ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 33

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۳۳﴾
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو کہ نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ایسا ہوگا جو اپنے باپ کے کسی کام آنے والا ہو۔ یقینا اللہ کا وعدہ سچ ہے، تو کہیں دنیا کی زندگی تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور کہیں وہ دغا باز اللہ کے بارے میں تمھیں دھوکا نہ دے جائے۔ En
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے
En
لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے واﻻ ہوگا (یاد رکھو) اللہ کا وعده سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ …:} مختلف طریقوں سے توحید اور آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اسی سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر باز پرس کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز آدمی کو تقویٰ پر آمادہ نہیں کر سکتی۔
➋ { وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ:} یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)، عبس(۳۴ تا ۳۷)، اور معارج (۸ تا ۱۴) والد کے کام نہ آسکنے کی مثال نوح علیہ السلام اور ان کا بیٹا ہیں۔
➌ {وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا: جَازٍ جَزٰي يَجْزِيْ} سے اسم فاعل ہے۔ اولاد کے کام نہ آسکنے کی مثال ابراہیم علیہ السلام اور ان کا باپ ہیں۔
➍ { اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} اللہ کے وعدے سے مراد قیامت قائم ہونا ہے، وہ ہر حال میں ہو کر رہے گی۔
➎ { فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا:} دنیا کی زندگی انسانوں کو کئی طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، جینا مرنا سب کچھ یہیں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں پر کر لو۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۹)، مومنون (۳۷) اور جاثیہ (۲۴) کوئی کہتا ہے کہ دنیوی خوشی یا بدحالی ہی حق و باطل کا اور اللہ تعالیٰ کے راضی یا ناراض ہونے کا معیار ہے، اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی وہی خوش حال ہوں گے جو یہاں خوش حال ہیں۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷) کوئی آخرت پر ایمان کے باوجود دنیا کی خواہشات کی محبت میں کھو کر اس دن کی یاد ہی بھلا بیٹھتا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴) غرض دنیا کی زندگی آدمی کو طرح طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔
➏ {وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ: الْغَرُوْرُ } غین کے فتح کے ساتھ صفت مشبہ {فَعُوْلٌ} بمعنی فاعل ہے، دھوکا دینے والا، جیسے: «{ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا [بني إسرائیل: ۳] اور غین کے ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جیسے: «{ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا [الأنعام: ۱۱۲] اور: «{ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا [الدھر: ۹] دھوکا دینے والے سے مراد شیطان ہے، وہ ابلیس اور اس کی اولاد سے ہو یا انسانوں میں سے۔ لفظ کو عام رکھیں تو آدمی کا نفس بھی اسے دھوکا دیتا ہے اور دنیا بھی دھوکا دیتی ہے، اس لیے کئی مفسرین نے یہاں { الْغَرُوْرُ } کی تفسیر دنیا فرمائی ہے۔
➐ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے ہی نہیں، کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، گناہ کر لو، بعد میں توبہ کر لینا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر کا اس پر بڑا زور ہے، وہ سفارش کر کے تمھیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ غرض وہ مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33-1جاز اسم فاعل ہے جَزْی یَجْزِی سے، بدلہ دینا، مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچانے کے لئے اپنی جان کا بدلہ، یا بیٹا باپ کے بدلے اپنی جان بطور معاوضہ پیش کر دے، تو وہاں ممکن نہیں ہوگا، ہر شخص کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ جب باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے تو دیگر رشتے داروں کی کیا حیثیت ہوگی، اور وہ کیوں کر ایک دوسرے کو نفع پہنچا سکیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام [46] آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے لہذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ [47] میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے [48] دھوکہ میں ڈالے
