبُ “} جمع ہے {”غِرْبِيْبٌ“} کی۔ جب کسی چیز کو زیادہ سیاہ کہنا ہو تو {”أَسْوَدُ“} کی تاکید کے طور پر یہ لفظ آتا ہے، یعنی {”أَسْوَدُ غِرْبِيْبٌ“} جیسا کہ اردو میں ”کالا سیاہ“ یا ”کالا بھجنگا“ کہا جاتا ہے۔ یہاں آیات کے فواصل کی مناسبت سے {” غَرَابِيْبُ “} کو پہلے کر دیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونوں میں سے ایک اور نمونے کا ذکر ہے، فرمایا ہماری قدرت ہی کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں میں مختلف رنگوں کے قطعے ہیں، کوئی سفید ہیں، کوئی سرخ اور کوئی کالے سیاہ اور کوئی کسی اور رنگ کے، کسی کی کوئی شکل ہے کسی کی کوئی اور، کوئی چھوٹا ہے کوئی بڑا، کوئی پتھر کا ہے کوئی مٹی کا، کوئی سنگ مرمر کا ہے کوئی نمک کا اور کوئی کسی اور چیز کا۔ {” غَرَابِيْبُ سُوْدٌ “} میں ایک مزید اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پہلے تو نباتات و جمادات کے رنگ مختلف ہیں، پھر ہر رنگ میں مزید اختلاف ہے، کوئی کالا ہے، کوئی اس سے زیادہ کالا اور کوئی کالا سیاہ۔ انسانوں کے سروں کے بالوں کی سیاہی کو ہی دیکھ لو کہ ایک شخص کے سر کے بالوں کی سیاہی دوسرے کے سر کے بالوں کی سیاہی سے مختلف ہے۔ دیکھتے جاؤ اور تعجب کرتے جاؤ کہ اس قادر مطلق کے کارخانۂ حکمت کی رنگا رنگی کی کوئی حد ہے کہ اس نے آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی کو دوسرے انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی سے الگ بنایا ہے اور اس کے ہاتھوں کی لکیروں اور آنکھ کی پتلی بلکہ جسم کی ہر چیز کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ہر درخت کے سبز رنگ کو دوسرے کے سبز رنگ سے الگ بنایا ہے، اس کے ہر پتے کی لکیریں دوسرے پتے سے الگ ہیں۔ ہر پھل مثلاً آم، جامن اور کھجور کو دوسرے سے الگ تو بنایا ہی ہے، پھر ہر پھل کے اندر اتنا تنوع رکھ دیا ہے کہ آم اور کھجور وغیرہ کی گٹھلی سے پیدا ہونے والا پھل پہلے درخت کے پھل سے الگ قسم کا ہے، جس کی گٹھلی سے وہ پیدا ہوا ہے، جیسا کہ ہر انسان اپنے ماں باپ سے الگ رنگ اور الگ شکل و صورت کا ہے۔ غرض ہر چیز کا رنگ الگ ہے اور اس رنگ مثلاً سفید یا سرخ یا زرد یا سیاہ میں سے ہر سفید، سرخ، زرد اور سیاہ کی سفیدی، سرخی، زردی اور سیاہی دوسرے سے مختلف ہے، یہی حال اس کے ذائقے کا ہے۔ «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [المؤمنون: ۱۴] ”سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“
➋ {” اَلَمْ تَرَ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا؟“ یہ کلمہ بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے اس بات کا علم ہو، اس وقت یہ تعجب کے اظہار کے لیے ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے علم نہیں ہوتا۔ اس وقت مقصود اسے بتانا اور اسے تعجب میں ڈالنا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ اس دوسرے مفہوم میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے، گویا جس شخص نے ایک چیز نہیں دیکھی اسے دیکھنے والے شخص کی طرح قرار دے کر اس سے بات کی جاتی ہے، اس لحاظ سے کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے تمھارا لاعلم ہونا مناسب ہی نہیں، پھر اس سے اس شخص کی طرح بات کی جاتی ہے جس نے اسے دیکھا ہو اور اسے اچھی طرح جانتا ہو۔ آیت میں {” اَلَمْ تَرَ “} کا معنی {”أَلَمْ تَعْلَمْ“} ہے، کیا تو نے نہیں جانا، یعنی یقینا تم جانتے ہو۔ (ملخص از آلوسی)
