ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 47

قُلۡ مَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَہُوَ لَکُمۡ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۴۷﴾
کہہ میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ En
کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے) ۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
En
کہہ دیجیئے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وه تمہارے لئے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے۔ وه ہر چیز سے باخبر (اور مطلع) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) ➊ { قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ …:} یہ دوسری تلقین ہے کہ اس بات کی صراحت کر دیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے پر میں تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ تو نہیں مانگتا، میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم نے مجھے کچھ دیاہے تو وہ تم لے لو، جب اسے معلوم ہو کہ اس نے اسے کچھ نہیں دیا، مطلب صرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تم نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں جو میں تمھیں واپس دوں۔ ایسے ہی یہاں فرمایا کہ اگر میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہے تو وہ تمھاری ہوئی۔ مطلب یہ کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہی نہیں، میری دعوت تو محض تمھاری خیر خواہی کے لیے ہے، جیسا کہ ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [الشعراء: ۱۲۷] اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ میں نے یہ پیغام پہنچا کر تم سے کسی چیز کا سوال کیا ہے تو وہ تمھارے ہی فائدے کی چیز ہے۔ میرا تم سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرو، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا [الفرقان: ۵۷] کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔
➋ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ:} یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں کہتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میری مزدوری اللہ کے ذمے ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ میرے صدق اور خلوص نیت پر گواہ ہے کہ اس کا پیغام پہنچانے میں مجھے دنیا کی کسی چیز کا طمع نہیں، نہ میں اس کے سوا کسی سے کسی مزدوری یا بدلے کا طلب گار ہوں، نہ اس کی خواہش رکھتا ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 اس میں اپنی بےغرضی اور دنیا کے مال و متاع بےرغبتی کا مزید اظہار فرما دیا تاکہ ان کے دلوں میں اگر یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ اس دعوی نبوت سے اس کا مقصد کہیں دنیا کمانا تو نہیں، تو وہ دور ہوجائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ آپ ان سے کہئے کہ: اگر میں نے تم سے کچھ اجرت مانگی تو وہ تم ہی رکھو [72]۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے۔
[72] دوسری یہ بات بھی سوچو کہ جب سے میں نے دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا ہے۔ دن رات اسی کام میں لگا ہوا ہوں۔ تم سب لوگوں کی دشمنی بھی مول لے لی ہے۔ اپنا روزگار بھی ختم کر دیا ہے۔ تم سے بھی نہ کوئی معاوضہ طلب کرتا ہوں نہ کوئی دوسری غرض رکھتا ہوں۔ تو کیا ایک دنیا دار یا فریب کار اور اقتدار کا بھوکا یہ کام کر سکتا ہے یا ایسی بے لوث خدمت سرانجام دے سکتا ہے؟ میں تم سے پیسہ نہیں مانگتا البتہ یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم غلط راستہ کو چھوڑ کر سیدھے راستہ کی طرف آجاؤ۔ یہی میرا تم سے معاوضہ ہے اور یہی مطالبہ ہے اور اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔
پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15]‏‏‏‏ الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔
جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18]‏‏‏‏ ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81]‏‏‏‏ ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720]‏‏‏‏ (‏‏‏‏بخاری، مسلم)
باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]‏‏‏‏