تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔
اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر ‘۔
شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هذا}؛ أي: خَلْقُ العالم العلويِّ والسفليِّ من جماد وحيوانٍ وسوق أرزاق الخلق إليهم، {خَلْقُ الله}: وحدَه لا شريكَ له، كلٌّ مقرٌّ بذلك، حتى أنتم يا معشر المشركين، {فأروني ماذا خَلَقَ الذين من دونِهِ}؛ أي: الذين جَعَلْتُموهم له شركاءَ تدعونهم وتعبدونهم، يلزم على هذا أن يكون لهم خَلْقٌ كخلقِهِ ورزقٌ كرزقِهِ؛ فإنْ كان لهم شيء من ذلك؛ فأرونيه؛ ليصحَّ ما ادَّعيتم فيهم من استحقاق العبادة. ومن المعلوم أنَّهم لا يقدرونَ أن يُروه شيئاً من الخلق لها؛ لأنَّ جميع المذكورات قد أقرُّوا أنَّها خلق الله وحده، ولا ثَمَّ شيءٌ يعلم غيرها، فثبت عجزُهم عن إثبات شيء لها تستحقُّ به أن تُعبد، ولكن عبادتُهم إيَّاها عن غير علم وبصيرةٍ، بل عن جهل وضلال، ولهذا قال: {بل الظالمون في ضلال مبينٍ}؛ أي: جليٍّ واضح؛ حيث عَبَدوا من لا يملكُ نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، وتركوا الإخلاص للخالقِ الرازق المالك لكلِّ الأمور.