ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 19

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾
اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ En
اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں
En
اور اندھا اور آنکھوں واﻻ برابر نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) { وَ مَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ:} یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کہ کافر اندھا ہے اور مومن آنکھوں والا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ نہ تو نابینا اور بینا [27] برابر ہو سکتے ہیں
[27] بینا اور نابینا کون لوگ ہیں؟
یعنی ایک شخص اس طرح دل کا اندھا بنا ہوا ہے کہ کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں میں غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ دوسرا شخص انہی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور عجائبات قدرت میں غور کرنے کے بعد اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہو جاتا ہے اور بے اختیار اللہ کی حمد و ثنا اس کی زبان پر آ جاتی ہے۔ تو کیا یہ دونوں ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟ یا ایک شخص جہالت کی تاریکیوں میں مسلسل آگے بڑھتا جا رہا ہے اور دوسرا علم کی روشنی میں محتاط رہ کر اپنا سفر زندگی جاری رکھتا ہے کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں اپنے اپنے طرز زندگی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں تو ان کا انجام بھی ایک دوسرے کے برعکس ہی ہونا چاہئے یعنی جس طرح ٹھنڈی چھاؤں اور چلچلاتی دھوپ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم کی روشنی میں سفر کرنے والے کو ٹھنڈی چھاؤں والی اور دوسری نعمتوں والی جنت نصیب ہو گی۔ اور جہالت کے اندھیروں میں آگے بڑھنے والا یک لخت جہنم کے کنارے جا پہنچے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایک موازنہ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایماندار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے کافر اندھے اندھیرے اور بھرپور لو والی گرمی کی مانند ہے۔ جیسے فرمایا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122]‏‏‏‏، یعنی جو مردہ تھا پھر اسے ہم نے زندہ کر دیا اور اسے نور دیا جسے لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے ایسا شخص اور وہ شخص جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہیں سکتا کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ اور آیت میں ہے «مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:24]‏‏‏‏، یعنی ان دونوں جماعتوں کی مثال اندھے بہرے اور دیکھنے اور سننے والوں کی سی ہے۔ مومن تو آنکھوں اور کانوں والا اجالے اور نور والا ہے پھر راہ مستقیم پر ہے۔ جو صحیح طور پر سایوں اور نہروں والی جنت میں پہنچے گا اور اس کے برعکس کافر اندھا بہرا اور اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے جن سے نکل ہی نہ سکے گا اور ٹھیک جہنم میں پہنچے گا۔ جو تند و تیز حرارت اور گرمی والی آگ کا مخزن ہے۔ اللہ جسے چاہے سنا دے یعنی اس طرح سننے کی توفیق دے کہ دل سن کر قبول بھی کرتا جائے۔ تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتا۔