تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً:} کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن کا انسان اپنے حواس سے مشاہدہ کرتا ہے، یا وہ عقل سے معلوم ہوتی ہیں، یا اسے کسی کے بتانے سے معلوم ہوتی ہیں اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے جسم کے اندر یا باہر اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، جن کا اسے شعور تک نہیں کہ اس کے پروردگار نے اس کے رزق، اس کی نشوونما اور حفاظت کے لیے کیا کچھ سامان فراہم کر رکھا ہے۔ مثلاً انسان کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا ہے، اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کے اندر کتنی مشینیں اسے ہضم کرنے، جزو بدن بنانے اور اس کے فضلے کو خارج کرنے کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ مصروف عمل ہو جاتی ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی جا رہی ہے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں انسان کے سامنے بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ تو ہوئیں دنیوی اور مادی نعمتیں، دینی اور روحانی نعمتیں جو ظاہر اور پوشیدہ ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں اور ان سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ اسلام، قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت وغیرہ۔ رازی نے {” ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً “} کی ایک سادہ سی پُر لطف توجیہ کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”ظاہری نعمتوں سے مراد اعضائے انسانی کا سلامت ہونا ہے اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ قوتیں ہیں جو ان اعضا میں ودیعت کی گئی ہیں۔ دیکھیے آنکھ، کان، ناک اور زبان سب چربی، گوشت، ہڈی اور پٹھوں سے بنے ہیں، جو صاف نظر آتے ہیں، مگر ان میں دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور بولنے کی قوتیں باطنی نعمتیں ہیں۔ بعض اوقات باطنی نعمت مثلاً بینائی، شنوائی ختم ہو جاتی ہے، جب کہ ظاہری عضو، مثلاً آنکھ یا کان سلامت رہتا ہے۔ یہی حال ہر عضو کا ہے۔“
➌ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ …:} یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو خلق، تسخیر اور دوسری بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں کے دلائل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو چکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات میں جھگڑتے اور بحثیں کرتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ موجود بھی ہے یا نہیں؟ اور ہے تو ایک ہے یا اس کے ساتھ دوسرے بھی خدائی میں شریک ہیں؟ اور اس کی صفات کیا ہیں؟
➍ {بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ:} علم حاصل کرنے کے تین مراتب ہیں، پہلا اپنی جدوجہد اور غوروفکر سے معلوم کرنا، دوسرا کسی علم والے سے رہنمائی حاصل کر لینا اور تیسرا کسی درست کتاب کے مطالعہ سے علم حاصل کر لینا۔ مشرکین کا حال یہ ہے کہ نہ ان کے پاس خود کوئی علم یا سمجھ بوجھ ہے جس کی بنا پر وہ حقیقت کو سمجھ سکیں، نہ انھیں کسی سچے راہ نما کی راہ نمائی حاصل ہے اور نہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کوئی کتاب موجود ہے جس سے انھوں نے یہ عقیدہ اخذ کیا ہو۔ بلکہ علم کے تینوں ذرائع سے محرومی کے بعد ان کی کل کائنات تقلید آباء ہے اور وہ اندھا دھند ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔
➎ حافظ صاحبان یاد رکھیں کہ{” اَلَمْ تَرَوْا “} قرآن مجید میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں اور دوسرا سورۂ نوح میں: «{ اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا }» [نوح: ۱۵] ان کے علاوہ ہر جگہ واحد کے صیغے کے ساتھ {” اَلَمْ تَرَ“} ہی آیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تو کار جہاں را نکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی؟
یعنی اس دنیا میں جو تیرے کرنے کے کام تھے کیا تو انھیں بخوبی سرانجام دے چکا ہے کہ اب تجھے آسمان پر اڑنے کی فکر پڑ گئی ہے۔
[28] یعنی اللہ کی ان گنت نعمتوں کے باوجود کچھ لوگ ایسے نمک حرام ہیں کہ اللہ کے بارے میں بحث کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی ذات موجود بھی ہے یا نہیں یا اس کی صفات اور قدرتوں میں جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔ [اس آيت كي تشريح كے لئے ديكهئے سورة حج كي آيت نمبر 8 كا حاشيه نمبر 8]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يمتنُّ تعالى على عباده بنعمِهِ، ويدعوهم إلى شكرها ورؤيتها وعدم الغفلة عنها، فقال: {ألم تروا}؛ أي: تشاهدوا وتُبصروا بأبصاركم وقلوبكم، {أنَّ الله سخَّر لكم ما في السمواتِ}: من الشمس والقمر والنُّجوم كلِّها مسخرات لنفع العباد، {وما في الأرض}: من الحيوانات والأشجار والزُّروع والأنهار والمعادن ونحوها؛ كما قال تعالى: {هو الذي خَلَقَ لكم ما في الأرض جميعاً}، {وأسبغَ عليكم}؛ أي: عمَّكم وغمركم نعمَه الظاهرةَ والباطنةَ؛ التي نعلم بها والتي تخفى علينا؛ نعم الدنيا ونعم الدين، حصول المنافع ودفع المضار؛ فوظيفتُكم أن تقوموا بشكرِ هذه النعم بمحبَّة المنعم والخضوع له وصرفها في الاستعانة على طاعتِهِ وأنْ لا يُستعان بشيء منها على معصيته. {و} لكن مع توالي هذه النعم {مِنَ الناس مَن}: لم يَشْكُرْها، بل كَفَرها، وكفر بمنْ أنعم بها، وجحدَ الحقَّ الذي أنزل به كتبه، وأرسل به رسله، فجعل {يجادِلُ في الله}؛ أي: يجادل عن الباطل ليدحضَ به الحقَّ، ويدفع به ما جاء به الرسول من الأمر بعبادةِ الله وحده، وهذا المجادلُ على غير بصيرة؛ فليس جدالُه عن علم؛ فيترك وشأنه، ويسمح له في الكلام. {ولا هدىً}: يقتدي به بالمهتدين {ولا كتابٍ منيرٍ}؛ أي: نيِّر مبين للحق؛ فلا معقول ولا منقول ولا اقتداء بالمهتدين، وإنما جداله في الله مبنيٌّ على تقليد آباءٍ غير مهتدين، بل ضالِّين مضلِّين، ولهذا قال: {وإذا قيلَ لهم اتَّبِعوا ما أنزلَ الله}: على أيدي رسله؛ فإنَّه الحقُّ، وبُيِّنَتْ لهم أدلتُه الظاهرة، {قالوا} معارضينَ ذلك: {بل نتَّبِعُ ما وَجَدْنا عليه آباءنا}: فلا نترك ما وجدنا عليه آباءنا لقول أحدٍ كائناً مَن كان. قال تعالى في الردِّ عليهم وعلى آبائهم: {أوَلَوْ كان الشيطانُ يدعوهم إلى عذابِ السعير}؛ أي: فاستجاب له آباؤهم، ومشوا خلفه، وصاروا من تلاميذ الشيطان، واستولت عليهم الحيرة؛ فهل هذا موجب لاتِّباعهم لهم ومشيهم على طريقتهم؟! أم ذلك يرهِبُهم من سلوك سبيلهم، وينادي على ضلالهم وضلال من تبعهم؟! وليس دعوة الشيطان لآبائهم ولهم محبة لهم ومودة، وإنَّما ذلك عداوةٌ لهم ومكرٌ لهم، وبالحقيقة أتباعه من أعدائِهِ الذين تمكَّن منهم، وظَفِرَ بهم، وقرَّتْ عينُه باستحقاقهم عذابَ السعير بقَبول دعوته.