لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾
تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔
En
(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
En
اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ { لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ …:} پچھلی آیات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہو جائیں، لیکن جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو انھیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلا یہ ملا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اب آپ ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے، نہ ہی ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لا سکتے ہیں، گو اس کا حُسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ یہ صراحت اس لیے فرمائی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ بیویوں کی تعداد نو (۹) سے زیادہ کرنا جائز نہیں، ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کے بدلے میں بیوی لا کر نو کا عدد پورا کر لیں تو اجازت ہے۔ فرمایا، انھیں طلاق دے کر ان کی جگہ بھی اور بیویاں لانے کی اجازت نہیں، خواہ نو سے زیادہ نہ بھی ہوں۔ ہاں، لونڈیوں کی بات دوسری ہے، ان پر کوئی پابندی نہیں۔
➋ ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے کہ پچھلی آیت (۵۰): «اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …» میں چار قسم کی جو عورتیں آپ کے لیے حلال کی گئی ہیں، ان کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ نہ موجود بیویوں کو طلاق دے کر ان کی جگہ اور بیوی لانا جائز ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں امہات المومنین کے بلند مرتبے کا اظہار ہو رہا ہے۔
➌ {” وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ “} سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو آدمی اسے دیکھ سکتا ہے۔
➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے، اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذہن میں حاضر رکھو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] ”اللہ کی عبادت (اس طرح) کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“
➋ ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے کہ پچھلی آیت (۵۰): «اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ …» میں چار قسم کی جو عورتیں آپ کے لیے حلال کی گئی ہیں، ان کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ نہ موجود بیویوں کو طلاق دے کر ان کی جگہ اور بیوی لانا جائز ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں امہات المومنین کے بلند مرتبے کا اظہار ہو رہا ہے۔
➌ {” وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ “} سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو آدمی اسے دیکھ سکتا ہے۔
➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے، اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذہن میں حاضر رکھو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] ”اللہ کی عبادت (اس طرح) کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد 9 تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر) 52۔ 2 یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی اور بعض نے (وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ) 60۔ الممتحنہ:10) کے پیش نظر اسے آپ کے لیے حلال نہیں سمجھا (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ اس (حکم) کے بعد آپ پر دوسری [84] عورتیں حلال نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ آپ ان میں کسی کو تبدیل کریں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا لگے۔ البتہ کنیزوں [85] کی آپ کو اجازت ہے اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔
[84] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کو جن چار قسم کی بیویوں سے نکاح کر لینے کی اجازت دی جا چکی ہے ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ پر حلال نہیں بس یہی کافی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیویاں اس بات پر آمادہ ہو گئی ہیں کہ جو آپ کی طرف سے روکھا سوکھا ملے اس بات پر وہ صابر و شاکر رہیں۔ اور باری کا مطالبہ کر کے بھی آپ کو پریشان نہ کریں نہ اسے وجہ نزاع بنائیں تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان صابر و شاکر بیویوں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ کوئی اور لے آئیں۔ خواہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو بھی اب انھیں بیویوں پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد جس عورت سے شادی کرنا چاہے، اسے دیکھنا درست ہے۔ اور احادیث صحیحہ میں اس کی صراحت مذکور ہے۔ [85] کنیزوں کی رخصت کا غلط استعمال:۔
یعنی کنیزوں کی تعداد پر شریعت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ کیونکہ ان کا انحصار کسی جنگ میں قیدی عورتوں پر ہوتا ہے۔ اور یہ مستقبل کے حالات ہیں جو کبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن اس اجازت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نواب اور امیر کبیر حضرات عیش و عشرت کے لئے جتنی کنیزیں چاہیں خرید خرید کر اپنے گھروں اور محلات کے اندر ڈالتے جائیں یہ اس اجازت کا غلط استعمال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیزیں صرف دو تھیں ایک ماریہ قبطیہ جن کے بطن سے سیدنا ابراہیمؑ پیدا ہوئے تھے اور دوسری ریحانہ (رضی اللہ عنہما)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ازواج مطہرات کا عہد و فا ٭٭
پہلی آیتوں میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں۔ لیکن امہات المؤمنین «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا۔
اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں حکم ہوا کہ ’ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے ‘۔
اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور عورتیں بھی حلال کر دی تھیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3216، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ حلال کرنے والی آیت «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51]، ہے جو اس آیت سے پہلے گزر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورۃ البقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں حکم ہوا کہ ’ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے ‘۔
اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور عورتیں بھی حلال کر دی تھیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3216، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ حلال کرنے والی آیت «تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:51]، ہے جو اس آیت سے پہلے گزر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے۔ سورۃ البقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں، وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں۔
چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے تھے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ کیوں؟“ تو سائل نے «لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:52] والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتاً بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہیں ہیں۔“ [ابن جریر]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کر دی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کر دیا گیا۔ قرآن میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:5]، یعنی ’ ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ» ۱؎ [33- الأحزاب: 50] الخ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔“۱؎ [سنن ترمذي:3215،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے تھے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ کیوں؟“ تو سائل نے «لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا» ۱؎ [33-الأحزاب:52] والی آیت پڑھی۔ یہ سن کر ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتاً بیویاں، لونڈیاں، چچا کی، پھوپیوں کی، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حلال نہیں ہیں۔“ [ابن جریر]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کر دی گئی۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کر دیا گیا۔ قرآن میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:5]، یعنی ’ ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں ‘۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ» ۱؎ [33- الأحزاب: 50] الخ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں۔“۱؎ [سنن ترمذي:3215،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں۔“ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں۔“
الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہٰذا کوئی منفی نہیں۔
ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کر لیا تھا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔
اس کا جواب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا والے واقعہ میں آیت «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا» ۱؎ [4-النساء:128]، اتری ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2283،قال الشيخ الألباني:صحیح[4-النساء:128]
الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے۔ لہٰذا کوئی منفی نہیں۔
ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کر لیا تھا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا۔
اس کا جواب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا والے واقعہ میں آیت «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا» ۱؎ [4-النساء:128]، اتری ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2283،قال الشيخ الألباني:صحیح[4-النساء:128]
ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ ”شاید تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی۔ سنو اگر رجوع ہو گیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا“ }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:172:ضعیف]
آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر لیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔“
آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر لیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا۔“
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ { عیینہ بن حصن فزاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لیے چلے آئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے؟ } اس نے کہا واہ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ تو کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بے مثل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کر دیا ہے }۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک احمق سردار تھا۔ تم نے ان کی باتیں سنیں؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2251:ضعیف جدا] اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے۔