تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا ﴿۵۱﴾
ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں اور وہ سب کی سب اس پر راضی ہوں جو تو انھیں دے اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، بڑے حلم والا ہے۔
En
(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے
En
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 51) ➊ { تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ …:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیویوں کے بارے میں مزید رعایتوں کا بیان ہے۔ ان میں سے ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں اپنے نفس آپ کے لیے ہبہ کریں، ان میں سے آپ جسے چاہیں مؤخر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں، آپ پر ان کی پیش کش قبول کرنا لازم نہیں اور ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں آپ کے نکاح میں ہیں، آپ پر ان کے پاس باری باری جانے کی پابندی نہیں، آپ جس کے پاس چاہیں رات بسر کریں، جسے چاہیں مؤخر رکھیں۔
➋ { وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ:} تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم کی ہو اور دوبارہ اسے طلب کرنا چاہیں، تو اس میں بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔
➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ …:} بیویوں کا حق ساقط کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں دونوں سے تنگی دور کرنا مقصود تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی دور کرنا تو ظاہر ہی ہے، بیویوں کی تنگی دور کرنا اس لحاظ سے ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے ہاں رات بسر کرنا اس کا حق نہیں تو آپ کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسری کے ساتھ بھی ان کی چپقلش اور تنازعات ازخود ختم ہو جائیں گے، کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق کا دعویٰ ہے۔ جب حق ہی نہ رہا تو جھگڑا کیسا۔ پھر جب آپ کسی بیوی کے پاس جائیں گے تو اس احساس سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے اس کے پاس جانا ضروری نہیں تھا، اسے آپ کے آنے سے خوشی ہو گی اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور انھیں یہ جان کر آپ کے نہ آنے سے غم بھی نہیں ہو گا کہ آپ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے کر رہے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کو جتنا وقت یا جتنی توجہ دیں گے، سب اسی پر خوش رہیں گی اور شکر گزار ہوں گی۔
➍ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان رعایتوں کے باوجود آپ نے ان سے فائدہ اٹھایا نہ اپنا نفس ہبہ کرنے والی کسی خاتون سے آپ نے نکاح کیا، نہ کسی بیوی کی باری ختم کی، صرف سودہ رضی اللہ عنھا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کو دی تو آپ نے اس کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری تمام بیویوں کے پاس باری باری جاتے تھے۔ آپ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے وہ ان احادیث سے ظاہر ہے:
(1) معاذہ عدویہ نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کیا کہ اس آیت: «تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ» (ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے) کے نازل ہونے کے بعد بھی جب آپ ہم میں سے کسی عورت کی باری کے دن میں ہوتے تو ہم سے اجازت مانگتے۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «ترجي من تشاء منھن…» : ۴۷۸۹] فتح الباری میں ہے، یعنی آپ جس بیوی کی باری کے دن میں ہوتے دوسری کے پاس جانا چاہتے تو اس سے اجازت مانگتے۔
(2) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس باری باری ایک دن رات رہتے، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا کے کہ اس نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کے لیے ہبہ کر دی تھی، اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا…: ۲۵۹۳]
(3) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کی وجہ سے) بوجھل ہو گئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت مانگی تو انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا: ۲۵۸۸]
(4) عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا: ”میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہو گا، ورنہ آپ ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگاتے اور بغیر مساس (بغیر صحبت) ہر ایک کے پاس ٹھہرتے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے۔ سودہ رضی اللہ عنھا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے علیحدگی اختیار کریں گے تو انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سے قبول کر لیا۔“ فرماتی ہیں: ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اس اور اس جیسی عورتوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا» [النساء: ۱۲۸] ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب في القسم بین النساء: ۲۱۳۵، و قال الألباني حسن صحیح]
➎ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بھی خطاب ہے اور تمام مومنوں سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کے پیشِ نظر جو رعایتیں دی ہیں، تاکہ وہ گھریلو پریشانیوں سے آزاد رہ کر اطمینان سے دعوت کا فریضہ سر انجام دے سکیں، اس کے متعلق اگر تمھارے دلوں میں تسلیم و رضا ہو گی یا کراہت و انکار تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان کو جناب رسالت میں معمولی سوئے ظن سے بھی سخت اجتناب لازم ہے۔
