تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ …:} یعنی پیغمبر تو تمھیں ایک نہایت سخت عذاب آنے سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہے، تو تم اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرو کہ اپنی قوم کو شدید عذاب آنے سے پہلے آگاہ کر کے اس سے بچانے کی کوشش کرنے والا دیوانہ ہوتا ہے یا اس کا ہمدرد اور خیر خواہ۔ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھے اور فرمایا: {”يَا صَبَاحَاهُ“} (جو کسی اہم خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کہا جاتا تھا) تو قریش آپ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: ”تمھیں کیا ہوا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ يُصَبِّحُكُمْ أَوْ يُمَسِّيْكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِيْ؟] ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ دشمن تم پر صبح حملہ کرے گا یا شام حملہ کرے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟“ انھوں نے کہا: [بَلٰی] ”کیوں نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ] ”تو پھر میں تمھیں ایک نہایت سخت عذاب سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: [تَبًّا لَكَ أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟] ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (سورت) اتاری: «تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ» [بخاري، التفسیر، باب: «إن ھو إلا نذیر لکم…» : ۴۸۰۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[71] کیا تمہارے خیال میں میں اس لئے دیوانہ ہوں کہ تمہیں یہ بتلا رہا ہوں جو طریق زندگی تم نے اپنا رکھا ہے وہ غلط ہے۔ اور اس کے برے انجام سے ڈرا رہا ہوں۔ اور اگر میں یہ کہہ دیتا کہ شاباش! تم لوگ بہت ٹھیک جا رہے ہو تب تو سب معاملہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ اور اگر میں تمہیں چند ٹھوس حقائق کی اطلاع دیتا ہوں تو تم مجھے دیوانہ کہنے لگے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض لوگوں نے اس آیت سے تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے کا مطلب سمجھا ہے اور اس کے ثبوت میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں لکین وہ حدیث ضعیف ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { میں تین چیزیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہ رہا ہوں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا مجھ سے پہلے کسی کے لیے وہ حلال نہیں ہوا وہ مال غنیمت کو جمع کر کے جلا دیتے تھے۔ اور میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی چیز بنا دی گئی ہے۔ تاکہ میں اس کی مٹی سے تیمم کر لوں اور جہاں ہوں اور نماز کا وقت آ جائے نماز ادا کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے سامنے با ادب کھڑے ہو جایا کرو دو دو اور ایک ایک۔ اور ایک مہینہ کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ } ۱؎ یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔
اور بہت ممکن ہے کہ اس میں آیت کا ذکر اور اسے جماعت سے یا الگ نماز پڑھ لینے کے معنی میں لے لینا یہ راوی کا اپنا قول ہو اور اس طرح بیان کر دیا گیا ہو کہ بظاہر وہ الفاظ حدیث کے معلوم ہوتے ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کی حدیثیں بہ سند صحیح بہت سے مروی ہیں اور کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور عرب کے دستور کے مطابق «یا صباحاہ» کہہ کر بلند آواز کی جو علامت تھی کہ کوئی شخص کسی اہم بات کے لیے بلا رہا ہے۔ عادت کے مطابق اسے سنتے ہی لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تمہاری طرف چڑھائی کر کے چلا آ رہا ہے اور عجب نہیں کہ صبح شام ہی تم پر حملہ کر دے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان جواب دیا کہ ہاں بےشک ہم آپ کو سچا جانیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو! میں تمہیں اس عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہارے آگے ہے۔ یہ سن کر ابولہب ملعون نے کہا تیرے ہاتھ ٹوٹیں کیا اسی کے لیے تو نے ہم سب کو جمع کیا تھا؟ اس پر سورہ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ١ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ٢ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ٣ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ٤ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ٥» ، اتری۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4801]
یہ حدیثیں «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہمارے پاس آ کر تین مرتبہ آواز دی۔ فرمایا لوگو! میری اور اپنی مثال جانتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا علم ہے۔ آپ نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس قوم جیسی ہے جس پر دشمن حملہ کرنے والا تھا انہوں نے اپنا آدمی بھیجا کہ جا کر دیکھے اور دشمن کی نقل و حرکت سے انہیں مطلع کرے۔ اس نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی طرف چلا آ رہا ہے اور قریب پہنچ چکا ہے تو وہ لپکتا ہوا قوم کی طرف بڑھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اطلاع پہنچانے سے پہلے ہی دشمن حملہ نہ کر دے۔ اس لیے اس نے راستے میں سے ہی اپنا کپڑا ہلانا شروع کیا کہ ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، تین مرتبہ یہی کہا۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:صحیح لغیرہ]
ایک اور حدیث میں ہے { میں اور قیامت ایک ساتھ ہی بھیجے گئے قریب تھا کہ قیامت مجھ سے پہلے ہی آ جاتی۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:حسن لغیرہ]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل}: يا أيُّها الرسولُ لهؤلاء المكذِّبين المعاندين المتصدِّين لردِّ الحقِّ وتكذيبِهِ والقدح بِمَنْ جاء به: {إنَّما أعِظُكم بواحدةٍ}؛ أي: بخصلةٍ واحدةٍ أشيرُ عليكم بها وأنصحُ لكم في سلوكها، وهي طريقٌ نَصَفٌ، لست أدعوكم بها إلى اتِّباع قولي ولا إلى ترك قولِكُم من دون موجبٍ لذلك، وهي: {أن تقوموا للهِ مثنى وفرادى}؛ أي: تنهضوا بهمَّةٍ ونشاطٍ وقصدٍ لاتِّباع الصواب وإخلاصٍ لله مجتمعين ومتباحِثين في ذلك ومتناظرين وفرادى، كلُّ واحدٍ يخاطِبُ نفسَه بذلك؛ فإذا قُمتم لله مثنى وفرادى؛ استعملتُم فِكْرَكُم وأجَلْتُموه وتدبَّرْتُم أحوال رسولِكُم: هل هو مجنونٌ فيه صفاتُ المجانين من كلامِهِ وهيئتِهِ وصفتِهِ؟ أم هو نبيٌّ صادقٌ منذرٌ لكم ما يضرُّكم مما أمامكم من العذاب الشديد؟ فلو قبلوا هذه الموعظةَ واستعملوها؛ لتبيَّن لهم أكثر من غيرهم أنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ليس بمجنونٍ؛ لأنَّ هيئاته ليست كهيئات المجانين في خنقهم واختلاجهم ونظرهم، بل هيئتُهُ أحسنُ الهيئات، وحركاتُهُ أجلُّ الحركات، وهو أكمل الخلق أدباً وسكينةً وتواضعاً ووقاراً، لا يكون إلاَّ لأرزن الرجال عقلاً.
ثم إذا تأمَّلوا كلامَه الفصيحَ ولفظَه المليحَ وكلماتِهِ التي تملأ القلوب أمناً وإيماناً وتزكِّي النفوس وتطهِّرُ القلوب وتبعثُ على مكارم الأخلاق وتحثُّ على محاسن الشِّيَم وترهِّبُ عن مساوئ الأخلاق ورذائِلِها، إذا تكلَّم؛ رَمَقَتْهُ العيونُ هيبةً وإجلالاً وتعظيماً؛ فهل هذا يشبِهُ هَذَيان المجانين وعربَدَتَهم وكلامَهم الذي يشبِهُ أحوالَهم؟! فكلُّ من تدبَّر أحوالَه وقصده استعلام: هل هو رسولُ الله أم لا؟ سواء تفكَّر وحدَه أم معه غيرُهُ؛ جزم بأنه رسولُ الله حقًّا ونبيُّه صدقاً، خصوصاً المخاطبين، الذي هو صاحبُهم، يعرفون أول أمرِهِ وآخرَه.