تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اکثر لوگ دنیا کی زندگی کے ظاہر کے کچھ حصے کو جانتے ہیں، جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کفار حیران کن ایجادات کر چکے ہیں، مثلاً بری، بحری اور فضائی سواریاں، تیل، گیس، ہوا اور پانی سے چلنے والی بے شمار قسم کی مشینیں، بجلی اور ایٹم وغیرہ، تو یہ سب کچھ تھوڑا سا کیسے ہوا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی دنیوی ترقی جس طرح آج کے مقابلے میں بالکل معمولی ہے، اسی طرح ہر آنے والے دن کے مقابلے میں موجودہ ترقی بالکل معمولی ہے، مگر کافر صرف اسی ترقی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، آخرت کے امور کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
➌ کفار کے دنیا کے ظاہر کا کچھ علم رکھنے اور آخرت سے یکسر غافل ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے حساب اور علم ہندسہ میں اتنا کمال حاصل کیا کہ انھوں نے کیلکولیٹر اور کمپیوٹر ایجاد کر لیے، جن کے ذریعے سے وہ بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی رقموں کا بالکل صحیح حساب لگا لیتے ہیں، مگر آخرت کے معاملات سے اس قدر بے خبر ہیں کہ ان میں سے بعض پیدا کرنے والے ہی کے منکر ہیں۔ جب کہ جاہل سے جاہل شخص بھی جانتا ہے کہ کوئی چیز بنانے والے کے بغیر نہیں بنتی۔ پھر بعض اعلیٰ درجے کی مخلوق ہو کر پتھروں کو پوج رہے ہیں اور بعض ایک رب ماننے کے بجائے تین رب مانتے ہیں، مسیح خدا، مریم خدا اور روح القدس خدا، جو ایک جمع ایک، جمع ایک کے نتیجے میں تین خدا بنتے ہیں، مگر ان کا اصرار ہے کہ یہاں ایک جمع ایک، جمع ایک تین نہیں بنتے بلکہ ایک خدا بنتا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہو سکتی ہے، کبھی ایک، ایک اور ایک بھی ایک ہو سکتے ہیں؟ پھر ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہم توحید فی التثّلیث کو اس لیے مانتے ہیں کہ یہ عقل سے اونچی بات ہے، حالانکہ یہ بھی ان کی جہالت ہے۔ کوئی شخص دو جمع دو کا نتیجہ پانچ نکالے تو یہ عقل سے اونچی بات نہیں ہو گی، بلکہ صریح عقل کے خلاف ہو گی۔ یہی حال تین خداؤں کے ایک خدا ہونے کا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهؤلاء الذين لا يعلمون؛ أي: لا يعلمون بواطن الأشياء وعواقِبَها، وإنَّما {يعلمونَ ظاهراً من الحياة الدُّنيا}: فينظرون إلى الأسباب، ويجزمون بوقوع الأمر الذي في رأيهم انعقدتْ أسباب وجودِهِ، ويتيقَّنون عدم الأمر الذي لم يشاهِدوا له من الأسباب المقتضية لوجودِهِ شيئاً؛ فهم واقفون مع الأسباب، غيرُ ناظرين إلى مسبِّبها المتصرف فيها. {وهم عن الآخرةِ هم غافلونَ}: قد توجَّهت قلوبُهم وأهواؤهم وإراداتهم إلى الدنيا وشهواتِها وحطامِها؛ فعملتْ لها وسعتْ وأقبلتْ بها وأدبرتْ، وغفلت عن الآخرة؛ فلا الجنة تشتاقُ إليها، ولا النار تخافها وتخشاها، ولا المقام بين يدي الله ولقائه يروِّعُها ويزعِجُها، وهذا علامة الشقاء، وعنوانه الغفلة عن الآخرة.
ومن العجبِ أنَّ هذا القسم من الناس قد بلغتْ بكثيرٍ منهم الفطنةُ والذكاءُ في ظاهر الدُّنيا إلى أمرٍ يحيِّر العقول ويدهش الألباب، وأظهروا من العجائِب الذَّرِّيَّةِ والكهربائيةِ والمراكب البريَّة والبحريَّة والهوائيَّة ما فاقوا به، وبرَّزوا وأعجبوا بعقولهم، ورأوا غيرهم عاجزاً عما أقدرهم اللهُ عليه، فنظروا إليهم بعين الاحتقار والازدراء، وهم مع ذلك أبلد الناس في أمرِ دينهم، وأشدُّهم غفلةً عن آخرتهم، وأقلُّهم معرفة بالعواقب. قد رآهم أهل البصائرِ النافذةِ في جهلهم يتخبَّطون، وفي ضلالهم يَعْمَهون، وفي باطِلِهم يتردَّدون، نسوا الله فأنساهم أنفسهم، أولئك هم الفاسقون، ثم نظروا إلى ما أعطاهم الله وأقدرهم عليه من الأفكار الدقيقة في الدنيا وظاهرها، وحرموا من العقل العالي، فعرفوا أنَّ الأمر لله والحكم له في عبادِهِ، إنْ هو إلا توفيقُه أو خذلانُه، فخافوا ربهم وسألوه أن يتمَّ لهم ما وهبهم من نور العقول والإيمان حتى يصلوا إليه ويحلُّوا بساحته. وهذه الأمور لو قارنها الإيمان وبُنِيَتْ عليه؛ لأثمرت الرقيَّ العالي والحياة الطيبة، ولكنها لما بُني كثيرٌ منها على الإلحاد؛ لم تثمر إلا هبوط الأخلاق وأسباب الفناء والتدمير.