➌ یعنی اے مردِ عاقل! یقینا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بہت سا پانی اتارا ({” مَآءً “} کی تنوین تکثیر کے لیے ہے) پھر اس کے ساتھ زمین سے بہت سے پھل اگائے، جن کے رنگ، شکلیں، اقسام اور ذائقے مختلف ہیں۔ کوئی سرخ ہے، کوئی زرد، کوئی سبز، کوئی میٹھا، کوئی کھٹا اور کوئی اس کے علاوہ، حالانکہ سب ایک ہی زمین سے پیدا ہوئے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [الرعد: ۴] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“
➍ {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً “} میں اللہ تعالیٰ نے پانی اتارنے میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر {”فَاَخْرَجْنَا بِهٖ “} میں اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کیا ہے، اسے ”التفات“ کہتے ہیں۔ اس سے مقصود زمین سے اتنی مختلف چیزیں اگانے میں اپنی کمال قدرت کو نمایاں کرنا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے سرانجام دیا ہے۔
➎ {وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢبِيْضٌ …: ” جُدَدٌ“ ”جُدَّةٌ“} کی جمع ہے، اس کا معنی راستہ اور لکیر ہے۔ مراد پہاڑوں میں مختلف رنگوں کی دھاریاں اور قطعے ہیں۔ {” سُوْدٌ “ ”أَسْوَدُ“} کی جمع ہے۔ {” غَرَابِيْبُ “} جمع ہے {”غِرْبِيْبٌ“} کی۔ جب کسی چیز کو زیادہ سیاہ کہنا ہو تو {”أَسْوَدُ“} کی تاکید کے طور پر یہ لفظ آتا ہے، یعنی {”أَسْوَدُ غِرْبِيْبٌ“} جیسا کہ اردو میں ”کالا سیاہ“ یا ”کالا بھجنگا“ کہا جاتا ہے۔ یہاں آیات کے فواصل کی مناسبت سے {” غَرَابِيْبُ “} کو پہلے کر دیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونوں میں سے ایک اور نمونے کا ذکر ہے، فرمایا ہماری قدرت ہی کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں میں مختلف رنگوں کے قطعے ہیں، کوئی سفید ہیں، کوئی سرخ اور کوئی کالے سیاہ اور کوئی کسی اور رنگ کے، کسی کی کوئی شکل ہے کسی کی کوئی اور، کوئی چھوٹا ہے کوئی بڑا، کوئی پتھر کا ہے کوئی مٹی کا، کوئی سنگ مرمر کا ہے کوئی نمک کا اور کوئی کسی اور چیز کا۔ {” غَرَابِيْبُ سُوْدٌ “} میں ایک مزید اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پہلے تو نباتات و جمادات کے رنگ مختلف ہیں، پھر ہر رنگ میں مزید اختلاف ہے، کوئی کالا ہے، کوئی اس سے زیادہ کالا اور کوئی کالا سیاہ۔ انسانوں کے سروں کے بالوں کی سیاہی کو ہی دیکھ لو کہ ایک شخص کے سر کے بالوں کی سیاہی دوسرے کے سر کے بالوں کی سیاہی سے مختلف ہے۔ دیکھتے جاؤ اور تعجب کرتے جاؤ کہ اس قادر مطلق کے کارخانۂ حکمت کی رنگا رنگی کی کوئی حد ہے کہ اس نے آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی کو دوسرے انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی سے الگ بنایا ہے اور اس کے ہاتھوں کی لکیروں اور آنکھ کی پتلی بلکہ جسم کی ہر چیز کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ہر درخت کے سبز رنگ کو دوسرے کے سبز رنگ سے الگ بنایا ہے، اس کے ہر پتے کی لکیریں دوسرے پتے سے الگ ہیں۔ ہر پھل مثلاً آم، جامن اور کھجور کو دوسرے سے الگ تو بنایا ہی ہے، پھر ہر پھل کے اندر اتنا تنوع رکھ دیا ہے کہ آم اور کھجور وغیرہ کی گٹھلی سے پیدا ہونے والا پھل پہلے درخت کے پھل سے الگ قسم کا ہے، جس کی گٹھلی سے وہ پیدا ہوا ہے، جیسا کہ ہر انسان اپنے ماں باپ سے الگ رنگ اور الگ شکل و صورت کا ہے۔ غرض ہر چیز کا رنگ الگ ہے اور اس رنگ مثلاً سفید یا سرخ یا زرد یا سیاہ میں سے ہر سفید، سرخ، زرد اور سیاہ کی سفیدی، سرخی، زردی اور سیاہی دوسرے سے مختلف ہے، یہی حال اس کے ذائقے کا ہے۔ «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» [المؤمنون: ۱۴] ”سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی جس طرح مومن اور کافر، صالح اور فاسد دونوں قسم کے لوگ ہیں، اسی طرح دیگر مخلوقات میں بھی فرق اور اختلاف ہے، مثلًا پھولوں کے رنگ بھی مختلف ہیں اور ذائقے لذت اور خوشبو میں بھی ایک دوسرے سے مختلف۔ حتٰی کہ ایک ایک پھل کے بھی کئی کئی رنگ بھی مختلف اور ذائقے اور خوشبو اور لذت میں بھی ایک دوسرے سے مختلف جیسے کھجور ہے، انگور ہے، سیب اور دیگر بعض پھل ہیں۔ 27۔ 2 اسی طرح پہاڑ اور اس کے حصے یا راستے اور خطوط مختلف رنگوں کے ہیں، سفید، سرخ اور بہت گہرے، سیاہ راستہ یا لکیر۔ غَرَابِیْب، غَرِیْب، ُ کی جمع ہے (سیاہ) کی جمع ہے۔ جب سیاہ رنگ کے گہرے پن کو ظاہر کرتا ہو تو اس کے ساتھ غربیب کا الفاظ استعمال کیا جاتا ہے؛ اسود غربیب، جس کے معنی ہوتے ہیں، بہت گہرا سیاہ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے ہم رنگا رنگ [32] کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اور پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کی سفید سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔
[32] ہر قسم کی مخلوق میں تنوع بھی ہے فوائد بھی اور خوبصورتی بھی:۔
یہ دو آیات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی طرف ہر انسان کی توجہ مبذول کراتی ہیں۔ یعنی زمین ایک ہے پانی ایک ہے، ہوا ایک ہے۔ لیکن نباتات جو اگتی ہے ان کی شکلیں مختلف رنگ مختلف اور پھول ہیں تو خوشبوئیں مختلف ہوتی ہیں۔ گلاب کے پھول کی رنگت، ساخت اور خوشبو، لالہ کے پھول سے مختلف ہے اسی طرح چنبیلی کے پھول، نیلوفر اور سورج مکھی کے پھول بھی آپس میں مختلف ہیں۔ پھر ایک ہی پھول میں کئی رنگوں کی آمیزش کچھ ایسی خوبصورتی سے ترکیب دی گئی ہے جو فوراً دل کو موہ لیتی ہے اور اگر پھل پیدا ہوتے ہیں تو انگور کی شکل، رنگ، ذائقہ، اور خواص اور ہوں گے۔ سیب کے اور کھجور کے اور آم کے اور۔ پھر مثلاً آم ہی کو یا کھجور کو لیجئے۔ اس جنس کی آگے بے شمار انواع ہیں۔ اور ہر نوع میں ایسی امتیازی خصوصیات موجود ہیں کہ انسان یہ معلوم کر لیتا ہے کہ یہ کھجور یا آم فلاں قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ تنوع صرف پھولوں، پھلوں اور سبزیوں میں نہیں بلکہ جمادات کی طرف دیکھو تو وہاں بھی اللہ کی یہ قدرت کار فرما نظر آئے گی کہیں خشک کالے مٹیالے اور سیاہ پہاڑ ہیں۔ کہیں پہاڑوں پر بلند و بالا درخت اور سبزہ اگ کر نہایت خوشنما منظر پیش کر رہا ہے۔ کہیں نمک کا پہاڑ ہے کہیں سنگ مرمر کا پہاڑ ہے۔ پھر ایک ہی پہاڑ میں کہیں سیاہ دھاریاں دور تک چلی گئی ہیں۔ کہیں سپید ہیں اور کہیں سرخ۔ اب جانداروں کی طرف آئیے تو یہاں بھی ہم یہی منظر دیکھتے ہیں۔ مویشیوں میں سے ایک جنس کے کئی کئی رنگ ہیں انسانوں کا بھی یہی حال ہے کچھ گورے ہیں کچھ سفید ہیں کچھ سرخ ہیں کچھ کالے اور کچھ سانولے ہیں۔ حالانکہ ان کی پیدائش اور ترکیب کے اجزاء و عناصر پر غور کیا جائے تو وہ سب یکساں ہی ہوتے ہیں اس کے باوجود ہر جنس میں اللہ تعالیٰ نے اتنے لا تعداد نئے سے نئے ڈیزائن تیار کر دیئے ہیں جنہیں دیکھ کر ہی عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ یکسانیت میں اختلافات اور اختلافات میں یکسانیت، یہ مختلف رنگ اور ان رنگوں کا حسین امتزاج ان میں توازن و تناسب اور ان سب باتوں کے باوجود ان سب چیزوں میں انسان کے لئے خوشنمائی اور دلفریبی پھر ان میں سے ہر چیز کا انسان کے لئے مفید اور کارآمد ہونا کیا یہ سب چیزیں کسی عظیم مدبر اور حکیم صناع کی طرف رہنمائی نہیں کرتیں؟ کیا یہ سب باتیں اتفاقات کا نتیجہ قرار دی جا سکتی ہیں؟
علم صرف وہ مفید ہے جس سے اللہ کا خوف پیدا ہو اور حقیقی عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا بھی ہو:۔
ایک با شعور انسان جب ان باتوں میں غور کرتا ہے تو اس صانع حقیقی کی عظمت اس کے دل میں جاگزیں ہوتی جاتی ہے۔ اسے اس ہستی سے محبت ہو جاتی ہے۔ جو اتنی قدرتوں کی مالک ہے پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے میں اسے مزا آنے لگتا ہے اور یہی وہ نتیجہ ہے جسے قرآن ان الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف عالم لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور اس جملہ سے کئی باتیں مستفاد ہوتی ہیں مثلاً:
1۔ جتنا بھی ان مظاہر قدرت میں غور و فکر کیا جائے گا اتنی اس سے اللہ کی معرفت پیدا ہو گی اور اتنی ہی اللہ کی خشیت پیدا ہو گی۔
2۔ علوم کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ علم جس سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے یہ علم کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خواہ ایسا شخص اصطلاحی معنوں میں پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ دوسرے وہ علوم ہیں جو خشیت تو پیدا نہیں کرتے تاہم انسانیت کے لئے مفید ہیں جیسے حساب اور مختلف زبانوں کا علم ان پر بھی علم کا اطلاق ہو سکتا ہے اور جو علم اللہ سے دور کر دے وہ علم نہیں بلکہ ضلالت ہے۔
3۔ کیا علماء سے مراد سائنٹسٹ ہیں؟ ہر شخص اللہ کی آیات میں غور کرنے کے بعد ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچتا مثلاً پرویز صاحب انہی آیات کا نتیجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ”ان آیات میں نباتات، جمادات اور حیوانات کا ذکر ہے اور یہی چیزیں علم سائنس کی بڑی بڑی شاخیں ہیں لہٰذا ان علوم کے ماہر ہی حقیقتاً ”عالم“ ہیں۔ جنہیں آج کی اصطلاح میں سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔ [اسباب زوال امت ص 95]
اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالم یا سائنٹسٹ حضرات اللہ سے ڈرتے بھی ہیں؟ اصل شرط تو خشیۃ اللّٰہ ہے نہ کہ ان علوم میں مہارت۔ اگر وہ ڈرتے بھی ہیں تو پھر وہ فی الواقع عالم ہیں۔ ورنہ نہیں۔
4۔ اس آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہلاتے ہیں وہ اس آیت کے مصداق صرف اس صورت میں ہوں گے جبکہ ان کے اندر اللہ کی خشیت موجود ہو۔
1۔ جتنا بھی ان مظاہر قدرت میں غور و فکر کیا جائے گا اتنی اس سے اللہ کی معرفت پیدا ہو گی اور اتنی ہی اللہ کی خشیت پیدا ہو گی۔
2۔ علوم کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ علم جس سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے یہ علم کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خواہ ایسا شخص اصطلاحی معنوں میں پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ دوسرے وہ علوم ہیں جو خشیت تو پیدا نہیں کرتے تاہم انسانیت کے لئے مفید ہیں جیسے حساب اور مختلف زبانوں کا علم ان پر بھی علم کا اطلاق ہو سکتا ہے اور جو علم اللہ سے دور کر دے وہ علم نہیں بلکہ ضلالت ہے۔
3۔ کیا علماء سے مراد سائنٹسٹ ہیں؟ ہر شخص اللہ کی آیات میں غور کرنے کے بعد ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچتا مثلاً پرویز صاحب انہی آیات کا نتیجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ”ان آیات میں نباتات، جمادات اور حیوانات کا ذکر ہے اور یہی چیزیں علم سائنس کی بڑی بڑی شاخیں ہیں لہٰذا ان علوم کے ماہر ہی حقیقتاً ”عالم“ ہیں۔ جنہیں آج کی اصطلاح میں سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔ [اسباب زوال امت ص 95]
اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالم یا سائنٹسٹ حضرات اللہ سے ڈرتے بھی ہیں؟ اصل شرط تو خشیۃ اللّٰہ ہے نہ کہ ان علوم میں مہارت۔ اگر وہ ڈرتے بھی ہیں تو پھر وہ فی الواقع عالم ہیں۔ ورنہ نہیں۔
4۔ اس آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہلاتے ہیں وہ اس آیت کے مصداق صرف اس صورت میں ہوں گے جبکہ ان کے اندر اللہ کی خشیت موجود ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رب کی قدرتیں ٭٭
رب کی قدرتوں کے کمالات دیکھو کہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں گوناگوں نمونے نظر آتے ہیں۔ ایک پانی آسمان سے اترتا ہے اور اسی سے مختلف قسم کے رنگ برنگے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔ سرخ سبز سفید وغیرہ اسی طرح ہر ایک کی خوشبو الگ الگ ہر ایک کا ذائقہ جداگانہ جیسے اور آیت میں فرمایا «وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» ۱؎ [13-الرعد:4]، یعنی کہیں انگور ہے، کہیں کھجور ہے، کہیں کھیتی ہے وغیرہ اسی طرح پہاڑوں کی پیدائش بھی قسم قسم کی ہے کوئی سفید ہے کوئی سرخ ہے کوئی کالا ہے۔ کسی میں راستے اور گھاٹیاں ہیں۔ کوئی لمبا ہے کوئی ناہموار ہے۔
