ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 15

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾
اے لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ En
لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے
En
اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز خوبیوں واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ …:} خبر { الْفُقَرَآءُ } پر الف لام آنے سے حصر اور تاکید کا معنی پیدا ہو گیا کہ لوگو! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔ اسی طرح { وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ } میں ضمیر فصل { هُوَ } اور خبر { الْغَنِيُّ } پر الف لام سے حصر کامعنی پیدا ہوا کہ صرف اللہ ہی ہے جو سب سے بے پروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
➋ یہ بیان کرنے کے بعد کہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا جنھیں پکارا جاتا ہے وہ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ایک قطمیر (کھجور کی گٹھلی پر باریک چھلکا) کے مالک بھی نہیں۔ اب پچھلے سارے بیان کے خلاصے اور نتیجے کے طور پر فرمایا، لوگو! تم ہی اللہ تعالیٰ کے ہر طرح سے محتاج ہو، اپنے وجود میں، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے، لہٰذا اسی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو۔
➌ { وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ:} یعنی دوسرے سب محتاج ہیں، ایک اللہ تعالیٰ ہے جو غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں۔ غنی کے ساتھ حمید اس لیے فرمایا کہ غنی ایسا بھی ہو سکتا ہے جو کسی کا محتاج تو نہ ہو مگر نہ اس میں کوئی خوبی ہو نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہو۔ فرمایا، اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے، تمھیں اور تمام مخلوق کو حاصل ہر نعمت اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہی تمام تعریفوں اور تمام شکر کا مستحق ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 ناس کا لفظ عام ہے جس میں عوام وخاص حتی کہ انبیاء وصلحا سب آجاتے ہیں اللہ کے در کے سب ہی محتاج ہیں لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ 15۔ 2 وہ اتنا بےنیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے مخالف ہوجائیں اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور سب اس کے اطاعت گزار بن جائیں، تو اس سے اس کی قوت میں زیادتی نہ ہوگی بلکہ نافرمانی میں لوگوں کا اپنا ہی نقصان ہے۔ اور عبادت واطاعت میں اپنا ہی فائدہ ہے۔ 15۔ 3 یعنی محمود ہے اپنی نعمتوں کی وجہ سے۔ پس ہر نعمت، جو اس نے بندوں پر کی ہے، اس پر وہ حمد و شکر کا مستحق ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو [23] اور وہ (ہر چیز سے) بے نیاز اور حمد کے لائق ہے۔
[23] یہ خطاب تمام جہان کے انسانوں سے ہے کہ تم اپنی صحت کے لئے، اپنے رزق کے لئے، اپنی زندگی کی بقاء غرض ایک ایک چیز کے لئے اللہ کے محتاج ہو تمہارے رزق اور بقائے حیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے جن جن اشیائے کائنات کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ہٹا لے تو تم زندہ بھی نہیں رہ سکتے۔ دوسری ضرورتوں کی احتیاج بعد کی چیز ہے اور اللہ کی شان یہ ہے کہ اسے کسی انسان بلکہ کائنات کی کسی بھی چیز کی احتیاج نہیں۔ وہ بذات خود ازل سے لے کر ابد تک قائم و دائم ہے۔ اور کوئی اس کی حمد و ثنا نہ بھی کرے تو بھی وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ قادر مطلق ٭٭
اللہ ساری مخلوق سے بے نیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے۔کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بیبس ہے۔ غنی بےپرواہ اور بے نیاز صرف اللہ ہی ہے تمام باتوں پر قادر وہی ہے وہ جو کرتا ہے اس میں قابل تعریف ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت و تعریف سے خالی نہیں۔ اپنے قول میں، اپنے فعل میں اپنی شرع میں تقدیروں کے مقرر کرنے میں غرض ہر طرح سے وہ بزرگ اور لائق حمد و ثناء ہے۔ لوگو اللہ کی قدرت ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو غارت و برباد کر دے اور تمہارے عوض دوسرے لوگوں کو لائے، رب پر یہ کام کچھ مشکل نہیں، قیامت کے دن کوئی دوسرے کے گناہ اپنے اوپر نہ لے گا۔ اگر کوئی گنہگار اپنے بعض یا سب گناہ دوسرے پر لادنا چاہے تو یہ چاہت بھی اس کی پوری نہ ہو گی۔
