ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 46

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ لَّکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ عَذَابٍ شَدِیۡدٍ ﴿۴۶﴾
کہہ دے میں تو تمھیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہو جائو، پھر خوب غور کرو کہ تمھارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمھیں ڈرانے والا ہی ہے۔ En
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں
En
کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) ➊ { قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ …: جِنَّةٍ } کا معنی جنون، دیوانگی اور پاگل پن ہے۔ مشرکین کے باطل اقوال کے رد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت قوی دلائل، مؤثر اسالیب اور مختلف انداز سے حق بات سمجھانے کی تلقین فرمائی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کذّاب اور ساحر کے علاوہ مجنون، یعنی دیوانہ بھی کہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ میں تمھیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں کہ بڑی مجلسوں میں تو شوروغل، بھیڑ بھاڑ اور اجتماعی دباؤ کی وجہ سے آدمی صحیح طرح سوچ نہیں سکتا، تم ضد اور تعصّب کو نکال کر اکیلے اکیلے یا دو دو ہو کر سوچو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آخر تمھارا صاحب ہے، تمھارے ساتھ اس نے نبوت سے پہلے چالیس برس گزارے، جسے تم صادق اور امین کہتے تھے، جس کی معاملہ فہمی اور درست رائے کی شہادت تم بھی دیتے تھے، اب اس نے جب تمھیں اللہ کا پیغام پہنچایا تو تم نے اسے مجنون کہنا شروع کر دیا، لہٰذا تم اس کی لائی ہوئی ہر بات پر پوری طرح غور کرو اور سوچ کر بتاؤ کہ آخر ان میں سے کون سی بات ہے جسے تم جنون کہہ سکو؟ کیا اللہ کو ایک ماننا دیوانگی ہے؟ کیا زنا، چوری، قتل نفس اور بہتان سے منع کرنا دیوانگی ہے؟ کیا صدق، عفاف، امانت، مہمان نوازی اور ہمدردی کا حکم دینا دیوانگی ہے؟ کسی ایک بات پر انگلی رکھ کر تو بتاؤ کہ یہ بات دیوانے کی بات ہے۔ یہ تفسیر { مَا } کو استفہامیہ مان کر ہے، اگر { مَا } نافیہ ہو تو معنی ہو گا کہ تمھارے ساتھی میں کسی طرح کا جنون نہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔
➋ {اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ …:} یعنی پیغمبر تو تمھیں ایک نہایت سخت عذاب آنے سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہے، تو تم اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرو کہ اپنی قوم کو شدید عذاب آنے سے پہلے آگاہ کر کے اس سے بچانے کی کوشش کرنے والا دیوانہ ہوتا ہے یا اس کا ہمدرد اور خیر خواہ۔ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھے اور فرمایا: {يَا صَبَاحَاهُ} (جو کسی اہم خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کہا جاتا تھا) تو قریش آپ کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: تمھیں کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ يُصَبِّحُكُمْ أَوْ يُمَسِّيْكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِيْ؟] یہ بتاؤ کہ اگر میں تمھیں اطلاع دوں کہ دشمن تم پر صبح حملہ کرے گا یا شام حملہ کرے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ انھوں نے کہا: [بَلٰی] کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ] تو پھر میں تمھیں ایک نہایت سخت عذاب سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہوں۔ تو ابو لہب نے کہا: [تَبًّا لَكَ أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟] تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (سورت) اتاری: «‏‏‏‏تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ» ‏‏‏‏ [بخاري، التفسیر، باب: «إن ھو إلا نذیر لکم…» ‏‏‏‏: ۴۸۰۱]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرز عمل سے ڈراتا اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اور اب بھی جو دعوت میں تمہیں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشان دہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقینا سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ 46۔ 