[آیت ۲۸] ان بیجان چیزوں کے بعد جاندار چیزوں پر نظر ڈالو۔ انسانوں کو، جانوروں کو،چوپایوں کو دیکھو ان میں بھی قدرت کی وضع وضع کی گلکاریاں پاؤ گے۔ بربرحبشی طماطم بالکل سیاہ فام ہوتے ہیں۔ مقالیہ رومی بالکل سفید رنگ،عرب درمیانہ، ہندی ان کے قریب قریب۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ» ۱؎ [30-الروم:22] تمہاری بول چال کا اختلاف تمہاری رنگتوں کا اختلاف بھی ایک عالم کے لیے تو قدرت کی کامل نشانی ہے۔ اسی طرح چوپائے اور دیگر حیوانات کے رنگ روپ بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ بلکہ ایک ہی قسم کے جانوروں میں ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں۔ بلکہ ایک ہی جانور کے جسم پر کئی کئی قسم کے رنگ ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ سب سے اچھا خالق اللہ کیسی کیسی کچھ برکتوں والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ رنگ آمیزی بھی کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ایسا رنگ رنگتا ہے جو کبھی ہلکا نہ پڑے۔ سرخ زرد اور سفید۔ ۱؎ [مسند بزار:2944:ضعیف] یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے۔
اس کے بعد ہی فرمایا کہ جتنا کچھ خوف اللہ سے کرنا چاہیئے اتنا خوف تو اس سے صرف علماء ہی کرتے ہیں کیونکہ وہ جاننے بوجھنے والے ہوتے ہیں۔ حقیقتاً جو شخص جو قدر اللہ کی ذات سے متعلق معلومات زیادہ رکھے گا اسی قدر اس عظیم قدیر علیم اللہ کی عظمت وہیبت اس کے دل میں بڑھے گی اور اسی قدر اس کی خشیت اس کے دل میں زیادہ ہو گی۔ جو جانے گا کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے وہ قدم قدم پر اس سے ڈرتا رہے گا۔ اللہ کے ساتھ سچا علم اسے حاصل ہے جو اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرائے اس کے حلال کئے ہوئے کو حلال اور اس کے حرام بتائے کاموں کو حرام جانے اس کے فرمان پر یقین کرے اس کی نصیحت کی نگہبانی کرے اس کی ملاقات کو برحق جانے اپنے اعمال کے حساب کو سچ سمجھے۔ خشیت ایک قوت ہوتی ہے جو بندے کے اور اللہ کی نافرمانی کے درمیان حائل ہو جاتی ہے عالم کہتے ہی اسے ہیں جو در پردہ بھی اللہ سے ڈرتا رہے اور اللہ کی رضا اور پسند کو چاہے رغبت کرے اور اس کی ناراضگی کے کاموں سے نفرت رکھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں باتوں کی زبادتی کا نام علم نہیں علم نام ہے بہ کثرت اللہ سے ڈرنے کا۔ امام مالک کا قول ہے کہ کثرت روایات کا نام علم نہیں علم تو ایک نام ہے نور ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ احد بن صالح مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں علم کثرت روایات کا نام نہیں بلکہ علم اس کا جس کی تابعداری اللہ کی طرف سے فرض ہے یعنی کتاب و سنت اور جو اصحاب اور ائمہ سے پہنچا ہو وہ روایت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ نور جو بندے کے آگے آگے ہوتا ہے وہ علم کو اور اس کے مطلب کو سمجھ لیتا ہے۔ مروی ہے کہ علماء کی تین قسمیں ہیں عالم باللہ، عالم بامر اللہ اور عالم باللہ وبامر اللہ عالم باللہ، عالم بامر اللہ نہیں اور عالم با مر اللہ عالم باللہ نہیں۔ ہاں عالم باللہ و بامر اللہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور حدود فرائض کو جانتا ہو۔ عالم باللہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو لیکن حدود فرائض کو نہ جانتا ہو۔ عالم بامر اللہ وہ ہے جو حدود فرائض کو تو جانتا ہو لیکن اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہو۔