➏ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، مگر اس کے حلم کی بھی انتہا نہیں، اس لیے وہ تمھاری کسی خطا پر فوری گرفت نہیں کرتا، بلکہ تمھیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
➋ { وَ مَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ:} تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم کی ہو اور دوبارہ اسے طلب کرنا چاہیں، تو اس میں بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔
➌ { ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ …:} بیویوں کا حق ساقط کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں دونوں سے تنگی دور کرنا مقصود تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی دور کرنا تو ظاہر ہی ہے، بیویوں کی تنگی دور کرنا اس لحاظ سے ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے ہاں رات بسر کرنا اس کا حق نہیں تو آپ کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسری کے ساتھ بھی ان کی چپقلش اور تنازعات ازخود ختم ہو جائیں گے، کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق کا دعویٰ ہے۔ جب حق ہی نہ رہا تو جھگڑا کیسا۔ پھر جب آپ کسی بیوی کے پاس جائیں گے تو اس احساس سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے اس کے پاس جانا ضروری نہیں تھا، اسے آپ کے آنے سے خوشی ہو گی اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور انھیں یہ جان کر آپ کے نہ آنے سے غم بھی نہیں ہو گا کہ آپ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے کر رہے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کو جتنا وقت یا جتنی توجہ دیں گے، سب اسی پر خوش رہیں گی اور شکر گزار ہوں گی۔
➍ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان رعایتوں کے باوجود آپ نے ان سے فائدہ اٹھایا نہ اپنا نفس ہبہ کرنے والی کسی خاتون سے آپ نے نکاح کیا، نہ کسی بیوی کی باری ختم کی، صرف سودہ رضی اللہ عنھا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کو دی تو آپ نے اس کی اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری تمام بیویوں کے پاس باری باری جاتے تھے۔ آپ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے وہ ان احادیث سے ظاہر ہے:
(1) معاذہ عدویہ نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کیا کہ اس آیت: «تُرْجِيْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُـْٔوِيْۤ اِلَيْكَ مَنْ تَشَآءُ» (ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے) کے نازل ہونے کے بعد بھی جب آپ ہم میں سے کسی عورت کی باری کے دن میں ہوتے تو ہم سے اجازت مانگتے۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «ترجي من تشاء منھن…» : ۴۷۸۹] فتح الباری میں ہے، یعنی آپ جس بیوی کی باری کے دن میں ہوتے دوسری کے پاس جانا چاہتے تو اس سے اجازت مانگتے۔
(2) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس باری باری ایک دن رات رہتے، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا کے کہ اس نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنھا کے لیے ہبہ کر دی تھی، اس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا…: ۲۵۹۳]
(3) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کی وجہ سے) بوجھل ہو گئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت مانگی تو انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔“ [بخاري، الھبۃ، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا: ۲۵۸۸]
(4) عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا: ”میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہو گا، ورنہ آپ ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگاتے اور بغیر مساس (بغیر صحبت) ہر ایک کے پاس ٹھہرتے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے۔ سودہ رضی اللہ عنھا جب عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے علیحدگی اختیار کریں گے تو انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سے قبول کر لیا۔“ فرماتی ہیں: ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اس اور اس جیسی عورتوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَيْرٌ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا» [النساء: ۱۲۸] ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بے رخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب في القسم بین النساء: ۲۱۳۵، و قال الألباني حسن صحیح]
➎ { وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بھی خطاب ہے اور تمام مومنوں سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کے پیشِ نظر جو رعایتیں دی ہیں، تاکہ وہ گھریلو پریشانیوں سے آزاد رہ کر اطمینان سے دعوت کا فریضہ سر انجام دے سکیں، اس کے متعلق اگر تمھارے دلوں میں تسلیم و رضا ہو گی یا کراہت و انکار تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اہلِ ایمان کو جناب رسالت میں معمولی سوئے ظن سے بھی سخت اجتناب لازم ہے۔
