(آیت 9) ➊ { خٰلِدِيْنَفِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۷، ۱۰۸)۔ ➋ { وَعْدَاللّٰهِحَقًّا:} جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی اَیرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ {”حَقًّا“} کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ➌ {وَهُوَالْعَزِيْزُالْحَكِيْمُ:} اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بے موقع نہیں فرمایا، بلکہ حکمت کے مطابق فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9-1یعنی یہ یقینا پورا ہوگا، اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاللّٰہُلَایُخْلِفُالْمِیْعَادَ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے اور حکمت [9] والا ہے
[9] یعنی اللہ نے مومنوں سے جن جن نعمتوں اور باغات دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ انھیں دینے پر قادر بھی ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ وہ نعمتیں مومنوں کو مل نہ سکیں۔ اور وہ حکیم بھی ہے نہ تو وہ کسی مستحق کو محروم رکھے گا اور نہ ہی غلط بخشیوں کا ہی وہاں کچھ امکان ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں ‘۔ یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْهُوَلِلَّذِينَآمَنُواهُدًىوَشِفَاءٌوَالَّذِينَلَايُؤْمِنُونَفِيآذَانِهِمْوَقْرٌ وَهُوَعَلَيْهِمْعَمًىأُولَـٰئِكَيُنَادَوْنَمِنمَّكَانٍبَعِيدٍ» ’ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ ۱؎[41-فصلت:44] اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُمِنَالْقُرْاٰنِمَاهُوَشِفَاءٌوَّرَحْمَةٌلِّلْمُؤْمِنِيْنَوَلَايَزِيْدُالظّٰلِمِيْنَاِلَّاخَسَارًا»۱؎[17-الإسراء:82] یعنی ’ جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