کوئی نہ ملے گا کہ اس کا بوجھ بٹائے عزیز و اقارب بھی منہ موڑ لیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ گو ماں باپ اور اولاد ہو۔ ہر شخص اپنے حال میں مشغول ہو گا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پڑوسی پڑوسی کے پیچھے پڑ جائے گا اللہ سے عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ تو سہی کہ اس نے مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کر لیا تھا؟ کافر مومن کے پیچھے لگ جائے گا اور جو احسان اس نے دنیا میں کئے تھے وہ یاد دلا کر کہے گا کہ آج میں تیرا محتاج ہوں مومن بھی اس کی سفارش کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کا عذاب قدرے کم ہو جائے گو جہنم سے چھٹکارا محال ہے۔ باپ اپنے بیٹے کو اپنے احسان جتائے گا اور کہے گا کہ رائی کے ایک دانے برابر مجھے آج اپنی نیکیوں میں سے دیدے وہ کہے گا ابا آپ چیز تو تھوڑی سی طلب فرما رہے ہیں لیکن آج تو جو کھٹکا آپ کو ہے وہی مجھے بھی ہے میں تو کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ پھر بیوی کے پاس جائے گا اس سے کہے گا میں نے تیرے ساتھ دنیا میں کیسے سلوک کئے ہیں؟ وہ کہے گی بہت ہی اچھے یہ کہے گا آج میں تیرا محتاج ہوں مجھے ایک نیکی دیدے تاکہ عذابوں سے چھوٹ جاؤں جواب ملے گا کہ سوال تو بہت ہلکا ہے لیکن جس خوف میں تم ہو وہی ڈر مجھے بھی لگا ہوا ہے میں تو آج کچھ بھی سلوک نہیں کر سکتی۔
قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖۡ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا ۭ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [31-لقمان:33]‏‏‏‏ یعنی آج نہ باپ بیٹے کے کام آئے نہ بیٹا باپ کے کام آئے اور فرمان ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ» ۱؎ [80-عبس:34]‏‏‏‏، آج انسان اپنے بھائی سے، ماں سے، باپ سے، بیوی سے اور اولاد سے بھاگتا پھر ے گا۔ ہر شخص اپنے حال میں سمت و بیخود ہو گا۔ ہر ایک دوسرے سے غافل ہو گا، تیرے وعظ و نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عقلمند اور صاحب فراست ہوں جو اپنے رب سے قدم قدم پر خوف کرنے والے اور اطاعت اللہ کرتے ہوئے نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔ نیک اعمال خود تم ہی کو نفع دیں گے جو پاکیزگیاں تم کروگے ان کا نفع تم ہی کو پہنچے گا۔ آخر اللہ کے پاس جانا ہے، اس کے سامنے پیش ہونا ہے، حساب کتاب اس کے سامنے ہونا ہے، اعمال کا بدلہ وہ خود دینے والا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے، انھیں ان کے احوال و اوصاف سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں:
(۱) وہ وجود میں آنے کے لیے اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لائے تو وہ وجود میں نہیں آ سکتے۔
(۲) وہ اپنے مختلف قویٰ، اعضاء اور جوارح کے حصول میں اس کے محتاج ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کو یہ قویٰ عطا نہ کرے تو کسی کام کے لیے ان میں کوئی استعداد نہیں۔
(۳) وہ خوراک، رزق اور دیگر ظاہری وباطنی نعمتوں کے حصول میں اسی کے محتاج ہیں اگر اس کا فضل و کرم نہ ہو اور اگر وہ ان امور کے حصول میں آسانی پیدا نہ کرے تو وہ رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔
(۴) وہ اپنے مصائب وتکالیف، کرب و غم اور شدائد کو دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی مصیبتوں اور کرب و غم کو دور اور ان کی عسرت کا ازالہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ مصائب و شدائد میں گھرے رہیں۔
(۵) وہ اپنی مختلف انواع کی تربیت و تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
(۶) وہ اسے الٰہ بنانے، اس سے محبت کرنے، اس کو معبود بنانے اور خالص اسی کی عبادت کرنے میں اس کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو ان امور کی توفیق عطا نہ کرے تو یہ ہلاک ہو جائیں، ان کی ارواح، قلوب اور احوال فاسد ہو جائیں۔