➏ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، مگر اس کے حلم کی بھی انتہا نہیں، اس لیے وہ تمھاری کسی خطا پر فوری گرفت نہیں کرتا، بلکہ تمھیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی باری چاہیں موقوف کردیں یعنی اسے نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیں یہ تعلق قائم رکھیں۔ 51۔ 2 یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ 51۔ 3 یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہونگی، غمگین نہیں ہونگی اور جتنا کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انھیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی اسلئے کہ انھیں معلوم ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلے پر راضی اور مطمن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ملنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت حضرت عائشہ کے لئے ہبہ کردی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر مقرر کر رکھی تھیں، اسی لیے آپ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ کے پاس گزارے (ان تقر اعینھن) کا تعلق آپ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی اس کے باوجود آپ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حسن سلوک اور عدل وانصاف سے خوش ہوجائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔ 52۔ 4 یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ان میں یہ بات بھی یقینا ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیونکہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان، نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کرسکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار میں ہی نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث ہو۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ' یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا اس میں مجھے ملامت نہ کرنا (مسند احمد)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ آپ جس بیوی کو چاہیں علیحدہ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور علیحدہ رکھنے کے بعد جسے چاہیں اپنے پاس بلائیں آپ پر کوئی مضائقہ نہیں [81]۔ اس طرح زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمزدہ نہ ہوں [82] اور جو کچھ بھی آپ انھیں دیں اسی پر خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے اللہ جانتا [83] ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے۔
[81] بیویوں کی باری کے سلسلے میں آپ کو خصوصی ہدایت :۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور رعایت یہ مل گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سے اپنی بیویوں کے پاس باری باری رہنے کی پابندی اٹھا لی گئی۔ بالفاظ دیگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپ پر یہ حق ساقط کر دیا گیا کہ فلاں رات آپ باری کے حساب سے فلاں بیوی کے پاس رہیں گے۔ اور اس سقوط حق سے اللہ تعالیٰ کا مقصد نبی اور اس کی بیویوں دونوں پر سے تنگی کو رفع کرنا مقصود تھا۔ نبی کی تنگی کا دور ہونا تو واضح ہے اور بیویوں سے تنگی کا دور ہونا اس لحاظ سے ہے کہ جب انھیں یہ معلوم ہو جائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی کا اس کے ہاں شب بسری کرنا اس کا حق نہیں ہے تو ان کے باہمی تنازعات اور چپقلش از خود ختم ہو جائیں گے کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔ پھر جب حق ہی نہ رہا تو تنازعات کیسے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دی گئی اس رعایت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنی بیویوں کی باری کو ملحوظ خاطر رکھا جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے واضح ہے۔
رعایت کے باوجود آپ نے ہمیشہ باری کو ملحوظ رکھا :۔
(1) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جانا منظور ہوتا تو آپ باری والی بیوی سے اجازت لیا کرتے تھے۔ معاذہ (راوی) کہتے ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: ”اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تو آپ کیا کہتیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”میں تو کہتی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں تو یہ چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہی رہیں۔“ [حواله ايضاً]
(2) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی عورتوں پر قرعہ ڈالتے جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور ہر عورت کے پاس باری باری ایک ایک دن رات رہتے۔ صرف سودہ بنت زمعہؓ نے (جو بہت بوڑھی ہو گئی تھیں) اپنا دن رات سیدہ عائشہؓ کو بخش دیا تھا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔ [بخاری۔ کتاب الھبة۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا]
(3) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری میں میرے گھر رہنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ [بخاری۔ کتاب الھبۃ۔ باب ھبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا]
[82] یعنی وہ اللہ کے احکام سے خوش ہو جائیں اور باہمی جذبہ رقابت اور مسابقت کی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے یکسو ہو کر نبی کے مشن میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور جس طرح نبی اپنے کام میں پوری جدوجہد کر رہا ہے مصائب برداشت کر رہا ہے اور تنگی ترشی سے بے نیاز رہ کر کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ بھی قناعت اور ایثار سے کام لیں۔ بلکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا مقصد حیات قرار دے کر خوشدلی سے سب کام انجام دیں اور یہ سمجھ لیں کہ باری کے حق کا سقوط آپ کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔
[83] ”تمہارے دلوں“ کا خطاب ازواج کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر تم نے اللہ کے ان احکام کو خوشدلی کے بجائے دل کی گھٹن سے یا کبیدہ خاطر ہو کر کیا ہے تو اللہ اسے بھی جانتا ہے اور اس پر گرفت ہو گی اور اگر اس لفظ کا خطاب عام لوگوں کی طرف ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ اگر ان حقائق کے بجائے نبی کی ازدواجی زندگی سے متعلق تمہارے دلوں میں کوئی اور بدگمانی پیدا ہو تو وہ بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ساتھ ہی اپنی صفت حلیم کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو جسے وہ دل سے نکال دے تو اللہ اس پر گرفت نہیں فرمائے گا۔
(2) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی عورتوں پر قرعہ ڈالتے جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور ہر عورت کے پاس باری باری ایک ایک دن رات رہتے۔ صرف سودہ بنت زمعہؓ نے (جو بہت بوڑھی ہو گئی تھیں) اپنا دن رات سیدہ عائشہؓ کو بخش دیا تھا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔ [بخاری۔ کتاب الھبة۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا]
(3) سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیویوں سے بیماری میں میرے گھر رہنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ [بخاری۔ کتاب الھبۃ۔ باب ھبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا]
[82] یعنی وہ اللہ کے احکام سے خوش ہو جائیں اور باہمی جذبہ رقابت اور مسابقت کی الجھنوں میں پڑنے کی بجائے یکسو ہو کر نبی کے مشن میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور جس طرح نبی اپنے کام میں پوری جدوجہد کر رہا ہے مصائب برداشت کر رہا ہے اور تنگی ترشی سے بے نیاز رہ کر کر رہا ہے۔ اسی طرح وہ بھی قناعت اور ایثار سے کام لیں۔ بلکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا مقصد حیات قرار دے کر خوشدلی سے سب کام انجام دیں اور یہ سمجھ لیں کہ باری کے حق کا سقوط آپ کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔
[83] ”تمہارے دلوں“ کا خطاب ازواج کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اگر تم نے اللہ کے ان احکام کو خوشدلی کے بجائے دل کی گھٹن سے یا کبیدہ خاطر ہو کر کیا ہے تو اللہ اسے بھی جانتا ہے اور اس پر گرفت ہو گی اور اگر اس لفظ کا خطاب عام لوگوں کی طرف ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ اگر ان حقائق کے بجائے نبی کی ازدواجی زندگی سے متعلق تمہارے دلوں میں کوئی اور بدگمانی پیدا ہو تو وہ بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ساتھ ہی اپنی صفت حلیم کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو جسے وہ دل سے نکال دے تو اللہ اس پر گرفت نہیں فرمائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
روایات و احکامات ٭٭
بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشادگی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5113]
پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں۔
عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنہیں مؤخر کر رکھا تھا ان میں ام شریک رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں مؤخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم واجب تھی۔
بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز نہ جانے دوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4789]
پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں۔
عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جنہیں مؤخر کر رکھا تھا ان میں ام شریک رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں مؤخر کریں۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم واجب تھی۔
بخاری شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز نہ جانے دوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4789]
پس صحیح بات جو بہت اچھی ہے اور جس سے ان اقوال میں مطابقت بھی ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت عام ہے۔ اپنے نفس سونپنے والیوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سب کو شامل ہے۔ ہبہ کرنے والیوں کے بارے میں نکاح کرنے نہ کرنے اور نکاح والیوں میں تقسیم کرنے نہ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داد دیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے ‘۔
مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ { الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:144/6:ضعیف] یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں، اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے، لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سہولت والا ہے۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داد دیں گی۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے ‘۔
مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ { الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:144/6:ضعیف] یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں، اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے، لیکن حلم و کرم والا ہے۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے۔