[46] دنیا میں باپ بیٹے کا ہی رشتہ ایسا ہے جو مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن دہشت اتنی زیادہ ہو گی کہ باپ بیٹے سے چھپتا پھرے گا اور بیٹا باپ سے۔ ہر ایک اپنی مصیبت میں ہی ایسا گرفتار ہو گا کہ دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ہوش نہ ہو گی۔ اور نہ ہی کوئی شخص دوسرے کی مصیبت اپنے سر لینے کے لئے تیار ہو گا۔ نہ بیٹے میں اتنی ہمت ہو گی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ باپ کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے اور نہ باپ ہی ایسا کہہ سکے گا جب ایسے قریبی رشتہ داروں تک کا یہ حال ہو گا تو اور کوئی شخص کیسے کسی دوسرے کے کام آسکتا ہے؟ لہٰذا ہر انسان کو اس دن کی ہولناکی سے اپنے بچاؤ کی فکر خود کرنا چاہئے۔ چنانچہ جب آیت: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلایا اور ہر ایک کا نام لے لے کر فرمایا تھا کہ اپنی فکر خود کر لو۔ اس دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر آیت متعلقہ]
[47] دنیا کی زندگی میں دھوکے کے مختلف پہلو:۔
یعنی اسی دھوکہ میں نہ پڑے رہو کہ تمہارا مقصد حیات ہی یہ بن جائے کہ ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہونا چاہئے یا تم دنیا کی زندگی پر اس قدر فریفتہ اور مفتوں ہو جاؤ کہ یہ سمجھ بیٹھو کہ بس جو کچھ ہے یہی دنیا کی زندگی ہے اور عملاً اخروی زندگی کے منکر بن جاؤ یا یہ سمجھنے لگ جاؤ کہ اس دنیا میں خوشحالی کی زندگی ہی حق و باطل کا معیار ہے یا یہ سمجھو کہ دنیا میں خوشحالی اللہ کی رضامندی کی دلیل ہے۔ یا یہ سمجھ بیٹھو کہ ابھی تو مزے کر لیں۔ بڑی عمر پڑی ہے بعد میں توبہ کر لیں گے۔ دنیوی زندگی کے متعلق یہ سارے نظریہ ہائے فکر سراسر دھوکا اور فریب ہیں۔
[48] اللہ کے نام پر دھوکا دینے والے شیطان:۔
غرور (غ پر فتحہ) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی بڑا دھوکہ باز۔ ہر وقت دھوکہ دینے والا۔ اگرچہ اکثر لوگ اس سے مراد شیطان ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس سے مراد انسان بھی ہو سکتے ہیں۔ افراد بھی، ادارے بھی اور حکومتیں بھی۔ جو شخص یا ادارہ کسی انسان کو فریب میں مبتلا کر کے اس کے لئے گمراہی کا سبب بن جائے وہ اس کے لئے دھوکا باز یا غرور ہے۔ اور وہ دھوکا بھی اللہ کے معاملہ میں دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے پیارے بندوں اور ولیوں کو دے رکھے ہیں۔ لہٰذا اب جو کچھ مانگنا ہو انھیں سے مانگنا چاہئے۔ یا یہ کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ وہ ہمیں دوزخ میں کیوں ڈالے گا؟ یا ڈال کر کیا کرے گا؟ پھر یہ خیال کر کے گناہوں پر دلیر ہو جاتے ہیں یا اگر فلاں بدعی کام کیا جائے تو اللہ یقیناً اس سے خوش ہو گا اور ہمیں اس اجر و ثواب ملے گا۔ غرضیکہ شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کی نت نئی نئی شکلیں سجھاتے رہتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کے روبرو کیا ہو گا ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے ’ اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا۔ ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہو سکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ، شیطان کے فریب میں نہ آ جاؤ، وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے عزیر علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہو گئی تو اپنے رب کی طرف جھک پڑے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع و زاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے؟ یا باپ بیٹوں کے کام آئیں گے؟
اس نے فرمایا کہ قیامت کا دن جھگڑوں کے فیصلوں کا دن ہے اس دن اللہ خود سامنے ہو گا کوئی بغیر اس کی اجازت کے لب نہ ہلا سکے گا کسی کو دوسرے کے بدلے نہ پکڑا جائے گا نہ باپ بیٹے کے بدلے نہ بیٹا باپ کے بدلے نہ بھائی بھائی کے بدلے نہ غلام آقا کے بدلے نہ کوئی کسی کا غم ورنج کرے گا نہ کسی کی طرف سے کسی کو خیال ہو گا نہ کسی پر رحم کرے گا نہ کسی کو کسی سے شفقت ومحبت ہو گی۔ نہ ایک دوسرے کی طرف پکڑا جائے گا۔ ہر شخص نفسانفسی میں ہو گا ہر ایک اپنی فکر میں ہو گا ہر ایک کو اپنا رونا پڑا ہو گا ہر ایک اپنابوجھ اٹھائے ہوئے ہو گا کسی اور کا نہیں۔‏‏‏‏