(آیت 6) ➊ { وَعْدَاللّٰهِلَايُخْلِفُاللّٰهُوَعْدَهٗ:} یعنی روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، جس کی سنت یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ ➋ { وَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَايَعْلَمُوْنَ:} لیکن اکثر لوگ، جن میں کفارِ قریش بھی شامل ہیں، یہ بات نہیں جانتے، بلکہ جب اللہ تعالیٰ کوئی ایسی بات کرتا ہے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے ممکن نہیں ہوتی تو وہ اللہ کے وعدے کو جھوٹا کہنے لگتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ ظاہری اسباب کے علاوہ بے شمار باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں اور نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ تمام ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کام کا ارادہ کر لے، چاہے تو اس کے اسباب پیدا کردے اور چاہے تو اسباب کے بغیر ہی اسے پورا کر دے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6-1یعنی اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو جو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب رومی، فارس پر دوبارہ غالب آجائیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو مدت مقررہ کے اندر یقینا پورا ہو کر رہے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ مگر اکثر لوگ (یہ بات) نہیں جانتے [2]۔
[2] یعنی اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے اور نظر آنے والی سب رکاوٹیں خود بخود مٹتی چلی جاتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَعْدَاللّٰهِ١ؕلَایُخْلِفُاللّٰهُوَعْدَهٗ﴾”یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔“ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔
اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَایَعْلَمُوْنَ ﴾”لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وعدَ اللهِ لا يُخْلِفُ الله وعدَه}: فتيقَّنُوا ذلك، واجْزِمُوا به، واعْلَمُوا أنَّه لا بدَّ من وقوعه. فلمَّا نزلت هذه الآيات التي فيها هذا الوعدُ؛ صدَّق بها المسلمون، وكفر بها المشركون، حتى تراهن بعضُ المسلمين وبعضُ المشركين على مدَّة سنين عيَّنوها، فلما جاء الأجل الذي ضربه الله. انتصر الروم على الفرس، وأجْلَوْهم من بلادهم التي أخذوها منهم، وتحقَّق وعد الله. وهذا من الأمور الغيبيَّة التي أخبر بها الله قبل وقوعها ووجدت في زمان مَنْ أخبرهم الله بها من المسلمين والمشركين. {ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمونَ}: أنَّ ما وَعَدَ اللهُ به حقٌّ؛ فلذلك يوجد فريقٌ منهم يكذِّبون بوعده، ويكذِّبون آياته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