(۷) وہ ان چیزوں کے علم کے حصول میں جنھیں وہ نہیں جانتے اور ان کی اصلاح کرنے والے عمل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو علم عطا نہ کرے تو وہ کبھی بھی علم سے بہرہ ور نہ ہو سکیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو عمل کی توفیق سے نہ نوازے تو وہ کبھی نیکی نہ کر سکیں... وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے بالذات اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں خواہ انھیں اپنی کسی حاجت کا شعور ہو یا نہ ہو۔
مگر لوگوں میں سے توفیق سے بہرہ ور وہی ہے جو دینی اور دنیاوی امور سے متعلق اپنے تمام احوال میں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے فقرواحتیاج کا مشاہدہ کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی اور فروتنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے کہ وہ اسے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہ کرے، اس کے تمام امور میں اس کی مدد فرمائے اور وہ اس معنیٰ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس رب اور معبود کی کامل اعانت کا مستحق ہے جو ماں کے اپنے بچوں پر مہربان ہونے سے کہیں بڑھ کر اس پر مہربان اور رحیم ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ هُوَ الْ٘غَنِیُّ الْحَمِیْدُ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل کی مالک ہے۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کی محتاج نہیں جن کی مخلوق محتاج اور ضرورت مند ہوتی ہے کیونکہ اس کی صفات تمام ترصفات کمال اور جلال ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غنائے تام ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو دنیا وآخرت میں غنا سے نوازا ہے۔ ﴿الْحَمِیْدُ وہ اپنی ذات اور اپنے ناموں میں قابل حمدوستائش ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے، اس کے تمام اوصاف عالی شان اور اس کے تمام افعال سراسر فضل و احسان، عدل و حکمت اور رحمت پر مبنی ہیں۔
وہ اپنے اوامرونواہی میں قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنی صفات، فضل و اکرام اور جزاوسزا میں عدل و انصاف کے لیے قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے غنا میں قابل تعریف ہے اور وہ اپنی حمد وثنا سے مستغنی اور بے نیاز ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخاطبُ تعالى جميع الناس، ويخبِرُهم بحالِهم ووصفِهم، وأنهم فقراءُ إلى الله من جميع الوجوه: فقراءُ في إيجادِهم؛ فلولا إيجادُه إيَّاهم لم يوجدوا، فقراء في إعدادِهم بالقُوى والأعضاء والجوارح، التي لولا إعدادُه إيَّاهم بها؛ لما استعدُّوا لأيِّ عمل كان، فقراء في إمدادِهم بالأقواتِ والأرزاقِ والنعم الظاهرةِ والباطنة؛ فلولا فضلُه وإحسانُه وتيسيرُه الأمور، لما حصل لهم من الرزقِ والنعم شيءٌ، فقراءُ في صرف النقم عنهم ودفع المكارِهِ وإزالة الكروب والشدائدِ؛ فلولا دفعُه عنهم وتفريجُه لكُرُباتهم وإزالتُهُ لعسرِهِم؛ لاستمرَّتْ عليهم المكارهُ والشدائدُ، فقراءُ إليه في تربيتهم بأنواع التربية وأجناس التدبير، فقراء إليه في تألُّههم له وحُبِّهم له وتعبُّدهم وإخلاص العبادة له تعالى؛ فلو لم يوفِّقْهم لذلك؛ لهلكوا وفسدتْ أرواحُهم وقلوبُهم وأحوالُهم، فقراءُ إليه في تعليمهم ما لا يعلمون وعملهم بما يُصْلِحُهم؛ فلولا تعليمُه؛ لم يتعلَّموا، ولولا توفيقُه؛ لم يَصْلُحوا؛ فهم فقراء بالذات إليه بكلِّ معنى وبكل اعتبارٍ، سواء شعروا ببعض أنواع الفقرِ أم لم يشعُروا، ولكنَّ الموفَّق منهم الذي لا يزال يشاهدُ فَقْرَه في كل حال من أمورِ دينه ودنياه، ويتضرَّعُ له ويسألُه أنْ لا يَكِلَه إلى نفسِهِ طرفةَ عين وأنْ يعينَه على جميع أمورِهِ، ويستصحبُ هذا المعنى في كلِّ وقتٍ؛ فهذا حريٌّ بالإعانة التامَّة من ربِّه وإلهه الذي هو أرحمُ به من الوالدةِ بولدها.

{والله هو الغنيُّ الحميدُ}؛ أي: الذي له الغنى التامُّ من جميع الوجوه؛ فلا يحتاجُ إلى ما يحتاجُ إليه خلقُه، ولا يفتقرُ إلى شيءٍ مما يفتقرُ إليه الخلقُ، وذلك لكمال صفاتِهِ، وكونِها كلها صفاتِ كمال ونعوتَ جلال، ومن غناه تعالى أنَّه أغنى الخلقَ في الدُّنيا والآخرة، الحميدُ في ذاته، وأسمائِهِ؛ لأنَّها حسنى، وأوصافه؛ لكونها عليا، وأفعاله؛ لأنَّها فضلٌ وإحسانٌ وعدلٌ وحكمةٌ ورحمةٌ، وفي أوامره ونواهيه؛ فهو الحميدُ على ما فيه، وعلى ما منّه ، وهو الحميدُ في غناه، الغنيُّ في حمده.