ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 16

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾
اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے۔ En
اگر چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے
En
اگر وه چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کردے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17،16) ➊ { اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ …:} زمخشری نے فرمایا: اس آیت میں شریک بنانے کی وجہ سے ان پر غضب کا اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ» ‏‏‏‏ [محمد: ۳۸] اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمھاری جگہ تمھارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمھاری طرح نہیں ہوں گے۔
➋ غضب کے اظہار کے ساتھ اپنے غنی ہونے کا بھی بیان ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمھیں ہلاک کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، کیونکہ اس نے تمھیں اپنی کوئی محتاجی دور کرنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا۔ نہ تمھارے نہ ہونے سے اس کے ملک میں کوئی کمی واقع ہو گی، نہ یہ کہ وہ تمھارے جیسے اور پیدا نہیں کر سکتا، وہ چاہے تو تمھیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کر لے، جو تم سے ہر طرح بہتر ہو اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یہ بھی اس کی شان بےنیازی ہی کی ایک مثال ہے کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کے گھاٹ اتار کے تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کر دے، جو اس کی اطاعت گزار ہو، اس کی نافرمان نہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایک نئی مخلوق اور نیا عالم پیدا کر دے جس سے تم ناآشنا ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور (تمہاری جگہ) کوئی نئی خلقت [24] لے آئے
[24] یعنی اگر تم اللہ کی نافرمانی کی راہ اختیار کرو گے تو تمہیں پرے ہٹا دے گا۔ صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لا آباد کرے گا جو اس کے فرمانبردار ہوں۔ پھر ان کی آزمائش کرے گا۔ ابتدائے نوع انسان سے اللہ کا یہی دستور رہا ہے۔ کہ وہ نافرمان اور سرکش قوموں کا سر کچل کر ان کی جگہ دوسری قومیں لا آباد کرتا ہے اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ قادر مطلق ٭٭
اللہ ساری مخلوق سے بے نیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے۔کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بیبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بے نیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں، اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد و ثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر دے اور تمہارے عوض دوسرے لوگوں کو لائے، رب پر یہ کام کچھ مشکل نہیں، قیامت کے دن کوئی دوسرے کے گناہ اپنے اوپر نہ لے گا۔ اگر کوئی گنہگار اپنے بعض یا سب گناہ دوسرے پر لادنا چاہے تو یہ چاہت بھی اس کی پوری نہ ہو گی۔
کوئی نہ ملے گا کہ اس کا بوجھ بٹائے عزیز و اقارب بھی منہ موڑ لیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ گو ماں باپ اور اولاد ہو۔ ہر شخص اپنے حال میں مشغول ہو گا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پڑوسی پڑوسی کے پیچھے پڑ جائے گا اللہ سے عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ تو سہی کہ اس نے مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کر لیا تھا؟ کافر مومن کے پیچھے لگ جائے گا اور جو احسان اس نے دنیا میں کئے تھے وہ یاد دلا کر کہے گا کہ آج میں تیرا محتاج ہوں مومن بھی اس کی سفارش کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کا عذاب قدرے کم ہو جائے گو جہنم سے چھٹکارا محال ہے۔ باپ اپنے بیٹے کو اپنے احسان جتائے گا اور کہے گا کہ رائی کے ایک دانے برابر مجھے آج اپنی نیکیوں میں سے دیدے وہ کہے گا ابا آپ چیز تو تھوڑی سی طلب فرما رہے ہیں لیکن آج تو جو کھٹکا آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے میں تو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ پھر بیوی کے پاس جائے گا اس سے کہے گا میں نے تیرے ساتھ دنیا میں کیسے سلوک کئے ہیں؟ وہ کہے گی بہت ہی اچھے یہ کہے گا آج میں تیرا محتاج ہوں مجھے ایک نیکی دیدے تاکہ عذابوں سے چھوٹ جاؤں جواب ملے گا کہ سوال تو بہت ہلکا ہے لیکن جس خوف میں تم ہو وہی ڈر مجھے بھی لگا ہوا ہے میں تو آج کچھ بھی سلوک نہیں کر سکتی۔
قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖۡ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا ۭ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [31-لقمان:33]‏‏‏‏ یعنی آج نہ باپ بیٹے کے کام آئے نہ بیٹا باپ کے کام آئے اور فرمان ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ» ۱؎ [80-عبس:34]‏‏‏‏، آج انسان اپنے بھائی سے، ماں سے، باپ سے، بیوی سے اور اولاد سے بھاگتا پھر ے گا۔ ہر شخص اپنے حال میں سمت و بیخود ہو گا۔ ہر ایک دوسرے سے غافل ہو گا، تیرے وعظ و نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عقلمند اور صاحب فراست ہوں جو اپنے رب سے قدم قدم پر خوف کرنے والے اور اطاعت اللہ کرتے ہوئے نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔ نیک اعمال خود تم ہی کو نفع دیں گے جو پاکیزگیاں تم کروگے ان کا نفع تم ہی کو پہنچے گا۔ آخر اللہ کے پاس جانا ہے، اس کے سامنے پیش ہونا ہے، حساب کتاب اس کے سامنے ہونا ہے، اعمال کا بدلہ وہ خود دینے والا ہے۔