تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[11] تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ نحل کی آیت نمبر 15 کا حاشیہ نمبر 15 اور سورۃ انبیاء کا آیت نمبر 31 کا حاشیہ نمبر 27
[12] جدید تحقیق کے مطابق جانداروں کی دس لاکھ انواع کا علم انسان کو حاصل ہو چکا ہے۔ اور اسی طرح دو لاکھ کے لگ بھگ نباتات کی انواع کا۔ جانداروں کی طرح نباتات، پودوں اور درختوں میں نر اور مادہ موجود ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات میں جتنی بھی تحقیق ہو رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ عجائبات قدرت یا اللہ کی نشانیاں انسان کے علم میں آرہی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔
اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر ‘۔
شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يتلو تعالى على عبادِهِ آثاراً من آثار قدرته وبدائعَ من بدائع حكمتِهِ ونعماً من آثار رحمتِهِ، فقال: {خلقَ السمواتِ}: السبع على عظمها وسَعَتها وكثافتها وارتفاعها الهائل {بغير عَمَدٍ تَرَوْنَها}؛ أي: ليس لها عمدٌ، ولو كان لها عَمَدٌ؛ لرؤيتْ، وإنَّما استقرَّتْ، واستمسَكَتْ بقدرة الله تعالى، {وألقى في الأرضِ رواسِيَ}؛ أي: جبالاً عظيمة ركزها في أرجائها وأنحائها لئلاَّ {تميدَ بكم}؛ فلولا الجبالُ الراسياتُ؛ لمادتِ الأرض ولما استقرَّتْ بساكنيها، {وبثَّ فيها من كلِّ دابَّةٍ}؛ أي: نشر في الأرض الواسعة من جميع أصناف الدوابِّ التي هي مسخَّرة لبني آدم ولمصالحهم ومنافعهم، ولمَّا بثَّها في الأرض؛ علم تعالى أنه لا بدَّ لها من رزقٍ تعيشُ به، فأنزل من السماء ماء مباركاً، {فأنبتْنا فيها من كلِّ زوج كريم}: المنظر، نافع، مبارك، فرتعت فيه الدوابُّ المنبثَّة، وسكن إليه كلُّ حيوان.