ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 21

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ الشَّیۡطٰنُ یَدۡعُوۡہُمۡ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۲۱﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟ En
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)
En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ { وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ …:} یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مقابلے میں اپنے جاہل اسلاف کو پیش کرتے ہیں، پھر اس سے بڑھ کر گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰)۔
➋ { اَوَ لَوْ كَانَ الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ:} یعنی کیا اگر شیطان انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف دعوت دے رہا ہو تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کودیں گے اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں گے کہ وہ انھیں کدھرلے جا رہا ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21-1یعنی ان کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کسی ہادی کی ہدایت اور نہ کسی کتاب آسمانی سے کوئی ثبوت، گویا کہ لڑتے ہیں ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں)“ بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے“ کیا (یہ انہی کی پیروی کریں گے) خواہ شیطان انھیں دوزخ کے عذاب [29] کی طرف بلاتا رہا ہو؟
[29] تقلید آباء شیطان کی پیروی ہے :۔
تقلید آباء کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ بزرگوں میں سے کسی ایک نے کوئی غلطی کی۔ کوئی غلط عقیدہ اپنایا یا کوئی بدعی کام شروع کر دیا۔ پھر بعد کی نسلوں نے بزرگوں سے عقیدت کی بنا پر اس غلطی کو درست تسلیم کرتے ہوئے رائج کر لیا۔ اور اس کی تحقیق کی کسی نے ضرورت ہی نہ سمجھی۔ اس آیت میں دو باتوں کی صراحت کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ تقلید آباء بلا تحقیق اور شیطان کی پیروی کی ایک ہی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شیطان کی پیروی کا لازمی نتیجہ جہنم کا عذاب ہے۔ گویا ان سے سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اگر شیطان تمہارے آباء و اجداد کو جہنم کی طرف لے جا رہا ہو تو بھی تم اپنے آباء و اجداد کی پیروی کرو گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انعام و اکرام کی بارش ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔
پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