2 یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ کر فرمایا ' یا صباحاہ ' جسے سن کر قریش جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا میری تصدیق کرو گے، انہوں نے کہا، کیوں نہیں ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔ ' یہ سن کہ ابو لہب نے کہا ' تَبَّالکَ! اَلِھٰذا جَمَعْتَنَا ' تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا اس لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ْ جس پر اللہ تعالیٰ نے سورة تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ نازل فرمائی (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ آپ ان سے کہئے کہ: میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے [70] تم دو دو مل کر اور اکیلے اکیلے رہ کر خوب سوچو کہ آیا تمہارے صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی جنون کی بات ہے؟ وہ تو محض ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں ڈرانے والا [71] ہے۔
[70] حجر اسود کو نصب کرنے کا جھگڑا ختم کرنا آپ کی دانشمندی پر دلیل ہے :۔
یعنی میری صرف ایک بات مان لو۔ ضد اور تعصب کو چھوڑ کر پوری نیک نیتی سے یہ بات سوچو، اکیلے اکیلے بھی سوچو، دو دو اور اس سے زیادہ بھی مل بیٹھ کر اور سر جوڑ کر اس بات پر غور کرو کہ جو جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو کیا وہ درست ہیں؟ اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو نیک نیتی سے کہہ رہے ہو؟ میری بچپن سے لے کر آج تک کی زندگی سے تم خوب واقف ہو۔ میری صداقت اور میری دیانت کے تم آج تک قائل رہے ہو۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ آج سے چند ہی برس پیشتر تعمیر کعبہ کے دوران جب تم میں حجر اسود کو رکھنے کے مسئلہ پر تم میں تنازعہ پیدا ہو گیا تھا تو تم نے کہا تھا کہ صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو گا تم اسے حکم تسلیم کر لو گے۔ پھر جب میں صبح کعبہ میں آیا تو تم سب نے برضا و رغبت مجھے حکم تسلیم کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ پھر جب میں نے ایک چادر بچھا کر اس پر حجر اسود رکھ دیا اور تم سب کو کونوں سے چادر اٹھانے کو کہا تھا پھر مطلوبہ بلندی پر پہنچنے پر میں نے حجر اسود خود اٹھا کر اس مقام پر رکھ دیا تھا۔ تو تم سب نے نہ صرف یہ کہ میرے فیصلہ کو برضا و رغبت تسلیم کر لیا تھا بلکہ میری دانشمندی کی داد بھی دی تھی اور آج تم ہی لوگ ہو جو مجھے دیوانہ کہتے ہو، کبھی یہ کہتے ہو کہ میں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور کبھی یہ کہتے ہو کہ میں قرآن خود بنا کر تمہیں دھوکا دے رہا ہوں۔ خدارا کچھ تو انصاف کی بات کرو۔
[71] کیا تمہارے خیال میں میں اس لئے دیوانہ ہوں کہ تمہیں یہ بتلا رہا ہوں جو طریق زندگی تم نے اپنا رکھا ہے وہ غلط ہے۔ اور اس کے برے انجام سے ڈرا رہا ہوں۔ اور اگر میں یہ کہہ دیتا کہ شاباش! تم لوگ بہت ٹھیک جا رہے ہو تب تو سب معاملہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ اور اگر میں تمہیں چند ٹھوس حقائق کی اطلاع دیتا ہوں تو تم مجھے دیوانہ کہنے لگے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ضد اور ہٹ دھرمی کفار کا شیوہ ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ یہ کافر جو تجھے مجنون بتا رہے ہیں ان سے کہہ کہ ایک کام تو کرو خلوص کے ساتھ تعصب اور ضد کو چھوڑ کر ذرا سی دیر سوچو تو۔ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرو کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون ہے؟ اور ایمانداری سے ایک دوسرے کو جواب دے۔ ہر شخص تنہا تنہا بھی غور کرے۔ اور دوسروں سے بھی پوچھے لیکن یہ شرط ہے کہ ضد اور ہٹ کو دماغ سے نکال کر تعصب اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر غور کرے۔ تمہیں خود معلوم ہو جائے گا تمہارے دل سے آواز اٹھے گی کہ حقیقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجنون نہیں۔ بلکہ وہ تم سب کے خیرخواہ ہیں درد مند ہیں۔ ایک آنے والے خطرے سے جس سے تم بےخبر ہو وہ تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔
بعض لوگوں نے اس آیت سے تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے کا مطلب سمجھا ہے اور اس کے ثبوت میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں لکین وہ حدیث ضعیف ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { میں تین چیزیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا یہ میں فخر کے طور پر نہیں کہ رہا ہوں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا مجھ سے پہلے کسی کے لیے وہ حلال نہیں ہوا وہ مال غنیمت کو جمع کر کے جلا دیتے تھے۔ اور میں ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں اور ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی چیز بنا دی گئی ہے۔ تاکہ میں اس کی مٹی سے تیمم کر لوں اور جہاں ہوں اور نماز کا وقت آ جائے نماز ادا کر لوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے سامنے با ادب کھڑے ہو جایا کرو دو دو اور ایک ایک۔ اور ایک مہینہ کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ } ۱؎ یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔
اور بہت ممکن ہے کہ اس میں آیت کا ذکر اور اسے جماعت سے یا الگ نماز پڑھ لینے کے معنی میں لے لینا یہ راوی کا اپنا قول ہو اور اس طرح بیان کر دیا گیا ہو کہ بظاہر وہ الفاظ حدیث کے معلوم ہوتے ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کی حدیثیں بہ سند صحیح بہت سے مروی ہیں اور کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
آپ لوگوں کو اس عذاب سے ڈرانے والے ہیں جو ان کے آگے ہے اور جس سے یہ بالکل بےخبر بےفکری سے بیٹھے ہوئے ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور عرب کے دستور کے مطابق «یا صباحاہ» کہہ کر بلند آواز کی جو علامت تھی کہ کوئی شخص کسی اہم بات کے لیے بلا رہا ہے۔ عادت کے مطابق اسے سنتے ہی لوگ جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تمہاری طرف چڑھائی کر کے چلا آ رہا ہے اور عجب نہیں کہ صبح شام ہی تم پر حملہ کر دے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان جواب دیا کہ ہاں بےشک ہم آپ کو سچا جانیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو! میں تمہیں اس عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہارے آگے ہے۔ یہ سن کر ابولہب ملعون نے کہا تیرے ہاتھ ٹوٹیں کیا اسی کے لیے تو نے ہم سب کو جمع کیا تھا؟ اس پر سورہ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ١ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ٢ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ٣ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ٤ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ٥» ، اتری۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4801]‏‏‏‏
یہ حدیثیں «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہمارے پاس آ کر تین مرتبہ آواز دی۔ فرمایا لوگو! میری اور اپنی مثال جانتے ہو؟ انہوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا علم ہے۔ آپ نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس قوم جیسی ہے جس پر دشمن حملہ کرنے والا تھا انہوں نے اپنا آدمی بھیجا کہ جا کر دیکھے اور دشمن کی نقل و حرکت سے انہیں مطلع کرے۔ اس نے جب دیکھا کہ دشمن ان کی طرف چلا آ رہا ہے اور قریب پہنچ چکا ہے تو وہ لپکتا ہوا قوم کی طرف بڑھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اطلاع پہنچانے سے پہلے ہی دشمن حملہ نہ کر دے۔ اس لیے اس نے راستے میں سے ہی اپنا کپڑا ہلانا شروع کیا کہ ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، ہوشیار ہو جاؤ دشمن آ پہنچا، تین مرتبہ یہی کہا۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے { میں اور قیامت ایک ساتھ ہی بھیجے گئے قریب تھا کہ قیامت مجھ سے پہلے ہی آ جاتی۔ } ۱؎ [مسند احمد:348/5:حسن لغیرہ]‏‏‏‏